پیر , 19 نومبر 2018

مجرم عمران کو کوٹ لکھپت جیل میں علی الصبح پھانسی دے دی گئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور کی ننھی زینب اور کئی معصوم بچیوں کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا، مجرم عمران کو کوٹ لکھپت جیل میں علی الصبح پھانسی دی گئی، مجرم نے زینب کے علاوہ 8 بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سفاک مجرم عمران علی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے ڈیتھ سیل میں رکھا گیا تھا، قصور کی ننھی زینب سمیت دیگر بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والا سفاک مجرم عمران علی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ ننھی کلیوں کی زندگیوں سے کھیلنے والےمجرم کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دیدی گئی۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل، مجسٹریٹ، ایگزیکٹوسٹاف، میڈیکل افسران، ننھی زینب کے والد محمد امین، 2 چچا اور ایک ماموں بھی موجود تھے۔

لاہور: زینب کے قاتل کو پھانسی دے دی گئی

لاہور: زینب کے قاتل کو پھانسی دے دی گئی

Gepostet von Iblagh News am Mittwoch, 17. Oktober 2018

سفاک قاتل کی لاش آدھا گھنٹہ تختہ دار پر جھولتی رہی۔ ڈاکٹرز کی جانب سے موت کی تصدیق کیے جانے کے بعد سفاک قاتل کی نعش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ پھانسی کے بعد مقتولہ زینب کے والد امین انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجرم عمران کو پھانسی معمولی سزا ہے، ہمیں انصاف مل گیا، اگر سرعام پھانسی دی جاتی تو مجرم عبرت کا نشان بن جاتا۔

اہلخانہ سے ملاقات:
پھانسی سے پہلے سنگین جرم کے مرتکب شخص سے اس کے اہلخانہ کی ملاقات کرائی گئی۔ خاندان کے28 افراد نے سخت سیکیورٹی میں آخری ملاقات کی۔ مجرم عمران علی سے اہلخانہ کی آخری ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ مجرم عمران علی بند کمرے میں موجود رہا اور اہلخانہ کو باہر کھڑکی سے صرف ہاتھ ملانے کی اجازت دی گئی تھی۔ ملاقات کا وقت 45 منٹ متعین تھا لیکن اہلخانہ کی درخواست پر 15 منٹ مزید دے دئیے گئے۔

واضح رہے کہ 5 جنوری کو زینب گھر سے اغوا ہوئی، اور اسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا جس کی نعش اعظم روڈ قصور سے کچرے کے ڈھیر میں پڑی ملی تھی۔ درندگی کے اس بھیانک واقعے پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ قصور شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔

بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور پولیس کو جلد از جلد قاتل کی گرفتاری کا حکم دیا۔ 23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت قصور کی 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔ اگلے ہی ماہ یعنی 17 فروری کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور کی 7 سالہ زینب سے زیادتی و قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت سنا دی تھی، جسے ملکی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل قرار دیا گیا تھا۔

 

یہ بھی دیکھیں

فرانس:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، خاتون ہلاک

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں ‘یلو ...