بدھ , 21 نومبر 2018

فرانس اور دہشت گردی کی تجارت

(تحریر: محمد قادری)

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے بارے میں نیوز چینل فرانس 24 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "یہ کہنا غلط ہے کہ آج سعودی عرب خاص شعبے میں فرانس کے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔ ایسی بات درست نہیں۔ ہمارے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تعلقات دو طرفہ اعتماد پر استوار ہیں۔ یہ تعلقات اہم ہیں جو تجارتی نوعیت کے نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی ان دو ممالک کے تعاون سے آگے بڑھ رہی ہے۔” فرانسیسی صدر کا یہ بیان بعض اہم نکات کا حامل ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فرانس میں انجام پانے والے تازہ ترین سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں عوام کی اکثریت سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کی مخالف ہے۔ لیکن اس کے باوجود فرانسیسی حکام مغربی اور جنوب مغربی ایشیا میں "دہشت گردی کی تجارت” جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تحقیقاتی ادارے "یو گوو” (You Gov) کی جانب سے انجام پانے والے سروے کے نتائج کے مطابق فرانس کے 75 فیصد شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحہ بیچنا بند کر دے اور ان دونوں ممالک کی حمایت بھی کم کر دے۔ دوسری طرف ایمانویل میکرون، لودریان اور دیگر حکومتی عہدیداران اپنے شہریوں کے اس مطالبے پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور آل سعود رژیم کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں اہم نکتہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی جانب سے یہ مضحکہ خیز دعوی ہے کہ وہ سعودی عرب کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایمانویل میکرون اور دیگر مغربی حکمرانوں کی نظر میں دہشت گردی کا مصداق وہ بے گناہ یمنی عوام ہیں جن کے قتل ہونے کی خبر روزانہ خطے اور دنیا کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح فرانسیسی حکام سعودی عرب کی جانب سے بحرین میں فوجی مداخلت اور بے گناہ بحرینی شہریوں کے قتل عام سے بھی اچھی طرح باخبر ہیں لیکن ان کی نظر میں اسلحہ کی تجارت اور اس سے حاصل ہونے والا سود ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی جانب سے پیرس، ریاض اور ابوظہبی کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کا دعوی اس قدر ناقابل اعتماد اور مضحکہ خیز ہے کہ ان کے قریبی ترین افراد بھی اس کی تصدیق نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے ان تینوں ممالک کو دہشت گردی کا مخالف قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ ان میں سے ہر ملک مغربی ایشیا میں جاری دہشت گردی کا حقیقی حامی تصور کیا جاتا ہے۔ اگلا مسئلہ فرانس کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سیاسی حمایت سے متعلق ہے۔ فرانس ان چند ممالک میں سے ایک ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق حاصل ہے۔ فرانس نے ہمیشہ اپنے ویٹو کے اختیار کو آل سعود کی آمر رژیم کے حق میں استعمال کیا ہے اور عالمی سطح پر اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا ہے۔ یمن میں سعودی عرب کی جانب سے انجام پانے والی جنگی جرائم پر بارہا عالمی اداروں میں آواز اٹھی لیکن اسے طاقت اور پیسے کے زور پر دبا دیا گیا۔ فرانس اور مغربی طاقتیں سعودی ڈالرز کے بدلے میں اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں پر سعودی حکومت کی مذمت نہیں ہونے دیتے۔

فرانس، امریکہ اور برطانیہ نے ہمیشہ سے آل سعود کی مجرم رژیم کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔ سارکوزی، اولاند اور میکرون جیسے صدور مملکت کے دور میں فرانس نے ہمیشہ مغربی ایشیائی اقوام کے خلاف ظلم کا ساتھ دیا ہے اور خطے میں سکیورٹی بحران ایجاد کرنے والی قوتوں کی حمایت کی ہے۔ فرانسیسی حکام مغربی اور جنوب مغربی ایشیائی خطے میں بدامنی اور سکیورٹی بحران ایجاد کر کے اپنی مداخلت کا مستقل بہانہ فراہم کرنے کے درپے ہیں۔ اس مقصد میں پیرس، واشنگٹن اور لندن کے درمیان بہت قریبی تعاون جاری ہے۔ لہذا ایمانویل میکرون اور الیزہ محل کے دیگر عہدیداران مغربی ایشیائی خطے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے انجام پانے والے تمام مجرمانہ اقدامات میں برابر کے شریک ہیں۔ انہیں اس بارے میں عالمی رائے عامہ کو جواب دینا ہو گا۔ فرانسیسی صدر کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر مغرب میں انسانی حقوق کے دعویداروں کے حقیقی چہرے فاش کر دیئے ہیں۔ یہ بیان ٹھیک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی رائے عامہ یمن میں آل سعود رژیم اور متحدہ عرب امارات کے جنگی جرائم سے شدید بیزاری کا اظہار کر رہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان ویزوں کے خاتمے کا جزوی معاہدہ

کوالالمپور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور ملائیشیا میں ویزوں کے خاتمے کا جزوی معاہدہ،مشترکہ اعلامیہ جاری ہو ...