پیر , 17 دسمبر 2018

دوست اور دشمن

ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلے الفاظ میں ایران کو اور بند الفاظ میں سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیاں میرے لیے تو کسی اچنبھے کا باعث نہیں ہیں۔ ویسے بھی فرمان ہے جس پر احسان کرو اس کے شَر سے بچو۔ سعودی عرب نے خطے میں اپنے تسلط کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایسے ملک پر دوست ہونے کا گمان کرتے ہوئے اپنے شہروں میں جگہ دی جو ان احسانات کا بدلہ شَر کی صورت میں بیانات کے ذریعے دے رہا ہے۔ حالانکہ سعودیہ چاہتا تو اس کے لیے خانہ کعبہ اور اس سے متمسک مسلم ممالک ہی کافی تھے۔ لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ عرب اسپرنگ میں اسپرنگ ہی نہ رہتا اگر امریکا اور سعودی عرب میں خطے میں حاکمیت کا خبط نہ ہوتا۔ کچھ بھلا ہو ایران کا جو امریکی اور اسرائیلی سوچ کو بہت پہلے سے بھانپ چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف ہو یا یورپی ممالک ایران کے موقف کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

دوسری طرف، سعودی عرب کی جانب سے بیش قیمت ہیرے جواہرات سے لیس تلواریں، زیورات یہاں تک کہ 100 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت اور معیشت و دفاع کے شعبے میں سیکڑوں ارب ڈالر کی فراخ دل سعودی انویسٹمنٹ حاصل کرنے کے باوجود ٹرمپ کا ناشکراپَن بھی حیران کن نہیں ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں گزشتہ سال کی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی سرزمین پر قدم رکھا تو سعودی روایات کے مطابق ان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا، خوب تواضع کی گئی اور ٹرمپ کے شاہانہ لائف اسٹائل کے شایان شان مہمان نوازی بھی کی گئی۔ لیکن اسرائیل کے علاوہ شاید ہی دنیا میں کوئی ملک ایسا ہو جس نے امریکا سے دوستی کا ہاتھ ملانے کی قیمت ادا نہ کی ہو اور وہ بھی بھاری سود کے ساتھ!

لیکن سوال یہ ہے کیا موقع کی مناسبت ایسی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے قریبی ترین اتحادی سعودی عرب کے بارے میں یہ بیان دے رہے ہیں کہ ‘کیونکہ مجھے بادشاہ بہت پسند ہیں اس لیے اپنی عوام کو بتانا پسند کرتا ہوں کہ میں نے سعودی حکمران شاہ سلمان کو یہ تنبیہ کی تھی کہ وہ امریکی فوج کی حمایت کے بغیر دو ہفتے بھی اقتدار میں نہیں ٹِک سکتے۔ ہمیں ہماری سروسز کا معاوضہ دیا جائے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ نے سعودی عرب کے بارے میں اتنے جارحانہ انداز سے بیان دیا ہو۔ مئی 2017 کو ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا ‘سچ بات یہ ہے کہ سعودی عرب امریکا سے اچھے طریقے سے پیش نہیں آ رہا حالانکہ ہم سعودی سلطنت کے دفاع کے لیے بھاری رقم کا نقصان برداشت کر رہے ہیں۔’ جواب میں سعودی عرب نے 100 ارب ڈالر کے امریکی اسلحے کو خریدنے میں ہی اپنی عافیت جانی اور کچھ دیر کے لیے امریکی مخالفت کو روکنے میں کامیاب ہوا۔ ایسے میں کھوج لگانے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ اس وقت سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار میں موجود نہیں ہے لیکن میڈیا 4 ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کی موجودگی سعودی عرب میں کنفرم کر رہا ہے جن میں سے کچھ سعودی فورسز کی تربیت اور معاونت کے لیے موجود ہیں اور کچھ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ‘تکنیکی مدد’ بھی کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے اندرونی حالات سے واقف ایک صحافی نے بتایا کہ ٹرمپ نے وہ بات کہی جو ساری دنیا جانتی ہے۔ یہ واقعی سچ ہے کہ شاہی خاندان کا اقتدار بیساکھیوں پر کھڑا ہے۔ وہ صحافی صاحب یہ بھی بتاتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو اس وقت بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس میں کوئی بھی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سعودیوں کو موجودہ صورتحال میں امریکیوں کی بہت ضرورت ہے۔ اس وقت شام اور عراق کی صورتحال کے علاوہ اسے یمن کی جنگ کا سامنا ہے جہاں اس نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے حملہ کیا۔ لیکن اسے اس کی توقع نہیں تھی کہ یہ جنگ اتنی طویل اور دور رست چلے گی۔ خطرہ صرف بیرونی نہیں ہے یا یوں مان لیں کہ بیرونی ہے ہی نہیں۔ ولی عہد محمد بھی سلمان روایات اور شہزادوں کی فہرست کے برعکس اوپر آئے ہیں۔ اور اس کے بعد جس تیزی سے وہ ملک میں ذہنی نہیں سطحی اصلاحات کر رہے ہیں اس سے شاہی خاندان کے لیے سیکورٹی کے مسائل تو ہیں کیونکہ سعودی عرب ایک قدامت پسند معاشرے کی تاریخ رکھتا ہے۔ اور ان تبدیلیوں کو یہ معاشرہ اتنی تیزی سے قبول بھی نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان نے ان قدامت پسندوں کو ایک نئی زندگی بخش دی ہے۔ اس خطے پر نظر رکھنے والے اکثر ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے بیان کے بارے میں ابھی تک زیادہ وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن شاید ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں سعودی عرب کی حمایت کا معاوضہ مانگ رہے ہیں۔ سعودی عرب اس وقت امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے لیکن اب اس کے ساتھ ساتھ امریکا کے روایتی حریف روس سے بھی اسلحے کی خریداری کی بات چل رہی ہے اور کچھ
معاہدے بھی ہو چکے ہیں۔ تو شاید صدر ٹرمپ کا سعودی شاہی خاندان پر دباؤ ڈالنے کا مقصد خطے میں درکار حمایت اور مزید اسلحے کی خریداری سے مشروط ہو سکتا ہے۔ حد تو یہ ہے تین دن ہو گئے سعودی عرب کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ان احسانات کو جتلانے کا ابھی تک کوئی سرکاری موقف بھی سامنے نہیں آیا جو بذات خود ایک پراسراریت رکھتا ہے۔ پاکستان کے سابق سفیر شاہد امین کے مطابق امریکی فوج کے بغیر شاہی خاندان اقتدار میں نہیں رہ سکتا جو کہ بالکل غلط ہے اور ایک قسم کی دھمکی ہے۔

اگر سعودی عرب میں کسی قسم کا کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو سعودی عرب امریکا کے بجائے پاکستان سے رجوع کرے گا۔ اگر شاہد امین کی بات مان لی جائے تو دوسری طرف ایران کو بھی امریکا کی جانب سے اسی قسم کی دھمکیوں کا سامنا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی ممالک سے کہ رہے ہیں کہ امریکی پابندیوں کے بعد ایران چند ماہ میں تباہ ہو جائے گا۔ اور اس کا جواب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ میں دیا کہ ان کا ملک ایران امریکا کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندیوں کو شکست دے کر اس کے منہ پر طمانچہ رسید کرے گا۔ خطے کو پرامن رکھنے کے لیے اور امریکی احسانات سے جان چھڑانے کے لیے کسی تیسرے اسلامی ملک کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان دوستی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے پڑے گا کیونکہ کچھ بھی ہو یہود و نصاریٰ ہمارے دوست نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی دیکھیں

ہندوستان کی سیاست پر ہندو دھرم کا مکمل غلبہ

(آصف جیلانی)  بلا شبہ اس وقت ہندوستان ، کٹر ہندوتا کے گھور اندھیرے میں بری ...