پیر , 19 نومبر 2018

‘ہڑتال’ جس نے فلسطینیوں کو اسرائیل کےخلاف متحد کر دیا!

اگرچہ فلسطینیوں کے درمیان المناک تفریق پائی جاتی ہے مگر اس کے باوجود ایک وسیلہ ایسا بھی ہے جس میں مین فلسطینی قوم صہیونی ریاست کے خلاف متحد دکھائی دیتی ہے۔ فلسطینیوں کو اسرائیلی دشمن کے سامنے متحد کرنے والا ذریعہ "ہڑتال” ہے۔ حالیہ عرصے کی فلسطینی ہڑتالوں کی کالوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ فلسطینی قوم اسرائیلی دشمن کے خلاف اس پرامن مزاحمتی ذریعے پر متحد و متفق ہیں۔ فلسطینیوں نے دشمن کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ ان کے باہمی فروعی اختلافات اپنی جگہ مگر وہ ہڑتال کی کال پر متحد اور متفق ہیں۔

تازہ ہڑتال یکم اکتوبر کو کی گئی۔ یہ ہڑتال فلسطین کے تمام شہروں میں یکساں دیکھی گئی۔ غرب اردن، غزہ، بیت المقدس شمالی اور جنوبی فلسطین میں تمام شہرون میں اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے پر ہڑتال شروع کی گئی تھی۔ اس میں ملک کے تمام طبقات بہ شمول مذہبی اور سیاسی جماعتوں، سماجی انجمنوں، سول سوسائٹی، عرب سوسائٹیز، طلباء، اساتذہ، جامعات ، وکلاء، کاروباری طبقہ سب ایک صف میں کھڑے دکھائی دیئے۔

فلسطینیوں کی جامع ہڑتال تمام شعبہ ہائے زندگی میں دیکھی گئی۔ فلسطین کے سرکاری ادارے، کاروباری مراکز، مدارس، اسکول، جامعات، ٹریفک سب بند رہے۔ فلسطینی قوم نے ہڑتال کے ذریعے دشمن کو پیغام دیا کہ اپنے جائز حقوق اور صہیونیی ریاست کے خلاف مظالم میں ہم سب ایک ہیں۔

مگر فلسطینی قیادت؟
فلسطینی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی دشمن کے خلاف جس طرح قوم نے ہڑتال میں ‘جامعیت کبریٰ’ کا مظاہرہ کیا ہے، وہ فلسطینی قیادت کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔

الخلیل یونیورسٹی میں فلسطینی اسٹڈیز کے استاد ڈاکٹر اسعد العویوی کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم کے جذبات، عزائم اور نفسیات تیار ہیں مگر فلسطینی قیادت کو بھی اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ اگر فلسطینی قیادت متحد اور متفق ہوجائے تو وہ قوم کو میدان میں اتار سکتی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر العویوی کا کہنا تھا کہ قومی پروگرام کے لیے تمام فلسطینی قوتوں کا یکجا ہونا ہی اس وقت فلسطینی قوم کا متفقہ مقصد ہے۔ میرا خیال ہے کہ قومی یکجہتی اور اتحاد سے کوئی جماعت انکار نہیں کرے گی۔

اجتماعی انقلاب
عوامی محاذ کے رہ نما عبدالعلیم دعنا نے فلسطینی عوامی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قومیاور مذہبی کمیٹیاں تشکیل دیں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاست کے مظالم کی روک تھام اور نسل پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صفوں میں یکجہتی پیدا کریں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے دعنا کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم متحد ہو کر بہت سے توازن بدل سکتی ہے۔ سنہ 1987ء میں فلسطینی قوم تحریک انتفاضہ اولیٰ کی شکل میں متحد ہوئی۔ سنہ 2000ء میں انتفاضہ دوم کے وقت بھی فلسطینیوں میں یکجہتی دیکھی گئی۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...