بدھ , 21 نومبر 2018

ایران نئی پابندیوں کی زد میں

(ظہیر اختر بیدری)
ترقی یافتہ ملک اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کی تہذیب انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ مہذب تہذیب ہے، اگرکسی تہذیب میں انسانی جانوں کا احترام نہ ہو اور انسانوں کو اسی پابندیوں میں جکڑا جائے جو انسانوں کی جان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں تو ایسی تہذیب کو مہذب تہذیب نہیں بلکہ وحشیانہ تہذیب ہی کہاجاسکتا ہے۔ دنیا کے عوام اپنے مسائل حل کرنے کے لیے ادارے بناتے ہیں۔ان میں اقوام متحدہ سرفہرست ہے۔ اقوام متحدہ سے جڑے اداروں میں ایک ادارہ ’’عالمی عدالت انصاف‘‘ ہے۔ امریکا ایران پر تسلسل کے ساتھ پابندیاں عاید کر رہا ہے۔ ان میں ایک تازہ پابندی یہ ہے کہ امریکا نے ایران کو دوائیں، طبی آلات اور اشیائے خوردنی سپلائی کرنے پر پابندی عائد کردی ہے چونکہ مغربی ملکوں کے مفادات مشترک ہیں لہٰذا ان پابندیوں پر عمل در آمد ناگزیر ہے۔

عالمی عدالت انصاف نے امریکا کو یہ غیر انسانی پابندیاں ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے جواب میں امریکی آمروں نے ایران سے چار دہائی پرانے معاہدے کو منسوخ کردیا ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے اپنے ایک مشترکہ فیصلے میں کہا ہے کہ امریکا کو ایران میں دواؤں، طبی آلات، اشیا خوردنی کی بیرونی ممالک سے ٹرانسپورٹ پر عائد پابندیاں ختم کرنا چاہیے کیونکہ یہ انسانی جانیں بچانے کا معاملہ ہے۔ اسی طرح جہازوں کے پرزہ جات کی در آمد پر لگائی گئی پابندیاں بھی ہٹانا چاہیے کیونکہ اس سے بھی انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ عالمی عدالت انصاف اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے جس کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی لیکن اقوام متحدہ کے قوانین بنانے والوں کی انسانیت کو داد دیجیے کہ اپنے ہی فیصلوں پر عمل در آمد کا عالمی عدالت کے پاس نہ کوئی میکنزم موجود ہے نہ اختیار ۔ اس مجبور محض عالمی عدالت کا حال بھی اقوام متحدہ جیسا ہے جو فیصلے کرتی ہے لیکن ان فیصلوں پر عمل در آمد اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔ اختیار بڑے اور نامور اداروں کے بنانے کا مقصد دنیا کے عوام کو دھوکا دینے کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔

ایران پر عرصہ دراز سے اس تواتر کے ساتھ اقتصادی پابندیاں لگائی جارہی ہیں کہ ایرانی عوام کا زندہ رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ دنیا کی کوئی وحشی قوم بھی کسی ملک سے اختلاف کے نتیجے میں ایسی پابندیاں نہیں لگاسکتیں جو دنیا کی سب سے مہذب ہونے کی دعویدار امریکی حکومت نے ایران پر لگائی ہیں۔ بلاشبہ امریکا دنیا کا ایک ترقی یافتہ ملک ہے لیکن اس کا عمل افریقہ کے وحشی قبائل سے بھی بد تر ہے اور حیرت ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی علمبردار ملک کے ترقی یافتہ عوام اپنے حکمرانوں کے بربریت پر اظہار نفرت کرتے نظر نہیں آتے۔ رہا امریکا کا دانشور طبقہ، مفکرین اور فلسفی عملاً مردہ ہوکر رہ گئے ہیں جو امریکی حکمرانوں کی ایٹمی ہتھیارکی جاپانی شہروں پر استعمال سے ایران پر پابندیوں تک کسی ظلم پر ایسا احتجاج کرسکے جو موثر ثابت ہوسکے۔

امریکا کے ایران سے براہ راست ایسے کوئی تنازعات نہیں جن کے جواب میں وہ ایران کے خلاف ایسی غیر انسانی پابندیاں لگائے۔ امریکی حکمران دنیا کے آزاد اور خود مختار ملکوں پر یہ ظلم اسرائیل کی حمایت پر ڈھاتے ہیں، وہ اسرائیل جو آئے دن فلسطینیوں کا قتل عام اس جرم میں کرتا آرہا ہے کہ فلسطینی اپنے رہنے کے لیے وہ ملک مانگ رہے ہیں جو طاقت کے زور پر ان سے چھین لیا گیا ہے۔ ایران ایک جمہوری ملک ہے اور عرب ملکوں کی اکثریت خاندانی بادشاہتوں پر مشتمل ہے لیکن تماشا یہ ہے کہ جمہوریت کا عالمی چیمپئن ایک جمہوری ملک کا جینا دو بھر کررہاہے اور اسی خطے کے شاہوں کی حفاظت کے لیے وہاں اپنی فوجیں لگا رکھا ہے۔

امریکا کی تاریخ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے سرخ ہے، امریکا نے سب سے بڑا قتل عام جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم برساکرکیا جس میں لاکھوں بے گناہ جاپانی مرد عورت بچے بوڑھے سب جل کر خاک ہوگئے۔ اس کے بعد امریکا نے کوریا کی جنگ میں بے گناہ کوریائی عوام کو قتل کرنے کا موقع فراہم کیا۔اس کے بعد امریکا ویت نام پر چڑھ دوڑا۔ ویت نام کے عوام پر بیتے جانے والے مظالم سے ویت نامی خواتین اس بری طرح متاثر ہوگئیں کہ وہ ویت نام سے ترک وطن کرکے بنکاک چلی گئیں۔

امریکی حکمران اپنے مفادات کے لیے ایک بلا پیدا کرتے ہیں اور وہ عفریت جب ان کے قابو سے باہر ہوجاتا ہے تو اس کے خاتمے کے لیے دنیا کی مدد کے لیے محتاج ہوتے ہیں۔ افغانستان سے روسی قبضے کو ختم کرنے کے لیے امریکی حکمران اپنی فوج کو استعمال کرنا نہیں چاہتے تھے جس میں بڑی قتل و غارت گری یا امریکی نقصان کا خطرہ تھا سو انھوں نے پاکستان کے ایک سربراہ کو استعمال کرکے روس کو افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے لیکن آخر میں انھیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ روس سے جنگ کا تجربہ رکھنے والوں کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ وہ دہشت گردی کے ذریعے دنیا کو اپنا مطیع بناسکتے ہیں۔ سو دنیا میں وہ دہشت گردی پیدا ہوئی جس نے لاکھوں انسانوں کو قتل کردیا۔

اب امریکا اپنے تیار کردہ اس بلا سے خوفزدہ ہے اور اپنے مخالفین پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگاکر طرح طرح کے ظلم کررہاہے۔ ایران سے امریکا کی اصل لڑائی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر ہے، اگر ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرتاہے تو اسرائیل کی بقا کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے، ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے امریکی حکمران ایران پر جو وحشیانہ پابندیاں لگارہے ہیں، وہ جدید دنیا کی تاریخ کا ایسا شرمناک باب ہے جس پر آنے والی نسلیں بھی لعنت ہی بھیج سکتی ہیں۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...