پیر , 19 نومبر 2018

خلیج کا مستقبل موجودہ تبدیلیوں کے آئینے میں

(یہ قسط وار تحریر در حقیقت ایک سمینار کو پیش نظر رکھ کر لکھی جا رہی ہے جو ا س سےملتے جلتے موضوع پر عرب دنیا میں منعقد ہوئی تھی ۔جس کی وڈیو سوشل میڈیا میں موجود ہے۔ لیکن کیونکہ اردو زبان کے قارئین کے لئے بہت سی چیزوں کی وضاحت ضروری تھی اس لئے اس سمینار کے موضوع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے نئی تحقیق کے ساتھ لکھا جا رہا ہے)

خلیجی ممالک کے مستقبل کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ماضی اور تاریخی اعتبار سے اس کی تشکیل اور اس تشکیل کے اہم و بنیادی عناصر کو پرکھا جائے اور اس کی مجموعی جہت اور سمت کو دیکھا جائے تا کہ اس کے مستقبل کی صورتحال واضح ہو سکے۔

پہلی جنگ عظیم سے پہلے مشرق وسطی امور کے لئے برطانوی سامراج کا تعین کردہ نمائندہ Lord Herbert Kitchener جو کہ سوڈان پر قبضے کے بعد مصر اور پھر بعد میں مشرق وسطی امور کا انچارچ بنا تھا، اپنے ذمہ داروں سے پوچھتا ہے کہ کیا وھابیت ختم ہو گئی ہے یا پھر ابھی راکھ کے نیچے کوئی چنگاری موجود ہے؟

اسے کہا گیا کہ نہیں وھابیت کی چنگاریاں ابھی راکھ کے نیچے موجود ہیں اور وہ کویت کے نزدیک بستے ہیں لیکن آخری معرکوں میں شکست کے بعد ان کی پوزیشن انتہائی خراب ہے ۔

واضح رہے کہ وھابیت نے نجد سے سر اٹھایا تھا اور اطراف کے قبائل کو اکھٹا کر کے ایک سخت لڑاکا فورس تشکیل دی تھی جس نے جلد ہی جزیرۃ العرب یا موجودہ سعودی عرب پر قبضہ جما لیا جس کے بعد عراق پر وہ قابض ہوئے یہاں تک کہ شام کے بہت سے علاقے میں بھی ان کا قبضہ ہوا۔

عراق میں انہوں نے کربلا میں رسول اللہ ص کے نواسے کے روضہ سمیت متعدد اہم مقدس مقامات مسمار کر دیا تھا۔

ترکی میں موجود ترک بادشاہ ان کے مقابلے سے قاصر تھا یہاں تک کہ مصری بادشاہ محمد علی کی فوج نے وھابی لشکر کا سامنا کیا اور انہیں شکست دی ۔

برطانوی سامراج کواس وقت وھابیت اور مکہ مکرمہ میں ترک بادشاہت کی جانب سے معین کردہ والی و خادم حرمین شریف حسین ہاشمی کی ضرورت تھی۔

ترکوں نے شریف حسین کو ہاشمی ہونے کے سبب مکہ میں خادم حرمین کے طور پر معین کیا تھا۔
شریف حسین ہاشمی اس وقت عرب دنیا کی ایک نمایاں شخصیت میں شمار ہوا کرتا تھا کہ جس کے پاس مقدس سرزمین کی ذمہ داری تھی لیکن شریف حسین کی کوشش تھی کہ ایک مستقل بادشاہ کے طور پر سامنے آئے اور کم ازکم جزیرۃ العرب یعنی موجودہ سعودی عرب پر صرف اس کی ہی حکومت ہو اور ترکی میں مرکزی حکومت کا اس پر کنٹرول ختم ہو جائے۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ برطانوی سامراج کو شریف حسین ہاشمی کی ضرورت کیوں پیش آ رہی تھی؟ اس وقت برطانوی فوج تیرہ لاکھ تھی کہ جس میں دس لاکھ کا تعلق برطانیہ سے نہیں تھا بلکہ برصغیر یعنی موجودہ ہندوستان اور پاکستان سے تشکیل پائی تھی۔

دلچسب بات یہ ہے کہ اس دس لاکھ کی فوج میں سات لاکھ کے قریب فوجی مسلمان تھے جبکہ باقی تین لاکھ ہندو اور سکھ فوج تھی۔

ہربرٹ کشنرز Herbert Kitchenerکو اس وقت ایک ایسے فتوئے کی ضرورت تھی جو برطانوی فوج میں موجود سات لاکھ فوجیوں کو ترکی کی خلافت عثمانیہ سے لڑنے کے لئے تیار کرے۔

لہذا ہربرٹ کشنرز اور مصر میں تعین برطانوی نمایندہ Sir Henry McMahon نے شریف حسین ہاشمی کو تیار کر لیا کہ وہ ترک خلافت کیخلاف فتوا جاری کرے ۔

شریف حسین ہاشمی پہلے سے ہی اپنے لئے مستقل خلافت اور بادشاہت کی فکر میں تھا اس لئے اس نے اس پیشکش کو اپنے لئے ایک سنہرا موقع سمجھا۔

خادم حرمین کہلانے والے شریف حسین ہاشمی اور مصر میں تعینات برطانوی سامراج کے نمایندہ Sir Henry McMahon کے درمیان ہونے والی خط و کتابت آج تک محفوظ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح برطانیہ نے اس خادم حرمین سے اپنے مقاصد کے لئے فتوئے حاصل کئے۔

برطانیہ نے اس وقت قومیت پرستی کو بھی استعمال کیا کہ عربوں کو ترکوں پر فوقیت حاصل ہے خلافت عربوں کے پاس ہونی چاہیے۔

شریف حسین کے فتوئے کو کئی زبانوں میں بشمول ہندی، بنگالی، اردو میں ترجمہ کیا گیا تا کہ برطانوی فوج میں موجود برصغیر کے سپاہیوں پر اثر کرے بالکل اسی طرح جس طرح افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف مخصوص مدارس سے فتوے جاری کئے گئے تھے۔

یوں ترکی میں قائم خلافت عثمانیہ کیخلاف برطانوی افواج اور خادمین حرمین شریفین ملک شریف حسین ہاشمی کی افواج اکھٹی لڑنے لگیں۔

یہاں تک برطانیہ کو اس بات کا خطرہ تھا کہ ترک خلافت کے خاتمے کے بعد عرب خلافت کا قیام بذات خود ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ (جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...