پیر , 19 نومبر 2018

جمال خاشقجی کا معاملہ بن سلمان کے لیے وبال جان بن گیا

(تسنیم خیالی)

تین ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ٹرمپ کو شہزادہ احمد بن عبدالعزیز پر قائل کرنے میں سرگرم

سعودی صحافی جمال خاشقجی کا معاملہ حقیقت میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے وبال جان بن چکا ہے اور امکان پیدا ہو چکا ہے کہ اس معاملے کی وجہ سے بن سلمان کا اقتدار شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے۔

ٹویٹر پر سرگرم معروف صارف مجتہد نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت تین ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں امریکی صدر ٹرمپ کو سعودی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز آل سعود کو بطور نئے ولی عہد اور مستقبل میں نئے سعودی فرمانروا کے طور پر قائل کرنے میں سرگرم ہیں۔

مجتہد کے مطابق بن سلمان کے متبادل کے طور پر شہزادہ احمد بن عبدالعزیز آل سعود پر زور دینے والی ایجنسیاں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی ہیں اور اس ضمن میں ان ایجنسیوں کی ٹرمپ کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کافی دور تک پہنچ چکے ہیں اور وہ ٹرمپ کو قائل کرنے کے بہت قریب ہیں۔

ان ایجنسیوں کے نزدیک بن سلمان اپنی جلد بازیوں اور بچگانہ حرکتوں کے باعث اپنے ہی اتحادیوں اور موجودہ عالمی نظام کے لیے خطرے کا باعث بن چکے ہیں۔

جمال خاشقجی کا گزشتہ 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد سے اب تک بن سلمان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے خاص طور پر کہ دنیا بھر میں زیادہ تر نیوز ایجنسیز اور تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ خاشقجی کو انتہائی خوفناک طریقے سے قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا ہے اور یہ سب کچھ بن سلمان کے علم میں ہے۔

ان خبروں کے بعد خود امریکی انتظامیہ میں اس بات نے زور پکڑا ہے کہ سعودی ولی عہد کو عہدے سے ہٹا دیا جائے تا کہ وہ اپنے والد کی جگہ فرمانروا نہ بن پائے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے ک ہ اب اس واقعے کی حتمی رپورٹ پیش نہیں ہوئی ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ واقع کے بعد کی صورت حال واقعہ سے قبل جیسی ہرگز نہیں ہو گی، خاص طور پر کہ تمام تر ثبوت بن سلمان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خاشقجی کے قتل کا حکم اسی نے دیا تھا۔

اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ خاشقجی کا قتل سعودی قونصل خانے میں ہوا تھا اور بن سلمان اس قتل میں ملوث ہے تو یقین جانیے بن سلمان نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے اور خود ہی اقتدار کو لات ماری ہے وہ اقتدار جسے حاصل کرنے کے لیے بن سلمان نے اپنے خاندان کے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور کچھ کو قتل۔

میرے خیال میں ترک تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ جو بھی ہو بن سلمان کے حق میں یا پھر خلاف خاشقجی کا معاملہ سعودی ولی عہد کو لے ڈوبا ہے اور اسے اقتدار چھوڑنا ہو گا یا پھر یوں کہیں کہ امریکہ اور دیگر بن سلمان سے اقتدار چھیننے جا رہے ہیں۔

اب یہ کس طرح ممکن ہو گا اور کس قسم کے سیناریو کے ذریعے، یہ تو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی بہتر جانتے ہیں البتہ یہ واضح ہے کہ بن سلمان کا بطور ولی عہد دن گنے جا چکے ہیں، البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کی جگہ کسے معین کیا جائے گا؟ کیا وہ شہزادہ احمد ہی ہو گا یا پھر کوئی اور؟

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...