پیر , 19 نومبر 2018

جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں ثبوت و شواہد مل گئے: ترک ذرائع

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترک ذرائع کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں جانچ پڑتال کے دوران سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں ثبوت و شواہد مل گئے ہیں-

اس دوران امریکا کے این بی سی ٹی وی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سعودی حکام واقعے کی نئے سرے سے تشریح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ آل سعود حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافی کے قتل کی ذمہ داری سعودی ولیعہد محمد بن سلمان پر عائد نہ ہو سکے-

قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ ترک حکام نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں کچھ شواہد مل گئے ہیں- الجزیرہ نے ترکی کے اٹارنی جنرل کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے ثبوت و شواہد مٹائے جانے کی کوششوں کے باوجود ان کے قتل کے اہم ثبوت ہاتھ لگ گئے ہیں-

خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ جو ثبوت و شواہد ملے ہیں ان سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ خاشقجی کو قتل کر دیا گیا ہے- اس دوران امریکی ٹیلی ویژن چینل این بی سی نے خبر دی ہے کہ سعودی حکام یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے نہ صرف یہ کہ خاشقجی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ان کے قتل کے بارے میں ان کو نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی وہ کسی طور پر اس واقعے میں ملوث ہیں-

امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این نے بھی خبر دی ہے کہ سعودی حکام اب خود کو اس بات کے لئے تیار کر رہے ہیں کہ خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ باور کرائیں کہ ان کا قتل تفتیش کے دوران ہونے والی کچھ غلطیوں کی وجہ سے ہو گیا ہے-

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین بیان میں دعوی کیا ہے کہ ممکن ہے کہ جمال خاشقجی کو کچھ عناصر نے خود قتل کر دیا ہو- انہوں نے وائٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا بھی امکان پایا جاتا ہے کہ استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد جمال خاشقجی کو کچھ خودسر عناصر نے قتل کر دیا ہو-

ٹرمپ نے کہا کہ سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ان سے اپنی ٹیلی فونی گفتگو میں جمال خاشقچی کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے- ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ کسی خود سر اور بے قابو شخص نے جو آپے سے باہر ہو گیا جمال خاشقجی کا قتل کر دیا ہو، کوئی کیا جان سکتا ہے؟

اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب کے خلاف امریکا کا ردعمل سخت ہو گا-

آل سعود حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد سے لاپتہ ہیں اور اب کہا جا رہا ہے کہ سعودی اہلکاروں نے ان کو قتل کر دیا ہے-

ذرائع ابلاغ نے چند روز بعد یہ خبر دی تھی کہ جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا اور پھر ان کی لاش وہاں سے باہر منتقل کر دی گئی- جمال خاشقجی کا نام سعودی حکومت کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا اور گرفتارہونے کے خوف سے سعودی عرب سے باہر زندگی بسر کر رہے تھے-

یہ بھی دیکھیں

فرانس:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، خاتون ہلاک

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں ‘یلو ...