بدھ , 21 نومبر 2018

بیمار قوم کے امیر مسیحا

(محمد عرفات اختر) 
شہر کے ایک معروف چوراہے سے گزرتے ہوئے اچانک ایک بڑے ہورڈنگ پر جلی حروف میں ’’خوشخبری‘‘ لکھا نظر آیا تو لاشعوری طور پر بورڈ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ بورڈ پر ایک بڑے شہر کے مشہور ڈاکٹر صاحب کی ہمارے شہر کے لیے خدمات کی خوشخبری دی گئی تھی جو اگلے ہی چوک میں بنے پرائیویٹ اسپتال کی عالیشان عمارت میں مریضوں کا علاج فرمائیں گے۔

ترقی یافتہ ممالک شاید ہمیں محاورتاً بیمار قوم کہتے ہیں مگر جب اپنے چھوٹے سے شہر میں بنے ایک بڑے سرکاری اسپتال اور لاتعداد پرائیویٹ اسپتالوں میں عوام کا جم غفیر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم تو حقیقتاً بیمار قوم بن چکے ہیں۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں بیماریاں اس قدر منافع بخش ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر صاحبان دکھی انسانیت کی خدمت کرتے کرتے چند سال میں مالی لحاظ سے اس مقام پر جا پہنچتے ہیں کہ جہاں عام آدمی شاید اچھا بزنس ایمانداری سے کرتے ہوئے عمر بھر نہ پہنچ سکے۔

بدقسمتی سے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپنے بیٹے یا بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخل کروانے والا باپ اپنے بچوں کی تعلیم پر ہونے والے بھاری اخراجات کو ’’انویسٹمنٹ‘‘ سمجھ کر اسے سود سمیت واپس وصول کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی جو اپنا نزلہ بخار ٹھیک کروانے کے لیے اسپتال چلا جاتا ہے، آہستہ آہستہ ایک منافع بخش گاہک کی صورت اختیار کر جاتا ہے جو اپنی باقی بچ جانے والی عمر میں اپنی محنت کی کمائی کا ایک مخصوص حصہ ’’صحتی بھتے‘‘ کی صورت میں اس منافع بخش انڈسٹری کو دینے پر مجبور ہوتا ہے۔

بلا شبہ درد سے تڑپتا ہوا انسان جب اپنے ہی جیسے انسان ’’مسیحا‘‘ کے ہاتھوں راحت پاتا ہے تو وہ مسیحا اس انسان کو خدا کا روپ ہی نظر آتا ہے مگر خدا کی صفت ’’مسیحا‘‘ سے معنون مسیحاؤں سے کیوں انسانیت کو کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچ رہا؟ آخر کیوں ہر عام آدمی اس عظیم خدائی پیشے سے وابستہ مسیحاؤں کے نام تک سے خوفزدہ ہے؟

میں اپنے قابل احترام مسیحاؤں سے یہی التماس کروں گا کہ خدارا ان اینٹوں پتھروں اور سیمنٹ سے بنی عالیشان عمارتوں کو، جن کا شاید انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں، تعمیر کرتے وقت یہ ضرور سوچیے کہ کہیں ان دیواروں میں لگی اینٹوں کے ساتھ ساتھ کسی مجبور کی سسکیاں تو نہیں چُنی گئیں۔ اس چمکتے دمکتے ماربل میں کسی مجبور کے خون کے رنگ کی آمیزش تو نہیں ہو گئی؛ اور اس انتہائی پائیدار سیمنٹ میں کسی درد سے بلکتے ہوئے انسان کی کراہیں تو شامل نہیں ہو گئیں؟

آخر میں بلاشبہ میں اس عظیم شعبے سے وابستہ ان خدا نما عظیم انسانوں کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں بھولوں گا جو ذاتی اور مالی مفادات کے بجائے صرف اور صرف دکھی انسانیت کی خدمت میں مگن ہیں؛ مگر افسوس کہ ایسے عظیم لوگ صرف ’’آٹے میں نمک‘‘ کے برابر ہیں لیکن بلاشبہ وہ ﷲ تعالی کے ہاں بڑے اجر کے حقدار ہیں۔ بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...