ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

"انتفاضہ القدس” کے دوران 615 فلسطینی خواتین پابندی سلاسل

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) قابض صہیونی ریاست فلسطینی شہریوں کے خلاف کریک‌ ڈاؤن میں طرح طرح کے حربے اور بہانے استعمال کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق انتفاضہ القدس کے دوران قابض فوج نے 615 فلسطینی خواتین کو حراست میں لے کر زندانوں میں قید کیا۔ اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا اکتوبر 2015ء سے فلسطین میں شروع ہونے عالی تحریک انتفاضہ القدس کے دوران اب تک 615 فلسطینیوں کو حراست میں لے کر جیلوں میں قید کیا۔ ان میں 84 کم عمر لڑکیاں جن کی عمریں 18 سال سے تھیں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان میں 12 سالہ دیما اسماعیل الواوی بھی شامل ہیں۔

ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اور پولیس نے سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کے لیے کئی سیل قائم کر رکھے ہیں جو فلسطینیوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف کوئی بیان پوسٹ کرنے، اسرائیلی مظالم کو اجاگر کرنے والی کوئی تصویر شیئر یا پوسٹ کرنے یا اسرائیل کے خلاف کوئی بیان شائع کرنے کی پاداش میں فلسطینیوں کو دھر لیا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج سماجی کارکنوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں‌ ڈالنے کے نام نہاد الزامات کے تحت مقدمات قائم کرتی اور کارکنوں کو قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں دی جاتی ہیں۔

انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں کے خلاف سوشل میڈیا کی وجہ سے کریک ڈائون انسانی حقوق کی سنگین پامالی اورآزادی اظہار پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قطری نائب وزیراعظم: دہشت گردی کیخلاف پاکستان کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کی تعریف

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے قطر کے نائب وزیراعظم و ...