بدھ , 21 نومبر 2018

اب عمران خان حکومت چلا کر دکھائیں

(سید مجاہد علی)
گزشتہ روز قومی اسمبلی کی گیارہ اور صوبائی اسمبلیوں کی 24 نشستوں پر ہونے والا انتخاب حکمران پاکستان تحریک انصاف کے لئے اچھی خبر تو نہیں تھا لیکن ان نتائج سے وفاق یا پنجاب میں موجودہ حکومتی انتظام میں کسی دراڑ پڑنے یا حکومتوں کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ نہیں ہے۔ یوں بھی پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار کی جو ضمانتیں حاصل ہیں، ان کے ہوتے کسی بھی دوسری حکومت کی طرح اس حکومت کو بھی ضعف پہنچانا ممکن نہیں۔ ملک میں جمہوریت کا جاپ کرتے ہوئے اس حقیقت پسندی کو بنیاد اور سنہرے اصول کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے کہ جمہوریت چلانے کے لئے اسٹبلشمنٹ سے ٹکرانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے۔ بصورت دیگر کسی بھی لیڈر کو آصف زرداری اور نواز شریف بناتے دیر نہیں لگتی۔

اس حوالے سے الطاف حسین کا نام لینا اس لئے نامناسب ہو گا کہ انہوں نے جمہوریت کو اپنی شخصی حکمرانی کے لئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا تھا۔ وہ پودا جن طاقتوں کا لگایا ہوا تھا، انہیں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا لیکن اس میں الطاف حسین کی غلطیوں اور جارحانہ طرز سیاست کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی اور حیدرآباد کی مہاجر آبادی الطاف حسین کی صورت میں ضرور ایک مسیحا دیکھتی رہی ۔ اب ان لوگوں کو نئی سیاسی صورت حال سے ہم آہنگ ہوتے اور اس کے مطابق اپنا سیاسی رویہ بناتے کچھ وقت تو ضرور لگے گا۔

سال رواں کے انتخابات میں کوئی سیاسی پارٹی اس سیاسی خلا سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اگرچہ تحریک انصاف نے کراچی سے بیشتر نشستیں حاصل کی ہیں لیکن یہ کامیابی الطاف حسین سے ’بدظن ‘ ہونے والے ووٹروں کی حمایت کی بجائے مقبولیت کی اس فضا کی مرہون منت تھی جو بوجوہ تحریک انصاف کے لئے پیدا ہو چکی تھی۔ ابھی مستقبل میں اہل کراچی کے سیاسی مؤقف کے بارے میں حتمی رائے دینا ممکن نہیں ۔ حالات کو ہموار ہونے اور مہاجر ووٹر کو الطاف حسین کے صدمے سے جان بر ہوتے وقت لگے گا۔

ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کی ہے اور تحریک انصاف کو اپنی ہی خالی کی ہوئی نشستوں پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کو ملنے والے ووٹوں کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔ لیکن اس کی وضاحت کے لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات کے مقابلے میں ضمنی انتخابات میں دس سے بیس فیصد کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلتے ہیں۔ اس لئے ووٹروں میں کسی پارٹی کی مقبولیت کا اندازہ ضمنی انتخاب میں اس کی کارکردگی سے نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگرچہ تحریک انصاف کی وفاق اور پنجاب میں حکومتیں صرف چند ووٹوں کی اکثریت سے ہی قائم ہیں لیکن اس پارٹی کی حکومتوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

بادی النظر میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف پانچ برس کی مدت پوری کرے گی۔ اس کے لئے البتہ ’ہم آہنگی‘ کے نام پر اسٹبلشمنٹ سے وفاداری کا عہد نبھاتے رہنا ہو گا۔ عمران خان نے اگر کسی صورت اس بنیادی تفہیم سے گریز کرنے اور واقعی وزیر اعظم بننے کی کوشش کی تو تحریک انصاف کے لئے سیاسی مشکلات پیدا کرنے میں اتنا وقت درکار نہیں ہو گا جو مسلم لیگ (ن) کو اقتدار سے باہر کرنے کے لئے ضروری تھا۔

تحریک انصاف اور عمران خان کے لئے یہ بات بھی اطمینان کا سبب ہونی چاہئے کہ ملک کی قومی اور پنجاب اسمبلیوں میں اپوزیشن اگرچہ مضبوط اور عددی اعتبار سے طاقت ور ہے لیکن اب تک موصول ہونے والے اشاریوں کے مطابق وہ اپنی اس حیثیت کو قبول کر چکی ہے اور اس سٹیٹس کو کو توڑنے کی کوئی غیر معمولی کوشش کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی قید کے بعد اپنے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری پر بھی کسی احتجاجی تحریک شروع کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس لئے مستقبل قریب میں بھی اس پارٹی یا اپوزیشن کی کسی دوسری پارٹی کی طرف سے احتجاج کی ایسی سیاست کا کوئی امکان نہیں ہے جو سڑکوں پر مظاہروں کی صورت میں دیکھنے میں آئے۔ یہ صورت حال بھی حکمران جماعت کے لئے اطمینان کا باعث ہونی چاہئے۔ اس لئے ضمنی انتخابات کے بعد اب تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو ہیجان اور اضطرار کی اس کیفیت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے جو اقتدار سے کسی بھی لمحے محرومی کی کے خوف کی وجہ سے اس پر طاری رہتا ہے۔

تحریک انصاف اور عمران خان کو اب یہ ثابت کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ انہیں واقعی یہ یقین ہو گیا ہے کہ بالآخر انہیں حکومت مل چکی ہے اور وہ اس ملک میں مقررہ حدود کے اندر فیصلے کرنے کے مجاز بھی ہیں۔ کیوں کہ 18 اگست کو حکومت سنبھالنے کے بعد سے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا کہ وہ اب حکومت کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عمران خان کی تقریر سے لے کر ضمنی انتخاب سے ایک روز پہلے وزیر اطلاعات کی پریس ٹاک تک اس بات کا اظہار نہیں ہوا کہ تحریک انصاف حکمران جماعت ہے۔ ان کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ دوسری پارٹیوں اور قائدین پر نکتہ چینی کے ذریعے وہ ابھی تک اختیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عمران خان کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ وہ بہت دیر تک یہ کہہ کر کام نہیں چلا سکتے کہ وہ تو ابھی حکومت میں آئے ہیں ، اس لئے انہیں حالات کو سمجھنے اور ان کے مطابق فیصلے کرنے کا وقت دیا جائے۔ کیوں کہ جب حکمران پارٹی کی قیادت مقبولیت کے گھوڑے کو مہمیز دیتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کرے گی تو وہ اپوزیشن کی بجائے خود کو زخمی کرنے کا سبب بنے گی۔ یوں بھی ملک کو جن اقتصادی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے، ان سے جوش و جذبہ، نعروں، طنز اور مقبول سیاست کے ڈھونگ کے ذریعے نہیں نمٹا جا سکتا۔ اس کے لئے اہم ہے کہ حکمران جماعت ملک میں اطمینان اور سکون کی فضا پیدا کرے۔ مار دھاڑ اور پکڑ دھکڑ کے دعوے معاشی حالات کو مستحکم کرنے میں معاون نہیں ہو سکتے۔

حکومت کو معاشی استحکام کے لئے صرف آئی ایم ایف یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے دس بارہ ارب ڈالر ہی کی فوری ضرورت نہیں ہے بلکہ اس مقصد کے لئے ملک میں خوشگوار اور تحفظ کا ماحول پیدا کرنا بھی اہم ہے تا کہ چھوٹا بڑا سرمایہ دار ہراساں ہونے کی بجائے دل جمعی سے معاشی احیا کے لئے کام کر سکے۔ اگر قومی پیداوار کا بنیادی مقصد حاصل کرنے کے لئے کام ہو سکے تو بیرونی قرضے بھی مل سکتے ہیں اور ان کی ادائیگی بھی ممکن ہو گی۔ بیرونی سرمایہ کار بھی ملک کا رخ کرے گا اور یہاں موجود سرمایہ دار بھی ملکی معیشت میں اپنا مستقبل محفوظ سمجھ کر دل جمعی سے کام کرے گا۔ لیکن اگر سیاسی بیان بازی سے بے یقینی کی کیفیت کو بڑھایا جائے گا تو یہ سنسنی خیزی صورت حال کو مزید خراب کرے گی جس کا خمیازہ ملک کے عوام کو تو بھگتنا ہی پڑے گا لیکن حکومت کے تسلسل لئے بھی یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہو گی۔

کوئی حکومت نعروں اور دھمکیوں سے معاشی استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔ اس مقصد کے لئے سرمایہ دار کی حوصلہ افزائی بنیادی شرط ہے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے اور حکومت کی آمدنی میں اضافہ کے لئے بھی اعتماد کی فضا اور مفاہمانہ ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔ حکومت کو اس گمان سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ وہ کابینہ کے فیصلے یا پارلیمنٹ کے قانون کے ذریعے کوئی حکم نافذ کرکے ٹیکس میں اچانک اضافہ کا کوئی اقدام کر سکتی ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت سمیت ماضی کی سب حکومتیں اسی مجبوری کی وجہ سے بالواسطہ ٹیکسوں پر ہی انحصار کرتی رہی ہیں جن سے ملک کی غریب آبادی ہی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

چھوٹے سرمایہ داروں کو ٹیکس دینے پر آمادہ کرنے کے لئے ملک کے ٹیکس نظام میں اصلاح کے علاوہ لوگوں کو یہ باور کروانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ٹیکس دینے کی صورت میں انہیں بعض ایسی سہولتیں حاصل ہوں گی جو ان کے کاروبار اور معاشی و سماجی رتبہ و حیثیت کے لئے اہم ہوں گی۔ عمران خان کے اس اعلان سے فرق نہیں پڑتا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کا ایک ایک پیسہ ایمانداری سے صرف ہو گا‘۔ ٹیکس دینے والے قومی مفاد یا حکومت کے فائدے سے پہلے اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ یہ مزاج صرف پاکستان کا ہی خاصہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے تمام سرمایہ دار اسی طرح سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔ خوف کی بجائے اعتماد اور دباؤ کی بجائے ترغیب و تحریص ہی ملک کے نئے طبقوں کو ٹیکس دینے پر آمادہ کرے گی۔

ملک کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے جس طرح حکومت کی دوست ملکوں سے غیر ضروری توقعات وابستہ کر لینے کی پالیسی غلط تھی اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ایک اپیل پر اربوں ڈالر وصول کرنے کا خیال بھی خام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے چیف جسٹس کے جس ’ڈیم فنڈ‘ کو وزیر اعظم فنڈ میں بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے چندہ دینے کی جو اپیل کی تھی، اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اب دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کو مقامی پاکستانی باشندوں کو اس فنڈ میں چندہ دینے پر آمادہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اس طریقہ سے بھی اتنی رقم وصول نہیں ہو سکتی کہ ملک کو درپیش زرمبادلہ کے مسئلہ سے نجات حاصل ہو جائے۔

تارکین وطن کو پاکستان سرمایہ بھیجنے پر آمادہ کرنے کے لئے بھی پاکستان کے حالات درست کرنے اور وہاں ان کے سرمایہ کو تحفظ فراہم کرنے کا میکینزم استوار کرنا اہم ہے۔ بیرونی ملکوں میں مقیم پاکستانی اپنے اہل خانہ کے لئے جو رقوم روانہ کرتے ہیں ان میں اضافہ کا امکان نہیں ۔ البتہ اگر ملک کے سماجی حالات اور انفراسٹرکچر بہتر ہو گا تو یہ پاکستانی ضرور پاکستان میں سرمایہ منتقل کرنے پر راغب ہوں گے۔ ماضی میں متعدد تارکین وطن کے تلخ تجربات نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اوور سیز پاکستانیز بھی تب ہی پاکستان کی طرف رجوع کریں گے جب وہاں انہیں قانونی تحفظ اور سماجی احترام حاصل ہو گا۔ صرف حکومت کا اعلان ان ترسیلات میں اچانک اضافہ کا سبب نہیں بن سکتا۔ بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...