پیر , 19 نومبر 2018

معیشت کی بحالی: چین کا مثبت پیغام

ملک میں زبوں حال معیشت کی بحالی کے لئے تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف کے ناپسندیدہ قرضے کے حصول سمیت بلاشبہ متعدد ضروری اقدامات کر رہی ہے جن کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی قوی امید ہے لیکن ان کوششوں کے بار آور ہونے میں کئی منفی عوامل بھی حائل ہیں جن کے اثرات عملی طور پر ہر سطح پر محسوس کئے جا رہے ہیں، ان پر قابو پانے کے لئے کافی وقت درکار ہو گا۔

ان عوامل میں دوسری باتوں کے علاوہ بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی، تجارتی خسارہ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تحفظات اور حکومت کی جانب سے گیس کے بعد بجلی کے نرخوں میں متوقع اضافہ سرفہرست ہیں۔

پیر کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ جو کافی عرصہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، ایک بار پھر کریش کر گئی جس سے انڈیکس 36768 کی کم ترین سطح پر آ گیا اور سرمایہ کاروں کے سوا کھرب روپے ڈوب گئے۔ پونے تین سو کے قریب کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں کم ہوئیں۔ ایک ہی روز میں 133 لاکھ ڈالر کا آؤٹ فلو ہوا اور ڈالر تقریباً ڈیڑھ روپیہ مزید مہنگا ہو گیا۔ ادھر حکومت نے قومی اقتصادی کونسل میں بجلی پونے چار روپے مہنگی کرنے کی سمری پیش کی ہے، منظوری کی صورت میں نئے نرخوں پر 2016 سے عملدرآمد ہو گا اور صارفین سے تقریباً 4 کھرب روپے ماہانہ وصول کئے جائیں گے۔

سمری کے مطابق زرعی صارفین کے لئے اضافہ نہیں کیا جائے گا اور صنعتی شعبے کے لئے بھی 3 روپے فی یونٹ سپورٹ پیکیج جاری رہے گا جو برآمدات میں اضافے کے لئے ایک مستحسن اقدام ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ گھریلو صارفین پر بوجھ بڑھ جائے گا۔ پاور سیکٹر میں گردشی قرضوں کا حجم 12 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے جو بجلی کے نرخوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ ملکی معیشت کی بدحالی میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کا حصہ سب سے زیادہ ہے جسے روکنے کیلئے حکومت سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ عظیم ہمسایہ چین نے جو سی پیک منصوبوں میں 50 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، نہ صرف کرپشن کے خاتمے میں پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے بلکہ آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول میں بھی مدد دینے کا یقین دلایا ہے۔

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سی پیک کو پاکستان کی معاشی خرابی کا ذمہ دار قرار دینے کے امریکی دعوے کو غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی بحران چینی قرضے کی وجہ سے نہیں کیونکہ یہ قرضہ اتنا زیادہ نہیں اور آئی ایم کے قرضے سے پاک چین تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور موجودہ معاشی بحران میں بھی اس کی جانب سے مثبت پیغام پاک چین دوستی کے لازوال ہونے کی علامت ہے۔ توقع ہے کہ دوست ممالک کی امداد اور بین الاقوامی مالی اداروں کی معاونت سے پاکستان پر معاشی ابتری کا یہ دور زیادہ عرصہ جاری نہیں رہے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا اس حوالے سے یہ کہنا حوصلہ افزا ہے کہ مشکلات کا یہ عرصہ ڈیڑھ دو سال میں ختم ہو جائیگا اور 5 سال بعد لوگ پوچھیں گے کہ پاکستان کی معیشت اتنی بہتر کیسے ہوئی جبکہ وزیر تعلیم شفقت محمود کو توقع ہے کہ معاشی حالات ٹھیک کرنے کے لئے صرف دو تین ماہ لگیں گے۔ اس پس منظر میں معاشی تجزیہ کار پرامید ہیں کہ ملک جلد اقتصادی مشکلات سے باہر آ جائے گا تاہم اس کے لئے قوم کو چھوٹی بڑی قربانیاں ضرور دینا ہوں گی، جس کے لئے اسے تیار رہنا چاہئے۔ حکومت کو بھی مشکل فیصلے کرنے میں عام آدمی کے مفادات کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا جس سے غریب اور متوسط طبقے میں بے چینی پھیل سکتی ہے اور انہیں مطمئن کرنے کے لئے یہ دلیل کافی نہیں ہو گی کہ معیشت کا بیڑا تو پچھلی حکومت نے غرق کیا۔ پچھلی حکومت نے جو کچھ کیا عوام عام انتخابات میں اس پر اپنا ردعمل ظاہر کر چکے ہیں، اب مستقبل کی بات ہونی چاہئے اور اسی کے بارے میں سوچنا چاہئے۔بشکریہ: ادریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...