بدھ , 21 نومبر 2018

ایران کی طرف پلٹ آنے کی سعودی آمادگی!

(بقلم: احمد نیک نام)
(ترجمہ: فرحت حسین مہدوی)
مسٹر ٹرمپ نے جتنا چاہا سعودیوں کو لوٹا؛ کھربوں ڈالر کا اسلحہ انہیں زبردستی فروخت کیا 460 ارب ڈالر کا ہتھیاروں کا سودا کیا اور ساتھ ہی ان کی تحقیر، تذلیل اور توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا؛ پھر سعودیوں نے ایک عجیب غلطی کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنے حامی صحافی جمال خاشقجی کو سعودی قونصلیٹ کے اندر بلوا کر اغوا یا درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کیا جس کے بعد امریکی صدر نے پہلی بار سعودیوں کو شدید سزا کی وعید دے کر آخرکار سعودیوں کی میٹھی نیندوں کو خوفناک سپنوں میں تبدیل کر دیا۔ (1)

جیسا کہ میں پہلے بھی لکھتا رہا ہوں اور بہت سے ہم فکر تجزیہ نگاروں کی بھی رائے ہے کہ سلامتی کے حوالے سے ریاض کا واشنگٹن پر اعتماد کرنا اور درنوئی طور پر (Endogenously) سلامتی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں علاقائی صلاحتیوں کو نظر انداز کرنا، سعودی عرب اور علاقے کی سلامتی کی ضمانت نہيں دے سکے گا اور اس سلسلے میں بہترین راستہ، علاقے کے مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور اس مسئلے کا ادراک ہے کہ امن و سلامتی کو نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی درآمد کیا جا سکتا ہے۔

بنی سعود پر حالیہ ایک سال سے شدید تنقید کرنے والے صحافی جمال خاشقجی کے اغوا یا قتل کے واقعے سے پہلے تک، ٹرمپ نے درمیانی مدت کے انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے اپنی بھنیا پن پر مبنی پالیسیوں کی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے سعودی عرب کی مثال دیتے رہے اور اس تیل کی دولت سے مالامال اس ملک کے سلسلے میں تذلیل آمیز الفاظ کے ساتھ بروئے کار لا کر، اس ملک سے امریکہ کو حاصل ہونے والی آمدنی کی مثال دیتے اور کہتے رہے کہ "سعودی عرب ایک شیردار گائے ہے اور ہم اسے دوہتے رہیں گے اور جب اس کا دودھ سوکھ جائے گا تو اسے ذبح کریں گے”۔

ٹرمپ نے شاہ سلمان کی حکومت کے لئے "شیردار گائے” کا لفظ استعمال کیا اور یہ بات سب کو جتا دی کہ "ہمارے لئے محض سعودی تیل کی دولت اہمیت رکھتی ہے اور مزید کچھ نہیں”۔ امریکی صدر نے بدھ 3 اکتوبر 2018ع‍ کو میسیسیپی کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: "ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں؛ یقینا آپ کہیں گے کہ وہ صاحب ثروت ہیں، البتہ میں شاہ سلمان کو دوست رکھتا ہوں تاہم میں نے ان سے کہا کہ اے بادشاہ! ہم تمہاری حفاظت کرتے ہیں، آپ ہماری حفاظت و حمایت کے بغیر دو ہفتے بھی قائم نہیں رہ سکتے ہو چنانچہ تمہیں ہماری حفاظت کے اخراجات ادا کرنا پڑیں گے”۔

انھوں نے اس سے بھی تین پہلے 30 ستمبر 2018ع‍ کو سعودی بادشاہ کی اعلانیہ توہین کرتے ہوئے شاہ سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں نے میں بادشاہ سلمان سے کہا: "آپ کے پاس کھربوں ڈالر دولت ہے، اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مدد کے بغیر نہ جانے کیا مصیبت سعودی بادشاہت پر نازل ہو گی؛ حتی تم اپنے طیارے کو بھی محفوظ نہیں رکھ سکو گے کیونکہ اس پر حملہ ہو گا”۔

جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کئی بار علاقائی کھلاڑیوں کو تعاون کا ہاتھ بڑھایا کیونکہ مشرق وسطی کی سلامتی اور علاقائی بحرانوں کا حل علاقائی کھلاڑیوں کی باہمی تعاون اور علاقے کے اندرونی صلاحیتوں اور امکانات و وسائل ہی کا سہارا لے کر کی صورت میں ہی ممکن ہے اور جیسا کہ مختلف حادثات اور بحرانوں میں ثابت ہوا ہے، بیرونی طاقتون کا سہارا لینا اور علاقے کے اندرونی تعاون کی طرف عدم توجہ، نہ صرف بحرانوں کے حل کا سبب نہیں بنتی بلکہ بحران کی کیفیت وسیع سے وسیع تر اور علاقائی کشمکش اور تناؤ میں شدت آنے کا باعث بنتی ہے۔

اب بنی سعود کے موجودہ ولیعہد نیز سعودی ـ یہودی تعاون پر شدید تنقید کے حوالے سے شہرت پانے والے مشہور عرب صحافی جمال خشقجی منگل 2 اکتوبر 2018ع‍ کو استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوئے تو بنی سعود کی حکومت کو ٹرمپ کی بےحرمتیوں سے بھی زیادہ بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے اور اس بار سعودیوں نے سابقہ شرمناک خاموشی کو توڑ کر امریکی صدر کی "سخت سزا” کی دھمکی کا نرم سے جواب دے دیا اور ٹرمپ کی دھمکی کے ایک روز بعد سعودی ٹی وی چینل "العربیہ” کے ایک ڈائریکٹر "ترکی بن عبداللہ الدخیل” نے امریکہ کو دھمکی دی کہ "ریاض کے پاس بھی واشنگٹن کا مقابلہ کرنے اور صدر ٹرمپ کا جواب دینے کے لئے متعدد سبیلیں موجود ہیں۔ الدخیل نے اتوار 14 اکتوبر 2018ع‍ کو العربیہ چینل کی ویب گاہ پر انگریزی زبان میں ایک یادداشت لکھ کر ریاض کے پاس کی مقابلہ کی روشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچانا اور ڈالر کو چھوڑ کر دوسری کرنسیوں کی طرف رخ کرنا نیز ایران کے مقابلے میں موجودہ سعودی رویہ تبدیل کرنا، ان ہی روشوں میں سے ہیں۔

الدخیل نے واضح کیا کہ "ممکن ہے کہ تیل کی قیمت ڈالر کے بجائے چینی یوآن جیسی کسی متبادل کرنسی کی بنیاد پر متعین کی جا سکتی ہے۔ تیل آج کی تاریخ میں اہم ترین پیداوار ہے جو ڈالر کے بدلے فروخت کیا جاتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوا تو مشرق وسطی کا پورا خطہ ایران کے قابو میں آئے گا جبکہ ایران کا سعودی عرب کے ساتھ قریبی ہو گا”۔

اگرچہ دوسرے دن، الدخیل کے پیغام سے پیدا ہونے والے تنازعے کے پیش نظر (سوموار کے روز) امریکہ میں سعودی سفیر کے مشیر اعلی "فیصل بن فرحان” نے ٹویٹ پیغام میں العربیہ چینل کے ڈائریکٹر کی دھمکی آمیز یادداشت کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا اور لکھا کہ یہ سعودی حکومت کا موقف نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ العربیہ کے ڈائریکٹر کی یادداشت بنی سعود کی اطلاع اور منظوری کے بغیر شائع نہیں ہوئی ہے اور اس کا مقصد امریکی دھمکیوں کے جواب میں واشنگٹن کو پیغام پہنچانا تھا، کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔

بےشک استنبول کے سعودی قونصلیٹ سے خاشقجی کا لاپتہ ہو جانا، ایک ناپسندیدہ اور نفرت انگیز عمل ہے لیکن ریاض کے پیغام اور ٹرمپ کی دھمکیوں پر اس کا ردعمل بظاہر ایران کی طرف پلٹ آنے کے رجحان کا پتہ دیتا ہے، جس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ریاض کے حکام اپنے ذہن کے کونوں کھدروں میں بڑی طاقتوں کے مقابلے میں اسلامی ممالک کے آپس کے تعاون کی طاقت اور مثبت اثرات سے واقف ہیں اور یہ اعلانیہ اعتراف اسلامی اقوام کے درمیان اتحاد اور تعاون کی طرف چل نکلنے کی طرف ایک اشارہ ہے۔ (2)

علاقائی اور بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق:
*عالم اسلام کی مجموعی آبادی ڈیڑھ ارب نفوس پر مشتمل ہے اور مسلمانوں کی آبادی دنیا بھر کی مجموعی آبادی کا پانچواں حصہ (one-fifth) ہے۔

* مشرق ایشیا سے لے کر مغربی افریقہ اور جنوبی یورپ تک 57 ممالک پر مشتمل ہے۔

٭ انڈونیشیا کے جاوا کے جزائر سے لے کر مغربی افریقہ کے آخری نقطے تک، تک مسلم ممالک کا جغرافیائی طول 15000 کلومیٹر ہے اور اس کا جغرافیائی عرض (width) قزاخستان کے انتہائی شمالی نقطے سے سوڈان کے انتہائی جنوبی نقطے تک 6000 کلومیٹر ہے۔

٭ مسلم ممالک ایشیا، افریقہ اور یورپ میں موجود ہیں، اور یورپ اور براعظم امریکہ کے تمام ممالک میں کروڑوں مسلمان قیام پذیر ہیں۔

٭ امت مسلمہ نہ صرف عالمگیر بھی ہے اور دنیا بھر کی تمام اقوام و قبائل سے تعلق رکھتی ہے۔

* اسلامی ممالک وسائل کے لحاظ سے دنیا کے غنی ترین علاقوں میں سے ہیں اور توانائی کے 75 فیصد ذخائر عالم اسلام میں واقع ہیں اور یہ ذخائر پوری دنیا کی صنعت کو حرکت میں لاتے ہیں۔

* عالم اسلام کا جغرافیائی اور تزویری محل وقوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے، بہت سے سمندروں اور آبناؤں کا مجموعہ ہے: خلیج فارس، آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحر قلزم اور نہر سوئز جیسے علاقے عالم اسلام کے کنٹرول میں ہیں اور ان آبناؤں اور سمندری راستوں کی بنا پر بھی [اور تیل کی بنا پر بھی] عالمی معیشت اور بڑی طاقتوں کی نظریں ان علاقوں پر لگی ہوئی ہیں۔

ایک طرف سے بڑی طاقتیں اپنے جھگڑے مشرق وسطی اور خلیج فارس جیسے تزویری علاقوں میں لڑا کرتی ہیں اور دوسری طرف سے ان ہی کی شرارتوں کی بنا پر مسلم ممالک کے درمیان بھی بےشمار تنازعات موجود ہیں اور ان وجوہات کی بنا پر عالم اسلام کمزور پڑ گیا ہے اور پھر مغربی ممالک اور ان کی طرف کی معاشی پابندیاں بھی ـ جو بعض اسلامی ممالک کو درپیش ہیں ـ ان مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔

چنانچہ اسلامی ممالک کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے، مؤثر اور منطقی اقتصادی پالیسیاں وضع کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے، آپس کے تعاون کو تقویت پہنچانا چاہئے، تا کہ عالمی سطح پر اپنی طاقت اور کردار کو مستحکم کرسکیں اور امت کی عظمت کے تناسب سے مؤثر عالمی کردار ادا کر سکیں؛ اور یہ سب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک مفاہمت کی راہ اختیار کریں، اختلافات کو ختم کریں اور طاقتور صنعتی اور تجارتی ڈھانچے فراہم کریں۔

1۔ ٹرمپ کی ایک خالی خولی دھمکی نے سعودی عرب کی زد پذیری کو ثابت کر دیا اور بازار حصص میں شدید مندی دیکھنے میں آئی اور سعودی تاجروں کے درمیان شدید خوف اور مایوسی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ اور پھر ٹرمپ نے سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ بات چیت کی تو ٹویٹر پیغام میں لکھ ڈالا کہ خاشقجی کو غالباً کسی سرکش گروپ نے قتل کر دیا ہے اور سلمان بےگناہ ہیں! جس کے بعد حالات بہتر ہوئے جس نے بنی سعود کی زد پذیری کو مزید تقویت پہنچائی اور ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی کہ "سعودی حکومت امریکی حمایت کے بغیر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی”۔ گو کہ سی آئی کے سابق ڈی جی جان برنان (John O. Brennan) نے واضح کیا ہے کہ بادشاہ سلمان کی ذہنی اور جسمانی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ خاشقجی کے اغوا یا قتل جیسے مسئلے کے بارے میں خاطر جمعی سے کوئی فیصلہ یا کوئی بات کر سکیں اور خاشقجی کا قتل یا اغوا بن سلمان کے حکم سے ہی انجام پایا ہے۔

2۔ مضمون نگار نے غالباً بہت خوش فہمی کا اظہار کیا ہے ورنہ تھوڑا سا غور کیا جائے تو امریکہ گذشتہ چالیس برسوں میں سعودیوں کو ایران سے ڈرا ڈرا کر کھربوں کا اسلحہ تین کروڑ آبادی کے اس ملک کو فروخت کر دیا ہے اور حال ہی میں تو ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر عرب ممالک امریکی حمایت سے محروم ہو جائیں اور امریکی اسلحہ نہ خریدیں تو ایران صرف 12 منٹ میں پورے مشرق وسطی پر قبضہ کر لے گا!! چنانچہ الدخیل نے بھی ان ہی کا حربہ استعمال کرتے ہوئے ان ہی کے تخمینوں کا تذکرہ کر کے کہا ہے کہ "اگر ہم ایران مخالف پالیسی تبدیل کریں تو گو کہ ایران ہمارا دوست بنے گا تاہم ایران پورے خطے پر مسلط ہو جائے گا” اور یوں سعودیوں کے اس ترجمان نے امریکہ کو ایران سے خوفزدہ کر کے ان کا سعودی مخالف موقف تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...