پیر , 19 نومبر 2018

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)
ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ملکی تقدیر کے حل پیش کرنا اور چیز ہے، مگر عملی طور پر ایسا کرنا پڑ جائے تو سیاست کے انداز ہی نہیں بدلتے بلکہ ہاتھ پاؤں بھی پھول جاتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے۔ ڈپریشن ایسی بری بیماری ہے، جو فرد بہ فرد پھیلتی آہستہ آہستہ پورے سماج کو لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ مجھے تو کم از کم یہی لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت عجلت میں فیصلے کر رہی ہے، جس کے باعث اسے ندامت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور کہیں فیصلوں کو واپس بھی لینا پڑ رہا ہے۔ حتیٰ کہ وہ وعدے اور دعوے تو ابتدائی دنوں میں ہی ہوا ہو چکے ہیں، جو کنٹینر پر چڑھ کر کئے جاتے تھے۔ سوشل میڈیا کا زمانہ معلومات کے بہاؤ کا زمانہ ہے، لیکن اس کا دوسرا رخ بھی ہے۔ سوشل میڈیا سیاسی و نجی انتقام کا وحشیانہ پلیٹ فارم بھی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اب تحریک انتقام بن چکی ہے۔ ان کی اس بات پر بحث کی بہت گنجائش موجود ہے۔یہ الزام البتہ تحریک انصاف پر اس قدر جلدی کیوں لگا؟ اس کی ذمہ دار بھی تحریک انصاف خود ہی ہے۔

گردش ایام کا رخ اگر دو سال پیچھے کی طرف کیا جائے تو یہی تحریک انصاف، یہی اسد عمر اور فرنٹ لائن کے دیگر پی ٹی آئی کے رہنما ملک کو بحران سے نکالنے کے جادوئی حل پیش کیا کرتے تھے۔ لیکن مہنگائی کے سونامی نے ثابت کیا کہ پی ٹی آئی کے پاس دعوے تو بہت تھے، مگر حکومت کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہ تھی۔ تحریک انصاف یہ فرض کئے بیٹھی تھی کہ جونہی عمران خان وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے تو بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے "ہیرو” وزیراعظم پر ڈالروں کی برسات کر دیں گے۔ ایسا ہوتے ہی ملکی خزانہ بھر جائے گا اور ہمیں کسی عالمی مالیاتی ادارے کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا بلکہ ہم دنیا جہان سے برابری کی سطح پر بات چیت کریں گے اور تیسری دنیا کے بیشتر ممالک اپنی اقتصادیات کی بحالی کے لئے پاکستانی امداد کے منتظر رہا کریں گے۔ بارہا لکھا کہ زمینی حقائق مگر بڑے تلخ اور بے رحم ہوتے ہیں۔

حکومت ایک دن کہتی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا، دوسرے دن کہا جاتا ہے "ممکن” ہے کہ ہمیں عالمی مالیاتی ادارے کے پاس نہ جانا پڑے۔ ہمیں یاد ہے کہ اسد عمر ٹی وی پر بیٹھ کر بڑے اہتمام سے پیٹرول کی طلب، رسد، قیمت خرید اور فروخت پر لیکچر دیا کرتے اور پھر اس کا حل بھی بتاتے تھے کہ ہم حکومت میں آ کر پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کو کم ترین سطح پر لائیں گے۔ یہی اسد عمر تھے، جنھوں نے ایک کروڑ نوکریوں کا نعرہ مستانہ بلند کیا تھا۔ پچاس لاکھ گھر تعمیر کر کے شہریوں کو دینے کی بات کی تھی۔ عجلت میں حکومت نے پانچ اضلاع کے لئے پانچ لاکھ گھروں کی سکیم کا اعلان بھی کر دیا۔ کیا پیسوں کے بغیر گھر تعمیر ہو جائیں گے؟ کہا گیا تھا کہ ہم ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے، یہ ٹیکس والا نیٹ بڑھتا ہوا پھر سے غریب کی گردن کے گرد تنگ ہو گیا ہے۔ بجلی کے بلوں نے خوش فہموں کے بھی "کس بل” نکال دیئے ہیں۔ اب نئے خوابوں کی نئی تعبیر کے پیچھے چھوڑا جا رہا ہے۔ یعنی چھ سے آٹھ ماہ بعد ملکی معیشت سمیت سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا۔ کیا واقعی ایسا ہو جائے گا؟ قطعی ممکن نہیں۔ بے نامی اکاؤنٹ سامنے آنے سے خزانے کو کیا فائد ہپہنچ رہا ہے؟ حکومت یہ بتانے سے تو قاصر ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی، تحریک انصاف کی جارحیت اور حکومت میں بیٹھ کر اپوزیشن کے لہجے میں بات کرنے کو بڑی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں اور شاید اسی لئے سات سمندر پار پاکستانی، وزیراعظم عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے نظر نہیں آ رہے۔ جزوی باتیں اگرچہ کالم میں ذکر کی ہیں۔ چارج شیٹ تو لمبی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے آتے ہی ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا، جس سے عام آدمی کی زندگی سہل ہونے کا اشارہ ملے۔ کوئی ایسا پروگرام، کوئی ایسی بات جس سے عام آدمی کی آمدن بڑھنے کے امکانات ہوں۔ زبانی جمع خرچ میں پی ٹی آئی کا کوئی ثانی نہیں۔ اس نکتے پر پوری قوم تحریک انصاف کی ہمنوا ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس آنی چاہیئے۔ لٹیروں کو سزا ملنی چاہیئے، مگر یہ سب کرتے ہوئے انتقام کی بو نہ آئے۔ تحریک انصاف کے اندر بھی تو ایسے لوگ بیٹھے ہیں، جن پر کیسز ہیں؟ ایک اخبار نویس کی حیثیت سے عام آدمی کی رائے معلوم کی تو جوشیلے انصافی بھی قدرے مایوس اور پریشان نظر آئے۔

کیا یہ سچ نہیں کہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے عوامی رائے کے پلٹنے کی نوید سنا دی ہے۔ پی ٹی آئی اپنے اندرونی اختلافات، کنٹینرز پر کئے گئے وعدوں کی تکمیل اور یورپی طرزِ جمہوریت جیسے جھمیلوں میں سے کیا کرے اور کیا چھوڑے؟ اسی شش و پنج میں ہے، ووٹر مگر نتیجہ چاہتا ہے، وعدہ نہیں۔ عمران خان صاحب کو اتنا تو پتہ چل گیا ہو گا کہ حکومت کرنا الگ چیز ہے اور جذبات انگیخت کرنا ایک دوسری چیز۔ اب بھی وقت ہے، حکومت غیر ضروری جھمیلوں میں پڑنے کے بجائے براہ راست عام آدمی کی آمدن بڑھانے اور اس کا معاشی بوجھ کم کرنے کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کرے۔ بصورت دیگر دو سال بعد پی ٹی آئی کے کئی پرندے نئی آنے والی حکومت کی منڈیر پر بیٹھے ہوں گے اور یہی گیت سناتے پائے جائیں گے کہ ملک کو بحران سے نکالنے کا حل اب بھی ہمارے پاس ہے، لیکن ہمارا "کپتان” کسی کی بات نہیں سنتا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...