پیر , 19 نومبر 2018

اگر ترکی امریکی پادری کو رہا نہ کرتا تو امریکہ کیا کرتا؟

(تسنیم خیالی)
امریکی نیوز چینل ’’اے بی سی نیوز‘‘ نے انکشاف کیا ہے اگر ترک حکام امریکی پادری اینڈرو برانسن کو رہا نہ کرتے تو امریکی انتظامیہ ترکی پر مزید دباؤ ڈالنے کیلئے متعدد آپشنز کے لئے تیار تھی۔

ان آپشنز کے حوالے سے نیوز چینل کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی سے سفارتی اہلکاروں کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ دیکھا جائے تو ترکی میں 2017ء سے امریکی سفیر متعین نہیں البتہ سفیر کی جگہ قائم مقام ہے جو کہ ترکی میں موجود اعلی ترین امریکی سفارتی اہکار ہے، ٹرمپ نے اپنے منصوبے کے تحت ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کے لئے تیار تھے البتہ امریکی دفتر خارجہ کی نظر میں یہ اقدام تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ امریکہ اس حالت مین نیٹو میں اپنے ایک اہم اتحادی کے ساتھ تعلقات ختم کرنے جا رہا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو بھی اس اقدام کے مخالف تھے اور ان کے نزدیک یہ آپشن آخری آپشن کے طور پر بروئے کار لانا چاہئے، ایک آپشن یہ بھی تھا کہ امریکہ ترکی کے ساتھ جزوی طور پر تعلقات متقطع کرے اور قائم مقام سفیر کو امریکہ واپس نہ بلایا جائے، البتہ یہ بھی اس ایک حقیقت ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے نزدیک ترکی کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر منقطع ہونا چاہئے۔

مذکورہ آپشنز کے علاوہ امریکہ کے پاس ترکی پر دباؤ ڈالنے کے لئے اور بھی آپشنز موجود تھے جن میں ترک عہدیدار و کاروباری شخصیات پر پابندی عائد کرنے کا آپشن سرفہرست ہے۔ امریکی اکتوبر کا انتظار کر رہے تھے اور اگر اینڈرو اس بار رہا نہ ہوتے تو امریکی انتظامیہ ترکی کے خلاف اقدامات اٹھانے کے لئے تیار تھی، مگر ترک حکام نے اچانک امریکی پادری کو رہا کر دیا جو کہ پوری دنیا کے لئے حیران کن تھا، اب قابل غور بات یہ ہے کہ کیا ترک حکام کو اس بات کی اطلاع تھی کہ امریکہ اپنے پادری کی رہائی نہ ہونے پر کیا کرنے جا رہا ہے؟ کیا امریکی انتظامیہ نے ترک حکام کو اپنی تیاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا تھا؟

میرے خیال میں ترکی نے اپنے پادری کو اس لیے رہا کیا ہے کہ وہ (ترکی) امریکہ کا مزید مقابلہ کرنے کی سقط نہیں رکھتا اور اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنا ہی مناسب ہو گا کیونکہ معاملے میں مزید طوالت اور پادری کو مزید زیرحراست رکھنے سے نقصان ترکی کا ہو گا، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ترکی نے آینڈرو کو رہا کیا ہے وگرنہ دیکھا جائے تو ترکی عدالت نے بغیر کسی ٹھوس شواہد اور ثبوت کے ہی پادری کو رہا کیا ہے، امریکہ کے اتحادی امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی تمام کمزوریوں سے اچھی طرح فائدہ حاصل کرنا جانتا ہے اور شاید ترک حکام یہ بات بھول گئے تھے اور زیادہ جوش دکھا رہے تھے جس کے بعد امریکہ نے بھی انتہائی ذلت آمیزہ انداز میں ترکی کو لگام دینے میں کامیابی حاصل کی۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...