بدھ , 21 نومبر 2018

کیا ایک صحافی کا قتل ہی سعودی جرم ہے؟

(تحریر: سید اسد عباس)
ایک سعودی صحافی اور سابق مشیر کے انقرہ کے سفارت خانے میں قتل پر دنیا بھر میں واویلا برپا ہے۔ فرانس، برطانیہ، امریکہ اور دنیا کے بہت سے نام نہاد انسانیت دوست ممالک اس قتل کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں اور وہ سعودیہ کو اس عمل کی پاداش میں کڑی سزا دینے کی بات کر رہے ہیں۔ صحافتی برادری مغربی ممالک کی قیادت پر زور ڈال رہی ہے کہ اس قتل پر سخت اقدامات لئے جائیں، تاہم اب تک کسی سخت اقدام کا تذکرہ نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ سے کسی نے کہا کہ کیا اس سے سعودیہ پر اقتصادی پابندیوں کا اندیشہ ہے تو ان کا واضح جواب تھا کہ اقتصادی پابندیوں کی کیا ضرورت ہے، یوں تو سعودیہ تجارت کے لئے چین اور روس کا انتخاب کر لے گا اور ہمیں معاشی نقصان ہو گا۔

یاد رہے کہ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد سعودیہ نے امریکہ سے 110 ارب روپے کے ہتھیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے، نیز ان کی تجارت کا کل حجم 400 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ ان دونوں ممالک کے مابین اگلے دس برسوں تک سعودیہ کی ساٹھ فیصد اسلحہ کی ضروریات کی فراہمی کا بھی معاہدہ ہوا ہے۔ برطانیہ اور فرانس کی بھی حالت اس سے مختلف نہیں ہے۔ یہ تینوں ممالک بشمول کینیڈا سعودیہ کو اسلحہ کی فروخت کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہیں۔ اسلحہ کے علاوہ یہ ممالک سعودیہ کو دیگر شعبوں میں بھی معاونت کرتے ہیں، جس سے کثیر زر مبادلہ کماتے ہیں۔ اگر سعودیہ پر اقتصادی پابندیاں لگائیں یا اس سے تجارت کو مشکل بنائیں، جیسا کہ ان کا ایران یا کوریا کے ساتھ وطیرہ ہے تو اس صورت میں تو زیادہ نقصان اپنا ہی کریں گے۔

پس اس واویلے کا مقصد کچھ اور ہے۔ کسی بھی سعودی شہری کی یہ پہلی گمشدگی یا قتل نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی شاہی خاندان اور اس سے منسلک باغی افراد یورپ سے غائب ہو چکے ہیں اور ان کا آج تک کسی کو علم نہیں کہ انہیں زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ یورپی ممالک میں پناہ گزین شاہی خاندان کے بہت سے افراد اس امر کی شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں بھی سعودی سفارت خانے میں بلائے جانے کے لئے جھانسے دیئے جاتے ہیں، تاہم ہم تجربے سے جانتے ہیں کہ اس سفارت خانے میں جا کر ہم جیسے کم ہی لوگ واپس آتے ہیں۔ جہاں تک مغرب کا اس واویلے کا سوال ہے تو ان کے مدنظر انسانیت، انسانی یا صحافتی حقوق ہرگز نہیں ہیں۔ اگر یہ امور مغربی دنیا کی نظر میں اہم ہوتے تو انہیں گذشتہ کئی دہائیوں سے سعودی عرب کے عوام پر ہونے والے مظالم نظر آتے۔ انہیں احصاء، قطیف کے عقوبت خانے نظر آتے۔ انہیں بحرین کی جیلیں نظر آتیں، جہاں شہریوں کو زیر عقوبت رکھنے کے لئے برطانیہ سے ماہرین بلوائے جاتے تھے۔

مسئلہ انسانیت یا انسانی حقوق کا ہوتا تو مغرب کو شیخ نمر اور شیخ عیسیٰ قاسم نظر آتے، جن کو شہری حقوق کی آواز بلند کرنے پر ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مغرب اور وہاں موجود صحافتی تنظیموں کی نظر میں انسانیت ہی اس قدر اہم ہوتی تو انہیں یمن پر جاری گذشتہ تین برسوں کی جارحیت بھی نظر آتی۔ وہ دیکھتے کہ کس طرح یمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔ کیسے یہ عرب ممالک اور ان کے اتحادی اس ملک کا محاصرہ کئے ہوئے ہیں اور وہاں کے بچے قحط کے سبب موت کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر مسئلہ انسانی ہوتا تو مغربی ممالک کبھی بھی سعودیہ اور اس کے اتحادیوں کو اسلحہ اور فوجی تربیت نہ فراہم کرتے، تا کہ وہ اس سے یمن پر بمباری کریں۔ پس حقیقی مسئلہ فقط ایک صحافی کی گمشدگی اور قتل کا نہیں بلکہ ان عرب حکمرانوں کے ہاتھوں ہزاروں انسانوں کے قتل اور ان کے موت کے دہانے پر پہنچائے جانے کا ہے۔

مغرب کا مسئلہ کبھی بھی انسان، انسانیت، انسانی حقوق، صحافتی حقوق، حقوق نسواں نہیں رہا ہے، جمہوریت کے قیام کا نعرہ بھی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہے، جس کا اعلان ٹرمپ نے اپنے آخری خطاب میں یہ کہہ کر کیا کہ اگر ہم نہ ہوں تو تم دو ہفتے حکومت نہیں کر سکتے۔ مغربی دنیا کا ہمیشہ سے مسئلہ اپنا پیٹ رہا ہے، دنیا کے وسائل پر قبضہ، اقوام کو غلام بنانا، ان کے سرمائے کو لوٹ کر اپنی صنعت کو ترقی دینا، یہی مغرب کی سنہری تاریخ تھی اور ہے۔ کل مغرب کا درندہ تعلیم یافتہ نہیں تھا تو جرم کو جرم کے انداز سے ہی کیا کرتا تھا۔ جب سے اس نے تعلیم و تہذیب کا نقاب پہنا ہے، اس وقت سے اس کے اندر چھپے ہوئے درندے کو پہچاننے میں دنیا کو بہت سی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

جمہوریت، قوانین، حقوق، فلاحی کام اور ایسے ہی بہت سے نئے نقاب وضع کئے گئے ہیں، تا کہ لوگوں پر اپنی انسانی و اخلاقی برتری کی دھاک بٹھائی جائے، تاہم کام وہی درندوں والے ہیں، جو صدیوں سے مغربی تہذیب میں رائج تھے۔ برطانوی، اطالوی اور فرانسیسی سامراج کے بعد سامراجیت کا تاج امریکہ بہادر کے سر پر سجایا گیا۔ ویت نام، ہیرو شیما، ناگا ساکی، کیوبا، وینزویلا، شمالی کوریا، افغانستان، عراق، شام، لبنان، لیبیا، فلسطین اور یمن اس سامراجی نظام یا اس کے چیلوں چمچوں کی ہوس کا نشانہ بنے۔ دنیا اور اس کے ذرائع ابلاغ پر حیرت ہے کہ ان کو ایک صحافی کے اغواء اور قتل سے کونسی ایسی تکلیف ہوئی ہے جو یمن، بحرین، سعودی عرب، نائجیریا، فلسطین کے شہریوں کے بے دریغ قتل سے نہیں ہوتی۔

میرے خیال میں اس تکلیف کا عندیہ چند روز قبل ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں دیا تھا کہ ہم تمہاری حفاظت کرتے ہیں اور تم تیل کی قیمتوں کو ہمارے کہنے پر کم نہیں کر رہے۔ تم تیل کی پیداوار نہیں بڑھا رہے، تا کہ ایران کے تیل کی کمی سے پیدا ہونے والی عالمی منڈی کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے اور تیل کی قیمت مستحکم رہے۔ ہماری معیشت پر کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ اگر تم ہماری بات نہیں مانو گے تو ہم تمھارے لئے زندگی دشوار کر دیں گے۔ ہم تمہارے بڑے جرائم جس میں ہم خود بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں، کا واویلا تو نہیں کریں گے، تاہم چھوٹے جرائم میں تمہیں ملوث کر کے تمہاری بدنامی کریں گے، حتی کہ تم وہ سب انجام دو گے، جو ہم تم سے چاہتے ہیں۔ خداوند کریم سے دعا ہے کہ وہ جلد از جلد امت پر مسلط ان کٹھ پتلیوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچائے اور امور مسلمین کو اس کے اہل لوگوں کی جانب لوٹا دے۔ آمین

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...