بدھ , 21 نومبر 2018

11 شواہد جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بن سلمان خاشقجی کے قتل میں ملوث ہیں

(تسنیم خیالی)
سعودی صحافی جمال خاشقجی کے لاپتہ یا پھر قتل ہونے کا معمہ 16 دن گزرجانے کے بعد بھی اب تک حل نہیں ہو پایا، کہا تو یہ جارہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حکم پر خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں ہی قتل کر کے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے ہیں،سعودی عرب کی جانب سے ان باتوں کو افواہ اور حکومت کے خلاف سازش کہا جارہا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب تک یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ خاشقجی واقعی میں مارے گئے ہیں یا نہیں اور یہ بھی ثابت نہیں ہوا ہے کہ خاشقجی کے قتل ہونے کی صورت میں آیا بن سلمان ملوث ہے یا نہیں،ہاں یہ بات ضرور ہے کہ خاشقجی دو اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد اب تک باہر نہیں آئے ہیں۔

اگرچہ اب تک یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ بن سلمان خاشقجی کے ممکنہ قتل میں ملوث ہیں،البتہ 11 ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بن سلمان ہی خاشقجی کے معاملے میں کسی نہ کسی طرح ملوث ہیں اور اس ممکنہ قتل کا حکم اسی نے دیا ہے۔

1۔خاشقجی کا معاملہ امریکہ میں موجود سعودی سفارت خانے سے شروع ہوا تھا جہاں سے خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے سے رجوع کرنے کے لیے کہا گیا،یہاں بن سلمان کے چھوٹے بھائی اور امریکہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کا اہم کردار تھا، جس نے خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے بھجوایا۔

2۔خاشقجی کے ممکنہ طور پر قتل کے جرم میں پندرہ سعودی افراد کا نام سامنے آیا ہے جو قونصل خانے میں خاشقجی کے داخل ہونے کے کچھ عرصہ بعد داخل ہوئے تھے ان افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد کے خاص آدمی ہیں اور ان میں سے کچھ ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہیں۔

3۔جن دو طیاروں کے ذریعے یہ 15 افراد ترکی میں داخل ہوئے تھے وہ طیارے بن سلمان کے ذاتی طیارے ہیں۔

4۔اغواء اور ممکنہ طور پر قتل کی واردات استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں وقوع پذیر ہوئی۔

5۔بن سلمان کے مشیر خاص سعود القحطانی نے کئی مرتبہ جھانسہ دے کر خاشقجی کو سعودی عرب واپس لانے کی کوشش کی تھی۔

6۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک خبر میں کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کی اطلاعات کے مطابق خاشقجی کو قتل کردیا گیا ہے اور یہ قتل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر کیا گیا ہے۔

7۔خاشقجی کے معاملے پر شروع دن سے ہی سعودی میڈیا کا موقف انتہائی عجیب اور شک و شبہ کا باعث بنا ہوا ہے اور اس میڈیا پر آنے والی باتیں اور شائع ہونے والے بیانات منطق سے بالاتر تھے۔

8۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور مشیر خاص سعود القحطانی کا منظر عام سے غائب رہنا اور گو کسی قسم کے بیان بازی سے اجتناب کرنا اور دوسری جانب امریکہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کا سعودی عرب واپس آجانا۔

9۔سعودی حکام کی معاملے میں سست روی اور کافی عرصے تک ترک تفتیش کاروں کو جائے وقوعہ یعنی سعودی قونصل خانے تک رسائی کی عدم فراہمی۔

10۔خاشقجی کے معاملے سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اپنے مخالفین اپوزیشن رہنماوؤں اور ناپسندیدہ افراد کے ساتھ مجرمانہ سلوک کے شواہد موجود ہیں جیسا کہ ’’الحوالی اور سلیمان الدویش‘‘ جیسے اپوزیشن رہنماوؤں کا قتل اور لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کے اغواء جیسے واقعات بن سلمان کی مجرمانہ مزاج کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

11۔استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کے سربراہ یعنی سعودی قونصل محمد العتیبی کا سعودی عرب فرار ہوجانا،وہ ترک حکام کی جانب سے ان کی رہائش گاہ کی تفتیش سے چند گھنٹے قبل سعودی ایئرلائن کے ذریعے فرار ہوئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...