جمعرات , 15 نومبر 2018

کیا جیمز میٹس کے جانے کا وقت آ گیا ہے؟

رائی الیوم (ترجمہ تسنیم خیالی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کے وزیر دفاع جیمز مستعفی ہوں گے یا پھر انہیں معطل کر دیا جائے گا، یہ اشارہ انہوں نے مشہور امریکی ٹی وی پروگرام (60 minutes) میں اس وقع دیا جن میں انہوں نے کہا کہ ’’میری انتظامیہ میں بہت تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں اور وزیر دفاع اپنے عہدہ جھوڑنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ وہ کچھ حد تک ڈیموکرٹیک ہیں، سب جائیں گے‘‘۔

اس سے قبل معروف امریکی صحافی باب ووڈورڈ کی شائع کردو کتاب ’’ڈر…ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں‘‘ میں کہا گیا تھا کہ میٹس نے ٹرمپ کے بارے میں کہا تھا وہ بے وقوف اور پاگل ہیں، اس کے علاوہ کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ میٹس نے شامی صدر بشار الاسد کو قتل کرنے کے ٹرمپ احکامات کو بھی ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

امریکی صدر میٹس کو معطل کرنے کی بات اس طرح اچانک صرف ایک ہی صورت میں کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ انہوں نے واقعی میٹس کو معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور متبادل بھی تلاش کر لیا ہے اور بعید از امکان نہیں کہ ٹرمپ اپنے قوی سلامتی کے مشیر جان بولٹن یا پھر امریکہ کی اقوام متحدہ میں نمائندہ نکی ہیلی کو وزیر دفاع مقرر کر دے۔

کیا میٹس کی معطلی کا تعلق ایران کے ساتھ جنگ سے ہے؟
جی ہاں کیونکہ ٹرمپ مضبوط اور طاقتور وزیر دفاع چاہتے ہیں جو اس کے احکامات پر بلا جھجھک مکمل طور پر عمل کرے خاص طور پر ایران کے معاملے میں، اس ضمن میں ٹرمپ کے پاس جان بولٹن سے بہتر اور کوئی آپشن نہیں جو ایران کے خلاف جنگ کے حامیوں میں سرفہرست ہے، نیز بولٹن کا اس معاملے میں نقطہ نظر اسرائیل کے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتا ہے، ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ٹرمپ ہر اس عہدیدار سے انتقام لیتا ہے جو اس کے احکامات پر عمل درامد نہیں کرتا جن میں اس وقت سرفہرست میٹس کا نام ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ٹرمپ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کرنے جا رہا ہے جہاں ایران کی تیل کی ترسیل پر امریکہ آئندہ ماہ پابندی عائد کرنے جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ پابندی کے اطلاق کے بعد معاملات میں مزید کشیدگی پیدا ہو جائے خاص طور پر کہ ایران ان پابندیوں کے جواب میں ابنائے ہرمز بند کر دے جس کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر 18 ملین تیل کے بیرل فروخت ہوتے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی یہ کہنے میں حق بجانب تھے جب انہوں نے چند روز قبل کہا کہ ٹرمپ ایرانی نظام ختم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں خاص طور پر کہ ایران کے خلاف اقتصادی و نفسیاتی جنگ ہارنے کے ساتھ ساتھ قانونی سیاسی جنگ بھی ہار چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو کے خطاب کے بعد امریکی سلامتی کونسل کے مشیر جان بولٹن اسرائیل کے دورے پر گئے تھے جو کچھ دنوں تک جاری رہا تھا اس کے بعد اب میٹس کی جانے کی باتیں سبھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ امریکی وزارت دفاع میں اہم تبدیلی ہونے جا رہی ہے اور ایک شخص کو وزیر دفاع بنایا جائے گا جو ٹرمپ کے احکامات پر عمل درآمد کرے خواہ وہ ایران کے خلاف جنگ ہی کیوں نہ ہو۔

یہ بھی دیکھیں

حضرت محمدؐ: امن اور اتحاد کے ایک عظیم پیغامبر

(محمد اکرم چوہدری) وہ مہینہ جس میں اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کے لیے ...