ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

’احتساب شروع ہو چکا، کام نہ کرنے والے ججز کےخلاف بھی کارروائی ہو گی‘ چیف جسٹس

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی ہو گی۔ سپریم کورٹ میں ہائی کورٹس کی ذیلی عدالتوں کے حوالے سے سپروائزری کردار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

اس دوران چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) اب بہت فعال ہے، احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے اور سب ججز کا احتساب ہو گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگ چیخ چیخ کر مر رہے ہیں، انصاف نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نمبر ون نے 7 ہزار کیسز نمٹائے جبکہ ججز سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ 20 کیس نمٹائے، کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ججز کو گاڑی، بنگلہ، مراعات چاہئیں، لوگ تڑپ رہے ہیں بلک رہے ہیں لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں ہے‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ججز کو چھٹی والے دن کی تنخواہ نہیں ملے گی اور اب کام نہ کرنے والے ججز کے خلاف بھی کارروائی ہو گی‘۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ اپنی سپروائزری ذمہ داریوں میں ناکام نظر آتی ہے، ہائی کورٹس کی نگران کمیٹیاں ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھ رہیں؟

صدر مملکت نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی۔۔۔۔

صدر مملکت نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی۔۔۔۔

Gepostet von Iblagh News am Donnerstag, 11. Oktober 2018

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہم ہائی کورٹ کی نگران کمیٹیوں کے ججز کو چمبر میں بلا کر ان کی کارکردگی پوچھیں؟ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہم ہائی کورٹ کے سپروائزری کردار سے مطمئن نہیں تو آپ کیا کہیں گے، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو متنازع تقریر کے معاملے پر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

وزارت قانون و انصاف کے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل 209 (5) اور سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان کی جانب سے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 209 (6) کے ساتھ آرٹیکل 48 (1) کے تحت کی جانے والی سفارش پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا۔

یاد رہے کہ 21 جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ہمارے چیف جسٹس تک رسائی حاصل کر کے کہا تھا کہ ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک باہر نہیں آنے دینا‘۔

اس کے بعد 22 جولائی کو چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے متنازع بیان کا نوٹس لے لیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

اسحاق ڈار: برطانیہ میں سیاسی پناہ کیلئے درخواست

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست ...