ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

ملائیشیا کی حکومت کا سزائے موت ختم کرنے کا اعلان

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پارلیمنٹ میں قانون کی منظوری تک تمام قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے وزیر قانون داتوک لیو ووئی نے کہا کہ سزائے موت پر پابندی کے لیے قانون اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 15 اکتوبر کو ہونے والے اگلے پارلیمانی اجلاس میں یہ بل پیش کر دیا جائے گا، اس وقت تک تمام قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے، ان کے لیے دیگر مناسب سزائیں متعارف کرائی جائیں گی جن میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو گی۔

ملائیشیا میں قتل، اغوا، ملک سے بغاوت اور منشیات فروشی کی خرید و فروخت کے جرائم میں سزائے موت کا قانون ہے۔ تاہم اب حکومت کسی بھی طرح کے جرم میں سزائے موت ختم کر دے گی اور ان کی جگہ دیگر سزائیں دی جائیں گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایک سال میں ملائیشیا میں 416 غیر ملکیوں سمیت 799 قیدیوں کو منشیات سے متعلق جرائم پر سزائے موت سنائی گئی۔ حال ہی میں ایک آسٹریلوی خاتون ماریا ایکسپوستو کو بھی منشیات کی اسمگلنگ پر سزائے موت سنائی گئی ہے اور ملائیشیا پر ماریا ایکسپوستو کو معاف کرنے اور رہائی کے لیے آسٹریلوی حکومت سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کا دباؤ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ساڑھے تین منٹ میں 300 فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا: ایہود باراک

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے سابق وزیراعظم اور وزیر دفاع ایہود باراک نے فخریہ انداز ...