پیر , 19 نومبر 2018

بن سلمان نے مغرب کو مایوس کر دیا

اسرائیلی صحافی ایال زیسر (ترجمہ تسنیم خیالی)
صرف چند ہفتے قبل یوں لگ رہا تھا کہ ترکی اور امریکہ کے باہمی تعلقات امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کے بعد ختم ہونے جارہے ہیں،اس کے مقابلے میں یہ سوچا جارہا تھا کہ سعودی عرب ہی وہ ملک بننے جارہا ہے جس کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر امریکہ مشرق وسطیٰ کے علاقے کے حوالے سے اپنی پالیسیاں ترتیب دے گا۔

البتہ حالیہ کے آخری دنوں میں ترکی پھر سے امریکہ کی بانہوں میں واپس جارہا ہے اور سعودی عرب ٹرمپ کے ساتھ تصادم کی راہ پر چل پڑا ہے جس کی وجہ سے سعودیوں کا استنبول میں واقع اپنے قونصل خانے میں جمال خاشقجی کو قتل کرنا ہے جو سعودی حکمران خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتا تھا، قتل کرنے کے بعد انہوں نے خاشقجی کی لاش چھپا دی اور اب امریکہ کی قیادت میں عالمی برادری سعودی عرب سے وضاحت کا مطالبہ کررہی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان اپنے حریفوں پر سیاسی حملہ کرنے اور ایک قسم کی کشیدگی پیدا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، البتہ انہوں نے بھی اپنے لیے کچھ سرخ لکیریں کھینچ رکھی ہیں جنہیں وہ کبھی پار نہیں کرتے، اسی بنا پر ہی ترکی نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کی اصل وجہ اس امریکی پادری کو رہا کردیا ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ ترکی کی اسرائیل کے ساتھ جاری موسمی ناراضگی ابھی بہت جلد ختم ہوجائے گی۔

مغرب والوں کو سب سے زیادہ حیران کرنے والے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں جو مکمل طور پر ترکی میں قتل ہونے والے جمال خاشقجی کے قتل کے واقعہ میں ملوث ہیں، اس واقعہ سے بن سلمان کا اپنے بارے میں قائم کردہ تصور(کہ وہ تبدیلی اور آزادی پسند شخص ہیں) کو چکنا چور کردیا ہے اور اب ان کے حوالے سے غیر معمولی سوالات نے جنم لے لیا ہے۔

جون 2017ء میں بن سلمان کی بطور سعودی ولی عہد تقرری کے بعد بن سلمان سعودی عرب کی سب سے بڑی امید بن بیٹھے،مغرب کی نظروں میں وہ سعودی عرب کو قرون وسطیٰ سے اکیسویں صدی کی طرف لے جارہے ہیں،شروعات اچھی تھی،بن سلمان نے وژن 2030ء کا اعلان کیا اور سعودی عرب کو جدید ترین ریاست بنانے کا منصوبہ تیار کیا،بن سلمان نے اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کردیا،سعودی خواتین پر عائد متعدد پابندیاں ہٹا دیں،ایران کے مدمقابل مضبوطی سے کھڑے ہوگئے اور اسرائیل کے حوالے سے حیران کن نرم گوشی دکھائی۔

البتہ پختگی اور تجربہ بغیر تکلیف کے نہیں ملتے،کئی مرتبہ ثابت ہوا کہ بن سلمان جلد باز،غیر تجربہ کار اور سوچتے نہیں،وہ یمن میں ایرانی اثرورسوخ کے خلاف متحرک ہوئے جو بظاہر جائز وجہ ہے،البتہ اس کی خاطر سعودی عرب ایک دردناک اور بہت ہی مہنگی جنگ میں ڈوب گیا ایک ایسی جنگ جس کا خاتمہ نظر نہیں آرہا ۔

اس کے علاوہ بن سلمان نے لبنانی وزیراعظم سعدالحریری کو اغواء کیا جسے بالآخر چھڑانے کے بعد واپس لبنان پہنچا دیا گیا اور اب سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ منظر عام پر آیا ہوا ہے۔بظاہر تو اس قسم کی کارروائی علاقے کے بہت سے ممالک میں عام سی بات ہے بلکہ ان ممالک کے باہر بھی نظام یا پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے صحافی یا پھر اپوزیشن رہنما غائب یا پھر قتل کردیے جاتے ہیں۔

بہر حال یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ روشن دنیا کا حصہ ہے تو اسے اس روشن دنیا کے کچھ قوانین یاد رکھنے چاہیں، یہ سب کچھ ہونا چاہیے اور اپنے طور طریقے اور سلوک میں بہتری لانی چاہیے، یہ سب کچھ استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں نہیں ہوا اور اب صورت حال یہ ہے کہ سعودیوں سے ان کے تمام تر جرائم کا حساب مانگا جارہا ہے۔

آخر میں اس معاملے کا درمیانہ حل ضرور ہوگا جس کے ذریعے اس معاملے کو ختم کیا جائے گا، سعودی قتل کا اعتراف کر لیں گے، البتہ وہ یہ دعویٰ کریں گے ک ہ اس واقعہ کے ذمہ دار نچلے سطح کے لوگ ہیں اور سعودی عرب ان افراد کو کڑی سے کڑی سزا بھی دے گا، اس کے باوجود سعودی عرب کے اتحادی اور چاہنے والے جنہیں محمد بن سلمان سے بہت توقعات وابستہ ہیں بن
سلمان سے مایوس ہوئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...