پیر , 17 دسمبر 2018

ڈاکٹر آر یو اسد عمر

(جاوید چوہدری)
عمران احمد چنیوٹ کا رہائشی ہے‘ اس کے بقول یہ دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان‘ طبی دنیا کا شاندار ترین دماغ اور کائنات کا سب سے بڑا موجد ہے‘ یہ ڈاکٹر آر یو عمران احمد کہلاتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے یہ دس نوبل انعام اور 40 شاہ فیصل ایوارڈز حاصل کر چکا ہے‘ یہ 100 سائنسی کارنامے اور سائنس کو 361 نئے قوانین دے چکا ہے۔

یہ قوانین نیوٹن اور آئن سٹائن کے قوانین سے بڑے ہیں اور یہ دنیا میں میڈیکل جوڈیشری کا موجد ہے‘ ڈاکٹر عمران احمد کا دعویٰ ہے دنیا جہاں کے ادارے اس کی ذہانت اور سائنسی مہارت کا ٹیسٹ لے چکے ہیں اور یہ قدرت کے اس شاہکار پر حیران ہیں‘ یہ پیچیدہ اور ناقابل علاج امراض کا علاج بھی جانتا ہے۔

اس نے چنیوٹ میں باقاعدہ کلینک کھول رکھا تھا‘ یہ سوشل میڈیا پر کیمپین چلاتا تھا‘ کینسر اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں سے ساڑھے پانچ ہزار روپے وصول کرتا تھا‘ادویات دیتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا مرض دس دن میں ختم ہو جائے گا‘ یہ خود ساختہ ایم بی بی ایس بھی تھا‘ یہ دنیا کے کسی میڈیکل کالج کا طالب علم نہیں رہا‘ یہ فزکس‘ کیمسٹری اور بائیولوجی کی الف ب بھی نہیں جانتا لیکن یہ اس کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا ڈاکٹر بھی تھا‘ یہ ان امراض کا علاج کر رہا تھا جن کی ٹریٹمنٹ دنیا کی کوئی لیبارٹری ایجاد نہیں کر سکی۔

یہ مزید دس نوبل انعام اور 50 شاہ فیصل ایوارڈز بھی حاصل کر سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے 7 اکتوبرکو چنیوٹ پولیس نے اس ’’عظیم دماغ‘‘ کو گرفتار کر لیا اور اسے جھوٹ اور دھوکا دہی میں جیل بھجوا دیا‘ یہ جیل میں بھی اپنے دعوے پر قائم ہے‘ اس کا کہنا ہے آپ مجھے چھ مہینے مہلت دیں‘ میں ثابت کروں گا میں آئن سٹائن سے بڑا سائنس دان ہوں۔

میں دل سے سمجھتا ہوں ہمیں ڈاکٹر آریو عمران احمد کو موقع دینا چاہیے‘ ہم اگر اسد عمر کو موقع دے رہے ہیں تو ڈاکٹر آریو میں کیا خرابی ہے؟ ڈاکٹر آر یو عمران خود کو دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان سمجھتا ہے اور اسد عمر خود کو دنیا کا سب سے بڑا معاشی دماغ‘ دونوں میں کیا فرق ہے؟ ڈاکٹر آر یو کا دعویٰ ہے آپ مجھے ساڑھے پانچ ہزار روپے دیں‘ مریض میرے حوالے کریں اور پھر میرا کمال دیکھیں ‘ اسد عمر بھی یہی دعویٰ کرتے تھے‘ آپ ہمیں اقتدار دیں اور پھر پٹرول اور گیس سستی ہوتے ‘ اوورسیز پاکستانیوں کو ڈالروں کی بارش کرتے۔

پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنتے‘ ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھتے‘ مہنگائی اور بے روزگاری کو کم ہوتے اور روپے کی قدر میں اضافہ ہوتے دیکھیں‘ آپ دونوں ڈاکٹروں کے دعوے آمنے سامنے رکھیں‘ آپ کودونوں میں کوئی فرق نہیں ملے گا لیکن آپ ریاست کی منافقت ملاحظہ کیجیے پولیس نے ڈاکٹر آر یو کو گرفتار کر لیا‘ یہ جیل میں سڑ رہا ہے جب کہ پولیس اسد عمر کو روزانہ سلیوٹ کرتی ہے۔

میں ریاست کے اس دہرے معیار پر حیران ہوں‘ اگر ڈاکٹر آر یو عمران اپنے دعوے ثابت نہیں کر سکا‘ یہ اپنے دس نوبل انعام‘ 40 شاہ فیصل ایوارڈز‘ 100 سائنسی کارنامے اور 360 سائنسی قوانین کے ثبوت نہیں دے سکا تو ڈاکٹر آر یو اسد عمر نے پچھلے 55 دنوں میں کیا کمال کیا؟ حکومت کے 55 دنوں میں اسٹاک ایکسچینج میں لوگوں کے 794 ارب روپے ڈوب گئے‘ مارکیٹ صرف اکتوبر کے مہینے میں 500 ارب روپے نیچے آئی۔

اگست میں 100 انڈیکس43 ہزار78 پوائنٹس پر تھا‘ یہ آج 38792 پر آ چکا ہے‘ گردشی قرضے 596 ارب روپے تھے‘ یہ 1200 ارب روپے ہو چکے ہیں‘ تجارتی خسارے میں بھی 2 ارب ڈالر اضافہ ہو چکا ہے‘ گیس کے نرخ 147 فیصد بڑھ چکے ہیں‘ روٹی دو روپے‘ نان تین روپے‘ چینی چار روپے‘ گھی10 روپے‘ آٹا 5 روپے اور دالیں 14 روپے مہنگی ہو چکی ہیں‘ درسی کتب کی قیمتیں بھی 10 فیصد بڑھ گئیں‘ اگست میں ہمارے فارن ایکسچینج ریزروز 16 ارب ڈالر تھے یہ اب 8 ارب ڈالر ہو چکے ہیں اور ڈالر نے 124 سے 138 روپے پرچھلانگ لگا دی۔

لہٰذا پچھلے 55 دنوں میں ملک کو مجموعی طور پر 2800 ارب روپے کا نقصان ہوا‘ ہم اگر اس خسارے کو 55 دنوں میں تقسیم کریں تو یہ 51 ارب روپے روزانہ بنتا ہے لیکن آپ ہماری منافقت دیکھئے ہم نے 5500 روپے کا نقصان پہنچانے والے ڈاکٹر آر یو عمران کو گرفتار کر لیا لیکن ملک کو روزانہ 51 ارب روپے کا ٹیکہ لگانے والے ڈاکٹر کے لیے قومی اسمبلی میں ڈیسک بجائے جاتے ہیں‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں!

مجھے یہ تضاد پورے معاشرے میں دکھائی دیتا ہے‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے کیا ہم میں ہر شخص کے اندر ایک آر یو اور ایک اسد عمر نہیں بیٹھا ہوا‘ کیا ہم خود کو دنیا کی ذہین ترین‘ عقل مند ترین اور شاندار ترین قوم نہیں سمجھتے‘ ہمیں کیل اور پیچ لگانا نہیں آتا‘ آپ کو پورے ملک میں اچھا ڈرائیور‘ اچھا کک اور اچھا الیکٹریشن نہیں ملتا‘ ہماری مسجدوں اور یونیورسٹیوں کے باتھ روم بھی گندے ہوتے ہیں‘ ہم آج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے ٹوائلٹس میں صابن نہیں رکھ سکے اور ہم آج تک قوم کو ہیلمٹ کی عادت نہیں ڈال سکے لیکن ہم اس کے باوجود دنیا کی شاندار اور ذہین ترین قوم ہیں۔

ہم اپنے دعوے دیکھیں تو محسوس ہو گا دنیا ہمارے سینگوں پر کھڑی ہے اور ہم نے جس دن اپنے سینگ نکال لیے یہ دنیا ختم ہو جائے گی لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو ہم میں سے اکثر لوگ ڈاکٹر آریو اسد عمر نکلتے ہیں‘ ہم سب فطرتاً ڈاکٹر آر یو عمران احمد ہیں‘ ہم خود کو دس دس نوبل انعام اور چالیس چالیس شاہ فیصل ایوارڈ دیتے رہتے ہیں ‘ہم خود کو دنیا کا سب سے بڑا موجد اور سب سے بڑا سائنس دان بھی سمجھتے ہیں لیکن عملاً ہم پاگلوں سے بھی کوئی اونچی‘ کوئی بلند قوم ہیں۔

میں نواز شریف کا ناقد ہوں‘ میں دل سے سمجھتا ہوں نواز شریف ملک کے موجودہ حالات کے ذمے دار ہیں‘ یہ ان کی ضد اور یہ ان کی جلد بازی تھی جس نے ان کی پارٹی‘ ان کی حکومت اور ملک تینوں کو نقصان پہنچایا‘ یہ اگر 2014ء کی ضد کو 2019ء تک مؤخر کر دیتے تو آج ملک مختلف ہوتا لیکن اس تمام تر تنقید کے باوجود ہمیں یہ ماننا ہو گا نواز شریف بالخصوص شہباز شریف نے ملک کو سنبھالے رکھا۔

پنجاب آج نہ صرف تینوں صوبوں سے بہتر ہے بلکہ شہباز شریف نے ملک میں گورننس کی ایک نئی مثال بھی قائم کی چنانچہ ہم نے اسے گرفتار کر کے زیادتی کی‘ آپ دیکھ لیجیے گا نیب آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکے گا‘ یہ کیس بھی بالآخر ایون فیلڈ ثابت ہو گا‘ ہمیں آج یہ بھی ماننا ہو گا۔

سابق حکومتیں کرپٹ ہوں گی‘ یہ لوگ ظالم اور بے وقوف بھی ہوں گے لیکن یہ لوگ جیسے بھی تھے یہ رو پیٹ کر ملک چلا رہے تھے‘ یہ کہیں نہ کہیں سے مانگ تانگ کر سسٹم کو دھکا لگا لیتے تھے اور ملک میں بجلی‘ گیس اور پٹرول کے نرخ بھی کم تھے اور ڈالر بھی 103 روپے پر تھا مگر ہم نے ان کو نکال کر یہ ملک نیک اور ذہین لوگوں کے حوالے کر دیا۔

آپ سوچئے عوام کو ان نیک لوگوں کا کیا فائدہ ہوا‘ لوگوں کو نئے پاکستان نے کیا دیا؟ یہ پولیس کو غیر سیاسی اور خودمختار بنانا چاہتے تھے لیکن یہ پنجاب میں ایک ایماندار آئی جی برداشت نہیں کر سکے‘حکومت نے ایک ماہ بعد آئی جی محمد طاہر کو تبدیل کر دیا اور ردعمل میں اس ناصر درانی نے بھی استعفیٰ دے دیا جس نے پنجاب میں پولیس ریفارمز کرنی تھیں‘ کیا یہ نیا پاکستان ہے؟

نئے پاکستان کی نئی حکومت کو بیورو کریسی سے کام لینے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں‘ آپ جب فواد حسن فواد اور احد چیمہ جیسے سینئر بیورو کریٹس کو جیلوں میں رکھیں گے اور شہباز شریف کو خوفناک مثال بنائیں گے تو کون سا افسر کام کرے گا۔

کون سا چیف منسٹر صوبے کو تبدیل کرنے کی جرات کرے گا‘ حکومت پاکستانی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دے رہی ہے‘ یہ پاکستانی ماہرین کو بھی واپس بلا رہی ہے لیکن ڈاکٹر سعید اختر اور محمود بھٹی جیسی مثالوں کے بعد کون باہر سے سرمایہ لائے گا اور کون ملک کی خدمت کے لیے یہاں آئے گا‘ یہ تاجروں اور صنعت کاروں کا اعتماد بھی بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن ملک ریاض کی مثال کے بعدان کی بات پر کون یقین کرے گا۔

لوگ ترکی‘ مالٹا‘ ملائیشیا‘ مشرقی یورپ‘ برطانیہ اور کینیڈا میں سرمایہ کاری کیوں نہ کریں‘ وہاں سرمایہ بھی محفوظ رہتا ہے‘ فیملی سمیت شہریت بھی مل جاتی ہے اور تعلیم اور صحت کی سہولتیں بھی مفت ہیں‘ ملک ریاض کی ویلیو اس وقت تین ہزار ارب روپے ہے گویا یہ شخص اکیلا ملک کے کل بجٹ کا 60 فیصد ہے ۔

ہم اگر اس کا بھٹہ بٹھا رہے ہیں تو پھر باہر سے کون آئے گا اور ملک کے اندر سے کون ملک ریاض بننے کی غلطی کرے گا‘ یہ واحد آدمی ہے جو حکومت کو 50 لاکھ سستے گھر بنا کر دے سکتا ہے یا یہ حکومت کو سستے مکان بنانے کا طریقہ سکھا سکتا ہے لیکن وزیراعظم انیل مسرت کو جہازوں میں لے کر پھر رہے ہیں اور ملک ریاض ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر دھکے کھا رہا ہے چنانچہ پھر آپ کچھ بھی کر لیں۔

آپ خواہ مارکیٹنگ کے دنیا کے بہترین لوگ ہائیر کر لیں لیکن آپ میاں شہباز شریف‘ گرفتار سینئر بیورو کریٹس‘ ڈاکٹر سعید اختر‘ محمود بھٹی اور ملک ریاض جیسی مثالوں کی موجودگی میں نیا تو کیا پرانا پاکستان بھی نہیں چلا سکیں گے‘ آپ رہی سہی معیشت کا بھی بیڑہ غرق کر دیں گے‘ آپ رحم کریں‘ یہ ملک ڈاکٹر آر یو اسد عمر جیسے مزید ماہرین افورڈ نہیں کر سکتا‘ آپ سنبھل جائیں ورنہ دنیا اسد عمر کو نوبل انعام یافتہ معیشت دان ڈکلیئر کر کے تاریخ کو ہنسنے پر مجبور کر دے گی۔ بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘

’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘