ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

آئی ایم ایف سے امداد: ایسا بار بار کیوں ہوتا ہے؟

(ذیشان علی)
پاکستان حکومت نے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے باقاعدہ طور پر قرضے کی صورت میں مدد طلب کر لی ہے۔ یہ بات جمعرات کو عالمی مالیاتی ادارے کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ نے ایک بیان میں بتائی۔

کرسٹین لیگارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ اور اقتصادی ٹیم کے دیگر ارکان نے ان سے بالی میں ملاقات کی۔ بیان کے مطابق: ’پاکستانی وفد نے ملاقات کے دوران پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سے مالی مدد کی درخواست کی ہے۔

پاکستان میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ کیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف کی ایک ٹیم آئندہ ہفتوں میں اسلام آباد کا دورہ کرے گی جہاں آئی ایم ایف کے ممکنہ مالی پروگرام پر بات شروع کی جائے گی۔‘ پاکستان نے جن مالیاتی مشکلات سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا ہے وہ اصل میں ہیں کیا؟

پاکستان کو درپیش مالیاتی مشکلات
ماہرین کے خیال میں پاکستان کو اس وقت کئی طرح کی مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران بلند و بالا دعووں کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس جانا لازم تھا۔ تاہم اقتصادی امور کے ماہر اور صحافی خرم حسین کے مطابق دو بنیادی مشکلات ایسی ہیں جنھوں نے پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کیا۔

ان کے مطابق ان میں سے ایک وجہ تو مالی خسارہ ہے جس سے حکومت کی آمدن اور اس کے اخراجات میں توازن قائم نہیں رہتا۔ ان کے بقول اس کے لیے حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے ہوتے ہیں یا ٹیکسز لگا کر اپنی آمدنی کو بڑھانا ہوتا اور یا پھر ان کا کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہوتا ہے۔

’اگر آپ یہ کام نہ کریں تو آگے چل کر حکومت کے قرضے بڑھ جائیں گے اور نوٹ چھاپنے پر مجبوری ہو جائیں گے، جس سے مہنگائی ہو گی۔ پچھلے کچھ سالوں سے حکومت یہ کرتی آ رہی ہے اور اب مالی خسارہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ قابو نہیں کیا جا رہا۔‘

خرم حسین نے بتایا کہ دوسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب درآمدات اور برآمدات کے درمیان عدم توازن بڑھ جائے تو زرمبادلہ گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر آپ کے ذرمبادلہ کی صورتحال شدید صورتحال تک پہنچنا شروع ہو جائے تو پھر آپ کو فوری طور پر باہر سے زرمبادلہ کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔

’اگر آپ کے پاس چار ماہ کا ’امپورٹ کوور‘ ہے تو کہا جاتا ہے کہ آپ بہتر پوزیشن میں ہیں اور یہی امپورٹ کوور ایک ماہ تک آ جائے تو پھر آپ بحران کی صورتحال میں آ جاتے ہیں۔‘حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’پاکستان کے پاس اس وقت صرف ایک عشاریہ چھ ماہ کا امپورٹ کوور موجود ہے۔

غلطیاں کہاں ہوئیں؟
ماہر اقتصادیات صفیہ آفتاب کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کے لیے موجودہ حکومت کو الزام نہیں دیا جا سکتا لیکن اس مالی بحران کو بری طرح سے سنبھالنے کا الزام موجودہ حکومت کو دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی ہے اور اس کی وجہ تیل کی قیمتیں ہیں۔ ان کے مطابق تیل کی قیمتیں گذشتہ پانچ سالوں میں کم رہنے کے بعد اب اپنی اصل حالت پر آئیں ہیں۔

صفیہ آفتاب کا کہنا ہے کہ گذشتہ حکومت اس طرح سے خوش قسمت رہی کہ ان کے ابتدائی ساڑھے تین سالوں میں تیل کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت کم تھیں۔ ان کے مطابق گذشتہ حکومت کو تیل کی کم قیمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ دوسری جانب خرم حسین کا کہنا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں سے ہر حکومت یہی کہتی رہی ہے کہ انھیں ’بینکرپٹ اکانومی‘ ملی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسا بار بار کیوں ہو رہا ہے؟ ان کے بقول موجودہ حکومت کا اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ماضی میں کرپٹ لوگ خزانے کو لوٹ کر پیسہ باہر لے گئے ہیں بالکل غلط ہے۔ انھوں نے کہا ’اگر آپ آج بھی یہی سوچ رکھتے ہیں تو آپ ان مشکلات سے نہیں نمٹ سکتے، آپ کی مشکلات اس سے کہیں زیادہ بڑی ہیں۔‘

’پاکستان اور انڈیا کا موازنہ کیا جائے تو انڈیا نے اپنی صنعتوں کو بڑھایا ہے، جبکہ پاکستان پہلے بھی کاٹن کی صنعت رکھتا تھا اور بھی وہی صنعت رکھتا ہے۔ تو اسی کی دہائی سے اب تک ہماری صنعتوں میں کچھ تبدیل نہیں ہوا۔‘

’جو ملک کاٹن برآمد کر رہے تھے وہ اب سافٹ ویئر برآمد کر رہے ہیں اور پاکستان وہی کاٹن۔ جب آپ اسی طرح سے مواقع ضائع کرتے رہیں گے تو آپ اپنے مالی حالات ٹھیک نہیں کر سکیں گے۔‘

خرم حسین نے مزید کہا کہ ’حقیقت میں الزامات لگانے کا جو سلسلہ ہے وہ توڑا نہیں جا رہا ہے، اب یہ حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ اس ’سائیکل‘ کو توڑیں گے اور وہ سب کچھ کرے گی جو ستر سالوں میں نہیں ہوا۔‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب آئی ایم ایف ان کے سامنے شرائط رکھے گا تو کم از کم تب انھیں سمجھ آئے گی۔‘’یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی سرطان کے مریض کو کل اسے کیمو تھراپی شروع کرنی ہے اور اسے احساس ہی نہیں۔‘ بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ...