ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

‘نہ زندہ چھوڑیں، نہ مرنے دیں’ غزہ بارے اسرائیلی پالیسی!

صہیونی ریاست دنیا کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ غزہ کی پٹی کے علاقے پر کسی قسم کی پابندیاں مسلط نہیں کی گئی ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صہیونی ریاست تجارتی گذرگاہوں کے کھلے رکھنے کے ایام کو شمار کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ غزہ میں تجارتی آمد ورفت آزادانہ جاری ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ غزہ کی پٹی کی تجارتی گذرگاہوں پر ہونے والی تجارتی سرگرمیاں عالمی ادارہ برائے تجارت کے تناسب سے 1 فی صد سے بھی کم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صہیونی ریاست سنہ 2006ء میں غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد غزہ کے عوام کے بارے میں ‘نہ زندہ رہنے دو اور نہ مرنے دو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

خطرناک اثرات
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ریاست کی مسلط کردہ ناکہ بندی کو مسلسل 12 سال بیت گئے ہیں۔ اس طویل عرصے میں صہیونی ریاست نے غزہ کا محاصرہ شدید سے شدید تر کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کبھی غزہ کو فراہم کردہ ممنوعہ اشیاء کی فہرست میں اضافہ کیا جاتا ہے اور کبھی سرے سے غزہ کی سرحدی اور تجارتی گذرگاہوں پر آمد و رفت ہی کو بند کر دیا جاتا ہے۔

فلسطین مرکز برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ اگست کے دوران قابض صہیونی ریاست نے غزہ پر پابندیوں میں مزید سختی کر دی۔ سوائے ضروری انسانی سامان جس میں خوراک اور ادویہ شامل ہیں باقی تمام طرح کی اشیاء کی غزہ کو سپلائی بند کر دی گئی۔ انسانی حقوق گروپ کے مطابق صہیونی حکام نے غزہ کو ہر طرح کے سامان تجارت کی درآمد و برآمد اور اشیاء کی مارکیٹنگ پر پابندی لگا دی۔

غزہ کی پٹی پر پابندیوں میں سختی، اکلوتی گذرگاہ ‘کرم ابو سالم’ کی بندش، ایندھن اور دیگر بنیادی ضرورت کے سامان پر پابند نے غزہ میں انسانی، اقتصادی اورسماجی بحران میں مزید اضافہ کیا۔ صہیونی حکام کے اس ظالمانہ فیصلے سے غزہ کے دوملین عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

زندگی کی بقاء کی جنگ
فلسطینی تجزیہ نگار اسامہ نوفل غزہ کی پٹی کی ابتر اقتصادی صورت حال کے حوالے سے کہتے ہیں کہ صہیونی ریاست غزہ کے عوام کو زندگی گذارنے کے ادنیٰ ترین درجے پر رکھنا چاہتی ہے جبکہ فلسطینی عوام زندگی کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ غزہ پر پابندیاں صہییونی ریاست کے اس مجرمانہ اور غیر انسانی طرز عمل کی عکاسی کرتی ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں کو فراہم کردہ ممنوعہ اشیاء کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کی طرف سے غزہ کے عوام کی طرف سے دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ قابض صہیونی ریاست کی طرف سے غزہ کو ادنیٰ درجے کے حقوق فراہم کرنے کی پالیسی عمل پیرا ہے۔ ایک طرف غزہ کی تجارتی گذرگاہئیں کھلی رکھی جاتی ہیں مگر ان گذرگاہوں سے غزہ کو سامان کی ترسیل اور سپلائی پر پابندی عاید کی جاتی ہے۔ یہ صہیونی ریاست کی دوغلی پالیسی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی پالیسی
فلسطینی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی سازشوں میں فلسطینی اتھارٹی بھی پیش پیش ہے۔ سنہ 2015ء میں غزہ کی پٹی کو روزانہ 700 ٹرک سامان ارسال کیا جاتا تھا اور اب یہ تعداد 300 ہو گئی ہے۔

فلسطینی تجزیہ نگار اسامہ نوفل نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے پابندیوں کے نفاذ کے نتیجے میں بیرون ملک سے سامان کی غزہ کو سپلائی میں غیرمعمولی کمی آئی۔ فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست نے بھی غزہ کی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

نوفل کا کہنا ہے کہ غزہ کی برآمدات صرف 4٪ تک محدود ہو گئی ہیں۔ یہ خطرناک اعداد و شمار ہیں جو غزہ کی تجارت کے خطرناک درجے کا اظہار کرتے ہیں۔ سنہ 2015ء میں غزہ کو تجارتی سامان کی ترسیل 15 فی صد تھی اور اب کم ہو کر صرف چار فی صد رہ گئی ہے۔ بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ...