پیر , 14 اکتوبر 2019

حفاظتی جیکٹ صحافی کو چاقو کے وار سے نہ بچا سکی

[caption id="attachment_2365" align="alignnone" width="300"]زخمی ہونے والے صحافی لاچوور کو زخم پر ٹانکے لگانے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا زخمی ہونے والے صحافی لاچوور کو زخم پر ٹانکے لگانے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا[/caption]

ایک ٹی وی پروگرام کے لیے چاقو کے وار سے محفوظ رکھنے والی جیکٹ کا عملی مظاہرہ کرنے والے اسرائیلی صحافی اتفاقیہ طور پر چاقو کے وار سے زخمی ہوگئے۔

اسرائیل خبر رساں ادارے چینل ون سے تعلق رکھنے والے صحافی عِطم لاچوور کو ممکنہ طور پر چاقو کے وار سے حفاظت کرنے والی جیکٹ پہننے کے لیے کہا گیا اور اُن پر کیمرے کے سامنے چاقو سے کئی وار کیے گئے۔

لیکن اِسی دوران چاقو اُن کی حفاظتی چیکٹ کو چیرتا ہوا اُن کے جسم پر جا لگا اور ان کی کمر پر معمولی زخم آیا۔

فلسطینیوں کی جانب سے چاقوؤں کے حملوں کے حالیہ واقعات کے پیش نظر اسرائیلی فوجیوں کو بھی یہ حفاظتی جیکٹ فراہم کی جانی ہے۔

حفاظتی جیکٹ تیار کرنے والی کمپنی کے نائب صدر یانیو مونتاکیو نے اسرائیل کے خبر رساں ادارے چینل ٹو کو بتایا کہ اُنھوں نے زخمی ہونے والے صحافی لاچوور پر اُس جگہ وار کیا جہاں جیکٹ میں حفاظتی مواد نہیں تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اِس سے قبل کی جانے والی ریکارڈنگ مکمل طور پر کامیاب تھی اور صحافی کو کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔

اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کی ترجمان لینڈا بار نے بتایا کہ حادثے کے باوجود یہ رپورٹ بدھ کو نشر کی جائے گی۔

زخمی ہونے والے صحافی لاچوور نے ٹویٹ کیا ہے کہ زخم پر ٹانکے لگانے کے بعد اُن کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے 3 سیاستدانوں کو رہا کردیا

مقبوضہ کشمیر: بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں 2 ماہ سے جاری لاک ڈاؤن میں …