پیر , 19 نومبر 2018

لاہور ہائی کورٹ: مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے کی درخواست مسترد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس سردار شمیم احمد خان اور جسٹس شہباز علی رضوی پر مشتمل بینچ نے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق زینب کے والد حاجی امین درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اشتیاق چوہدری نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت عوامی مقام پر پھانسی ہو سکتی ہے، اس پر عدالت نے کہا کہ آپ دفعہ 22 پڑھیں، اس میں لکھا ہے یہ حکومت کا کام ہے اور ہم حکومت نہیں ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اس معاملے پر حکومت کو کوئی درخواست دی ہے، جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی حکومت کو درخواست دی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 20 جون کو حکومت کو سر عام پھانسی دینے کے حوالے سے درخواست دی، حکومت نے اگر دفعہ 22 پر عملدرآمد نہیں کرنا تو اسے نکال دینا چاہیے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ جب پنجاب حکومت نے آپ کی درخواست پر کارروائی نہیں کی تو آپ نے عدالت سے پہلے رجوع کیوں نہیں کیا؟ آپ اتنا تاخیر سے آئے ہیں، کل (بدھ) کو تو پھانسی کی تاریخ مقرر ہے۔

اس دوران عدالت میں موجود سرکاری وکیل نے مجرم عمران کے ڈیتھ وارنٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت جیل قوانین 354 دیکھے، سرعام پھانسی دینا جیل قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت جیل میں پھانسی کے وقت کیمرے لے کر جانے کی اجازت اور مجرم کی پھانسی براہ راست دکھانے کی اجازت ہی دے دے، ہم سارا خرچ برداشت کر لیں گے۔ تاہم عدالت نے درخواست گزار کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

واضح رہے کہ عدالت میں زینب کے والد حاجی امین کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں سیکریٹری داخلہ، انسپکٹرل جنرل (آئی جی) پنجاب اور مجرم عمران کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ مجرم عمران کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں اور مجرم کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں، لہٰذا انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 22 کے مجرم کو سرعام پھانسی دی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے تھے، جس کے مطابق مجرم کو 17 اکتوبر کو پھانسی دی جائے گی ۔ ڈیتھ وارنٹ کے مطابق مجرم عمران کو بدھ 17 اکتوبر کو سینٹرل جیل لاہور میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ خیال رہے کہ زینب سمیت مختلف بچیوں کے قاتل عمران کو مجموعی طور پر 21 مرتبہ سزائے موت، عمر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

زینب قتل کیس میں کب کیا ہوا؟
یاد رہے کہ قصور میں 4 جنوری کو لاپتہ ہونے والی 6 سالہ زینب کی لاش 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لیا تھا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایات جاری کی تھیں۔

پولیس نے 13 جنوری کو ڈی این اے کے ذریعے ملزم کی نشاندہی کی تھی اور ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد 23 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں زینب کے والد کی موجودگی میں پریس کانفرنس کی تھی اور ملزم کی گرفتاری اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 9 فروری کو عدالت نے گرفتار ملزم عمران علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا تھا۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم عمران کو زینب قتل کیس میں ڈی این اے میچ ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ملزم عمران کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا۔

17 فروری کو اے ٹی سی نے زینب کو ریپ کے بعد قتل کے جرم میں عمران علی کو 4 مرتبہ سزائے موت، عمر قید اور 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ 41 لاکھ روپے جرمانے بھی عائد کیا تھا۔

جس کے بعد زینب قتل کیس کے مجرم عمران نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی تھی، لیکن لاہور ہائی کورٹ نے مجرم عمران کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں مجرم عمران نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں بھی مجرم کے خلاف فیصلہ سامنے آیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

فرانس:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، خاتون ہلاک

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں ‘یلو ...