پیر , 19 نومبر 2018

جمال خشوگی… کیا کہیں؟

(ایاز امیر)

کچھ ہماری مجبوریاں ہیں ، کچھ ہمارے حالات کا تقاضا کہ چند ایک ممالک کا ہم کھل کے ذکر نہیں کر سکتے ۔ لیکن کچھ ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ چپ نہیں رہا جا سکتا۔ ضمیر سویا بھی ہو تو کچھ کہنے پہ مجبور کرتا ہے۔

یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ کسی کام کے سلسلے میں کوئی شخص کسی ملک کے سفارت خانے یا قونصلیٹ میں قدم رکھے اور پھر اُس کا اَتا پتا نہ چلے اور وہ گم ہو جائے ۔ گویا اُس نے قدم کیا رکھا اُس کا وجود ہی صفحۂ ہستی سے مٹ گیا ۔ اور کچھ عذر بھی نہ پیش ہو سکے کہ ہوا کیا ۔ اندر قدم رکھنے کے ثبوت تو کیمروں میں موجود ہوں لیکن باہر جانے کی نشانی کچھ نہ ہو۔ یہی کچھ صحافی جمال خشوگی کے ساتھ استنبول میں ہوا۔ وہ باقاعدہ اپوائنٹمنٹ کے ساتھ اپنے ملک کے قونصلیٹ میں گیا ۔ اُس کی ترک منگیتر باہر انتظار کرتی رہی لیکن جمال خشوگی وہاں سے پھر نمودار نہ ہوا۔

ترک حکام نے اس واقعے کا بہت نوٹس لیا اور اَب تک شور مچا رہے ہیں کہ غائب ہونے والے صحافی کا کچھ پتا چلے‘ لیکن قونصلیٹ والوں یا اُن کی حکومت کی طرف سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں آ رہا۔ تشویش کی لہر عالمی سطح پہ پھیل چکی ہے اور مذکورہ ملک کی بادشاہت سے سوال پوچھے جا رہے ہیں لیکن جواب ہو تو سامنے آئے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ شاہی خاندان سے قریبی تعلقات ہیں‘ لیکن امریکی صدر کو بھی کہنا پڑا ہے کہ جس بات کا شک کیا جا رہا ہے وہ سچ ثابت ہوئی تو اُس کی سزا ضرور ملے گی۔ جس کے جواب میں شاہی حلقوں نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کے خلاف پابندیاں لگائی گئیں تو جواباً اُن کا ملک بہت کچھ کر سکتا ہے۔ پابندیوں کا راستہ امریکہ نے اختیار کیا تو اپنی معیشت کی کمر میں خود چھرا گھونپے گا۔

شک یہ ہے کہ جمال خشوگی کو مار دیا گیا ہے اور اُس کے اعضاء کو کاٹنے کے بعد ضائع کر دیا گیا ۔ جس زاویے سے بھی دیکھا جائے یہ بہت گھناؤنا الزام ہے‘ کیونکہ سفارت خانے اور قونصلیٹ ایک طرف رہے، ایسا ہمارے تھانوں میں بھی نہیں ہوتا ۔ ہمارے تھانوں میں تشدد روا رکھا جاتا ہے لیکن ایسا شاذ ہی ہوا ہو کہ کوئی پاکستانی کسی تھانے میں گیا ہو اور وہاں سے غائب ہو گیا ہو‘ اور تھانے والے بتانے سے قاصر ہوں کہ اُس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ ایسے واقعات ضرور ہوتے رہتے ہیں کہ تھانے کے کسی کمرے میں کوئی مرا ہوا ملا ہو اور اُس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اُس نے گلے میں پھندا ڈال کے خود کشی کر لی ہے ۔ یہ بھی ہوا ہے کہ کسی تھانے یا تفتیشی مرکز میں کسی زیرِ حراست شخص نے اُوپر کی منزل سے چھلانگ لگا لی ہو۔

جعلی مقابلے ہمارے ہاں عام ہیں ۔ لیکن جہاں ایسی واردات ہو وہاں پورا ڈرامہ رچایا جاتا ہے کہ فلاں جگہ ملزم کو لے جا رہے تھے ، اُس کے ساتھیوں نے حملہ کیا اور مقابلے میں ایک شخص یا زیادہ مارے گئے ۔ لیکن جتنا بڑا ڈرامہ بھی رچایا جائے ملزم یا مشتبہ کی لاش بیشک گولیوں سے چھلنی ہو یا تشدد کے نشانات جسم پہ نمایاں ہوں ، موجود ہوتی ہے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ لاش ہی نہ ملے اور کہا جائے کہ ملزم تو تھانے سے غائب ہو گیا ۔ لیکن یہ کارنامہ استنبول میں سرانجام دیا گیا‘ اور دنیا سراپا احتجاج ہے ۔ مذکورہ بادشاہت پریشان تو ہو گی لیکن کمزور عذروں کے علاوہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں۔

یہ درد ناک صورتحال اِس بات کی علامت ہے کہ جہاں ایسا واقعہ ممکن ہو وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ نہ کوئی ضابطہ ہے نہ کسی حدود کی پروا۔ اِس واقعے سے مذکورہ بادشاہت کی پوزیشن بہت خراب ہوئی ہے ۔

جو ممالک اُس کے روایتی حمایتی ہیں ، بشمول امریکہ، وہاں بھی سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں ۔ چپ ہے تو دنیائے اسلام میں ۔ ترکی اور اُس کے صدر طیب اردوان نے ضرور تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن سوائے قطر کے باقی عالمِ اسلام نے چپ سادھی ہوئی ہے ۔ قطر میں بھی الجزیرہ ٹی وی ہے جو اِس واقعے اور اِس کے عالمی ردِ عمل کو رپورٹ کر رہا ہے ۔ اِس کے علاوہ کچھ نہیں۔ پاکستان اپنی مجبوریوں اور نزاکتوں کی وجہ سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا اور حکومتی سطح پہ جو پہلا ذِکر اِس واقعے کا آیا‘ اُس میں یہی کہا گیا ہے کہ ترکی اور مذکورہ ملک کی مشترکہ تفتیش سے بہتری کی اُمید کی جاتی ہے ۔ اِس سے زیادہ کچھ کہنے کے ہم متحمل نہیں۔

مذکورہ ملک اور بادشاہت کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات ہیں۔ ریاستی سطح پہ کئی بار اِس عزم کا اعادہ کیا جا چکا ہے کہ اُس ملک کا داخلی استحکام ہمیں اِتنا ہی عزیز ہے جتنا کہ اپنا ۔ ایسی صورتحال کے پیش نظر یہ قدرتی اَمر ہے کہ پاکستان کبھی نہ چاہے گا کہ مخصوص تعلقات کے حامل ملک کو کسی دشواری یا مشکل کا سامنا ہو۔ یمن کی جنگ اُس ملک کا مسئلہ ہے لیکن پاکستان کیلئے بھی پریشانی کا سبب بنی جب ہم سے تقاضا ہوا کہ ہم کھل کے اُن کا ساتھ دیں ۔ ایسا ہم کر نہیں سکتے تھے کیونکہ جہاں ایک طرف دوست ملک تھا تو دوسری طرف ایران تھا اور اِن دونوں میں کچھ بیلنس رکھنا ہماری ضرورت ہے ۔ پاکستان نہ ایک طرف زیادہ جھک سکتا ہے نہ دوسری طرف۔

حالیہ دِنوں میں مذکورہ ملک کے داخلی استحکام کے بارے میں بھی سوال اُٹھے ہیں ۔ شاہی خاندان کا حکمرانی چلانے کا ایک مخصوص انداز رہا ہے۔ شاہی خاندان کے تمام حصوں کو ملا کے معاملات چلائے جاتے تھے ۔ شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد اس نازک بیلنس کو برقرار نہ رکھا گیا اور مذکورہ ملک کی ماڈرن تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ کسی نامزد ولی عہد کو زبردستی اپنی پوزیشن سے ہٹایا گیا۔ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ بڑے پیمانے پہ شاہی خاندان کے نامور افراد کو کرپشن کے الزام پہ حراست میں لیا گیا ۔

ایک اور واقعہ سے بھی عالمی سطح پہ تشویش پیدا ہوئی ۔ لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کو مذکورہ ملک میں بلایا گیا اور پھر کچھ وقت کیلئے اُن کو تقریباً حراست میں رکھا گیا۔ ایسا تو ہٹلر نے بھی کبھی نہ کیا۔ آسٹریا کے چانسلر اور پھر چیکوسلوواکیا کے صدر کو مختلف طریقوں سے ڈرایا دھمکایا گیا کہ وہ جرمنی کے مطالبات مانیں لیکن اُنہیں حراست میں نہیں لیا گیا۔ سعد حریری کو زبردستی ٹی وی پہ آ کے ایک تقریر جو اُن کے ہاتھ میں تھمائی گئی پڑھنی پڑی ۔ اُن کی گلو خلاصی تب ممکن ہوئی جب فرانس کے صدر ایمنول مکرون ہنگامی طور پہ مذکورہ ملک آئے اور اپنے ساتھ سعد حریری کو لے گئے ۔

اِن سب واقعات سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ بادشاہت نے بیک وقت بہت سے محاذ کھول لیے ہیں ۔ کچھ اندرونی اور بیشتر بیرونی ۔ ایران سے تو دشمنی ہے ہی ۔ لیکن قطر کو بھی تنہا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایک نسبتاً معمولی مسئلے پہ کینیڈا سے تعلقات خراب کر دئیے گئے ۔ یمن کی جنگ جاری ہے اور دوست ملک وہاں فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا۔ یہ سب چیزیں چل رہی تھیں اور دوست ملک کے شاہی خاندان کو زیادہ فکر نہ تھی کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہو چکے تھے ۔

امریکہ سے تعلقات تو ہمیشہ ہی اچھے تھے لیکن اُن میں ایک ذاتی عنصر بھی آ گیا تھا ۔ لیکن جمال خشوگی کے معاملے نے سب کچھ کھٹائی میں ڈال دیا ہے اور عالمی سطح پہ دوست ملک کو اُس طوفان اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اُس نے پہلے نہیں دیکھا۔

یہ معاملہ مزید بگڑ بھی سکتا ہے ۔ ترک حکام کی طرف سے ایسی خبریں لیک ہوئی ہیں کہ اُن کے پاس جمال خشوگی کے انجام کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے ۔ اگر ایسی کوئی ریکارڈنگ ہیں اور وہ منظر عام پہ آ جاتی ہیں تو دوست ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ خرابی کہاں سے شروع ہوئی ؟ لارڈ ایکٹن (Lord Acton) کا وہ مشہور قول یاد آتا ہے کہ طاقت کرپٹ کرتی ہے اور مکمل طاقت مکمل کرپٹ کرتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...