پیر , 19 نومبر 2018

خاشقجی کے قتل کے انتظامات کس نے کیے؟

(تسنیم خیالی)
آہستہ آہستہ اور انتہائی سست روی سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے حقائق سامنے آتے جا رہے ہیں، ترک انتظامیہ اگرچہ اپنی تحقیقات زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہے، التبہ معاملے کی سنگینی اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے ترک انتظامیہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔

خاشقجی کے قتل کے انتظامات اور تمام تر سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ترک ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس گھناؤنے کام کو سرانجام دینے کے ماہر عبدالعزیز مطرب نامی شخص نے اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ شخص سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے انتہائی قریبی اور خاص افراد میں شمار ہوتا ہے۔

مطرب نے ہی جمال خاشقجی کے قتل کی کارروائی کے تمام تر انتظامات کیے تھے۔ خاشقجی کے قتل کے روز مطرب نے 19 فون کالز کی تھیں جن میں سے 4 کالز بن سلمان کے سیکرٹری کے آفس کے لیے ملائی گئیں تھی۔

خاشقجی کو قتل کرنے کے لیے 15 سعودی افراد 2 خصوصی طیاروں کے ذریعے استنبول آئے تھے اور ان دو طیاروں کا انتظام اور بندوبست ماہر عبدالعزیز مطرب نے ہی کیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی کہا ہے کہ ترک حکام جمال خاشقجی کے معاملے میں ملوث متعدد افراد کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اخبار کے مطابق ملوث افراد میں سب سے پہلا نام ماہر عبدالعزیز مطرب کا ہے جو کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے ذاتی گارڈز میں سے ایک ہیں اور 2007 میں لندن میں واقع سفارت خانے میں بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

دوسرا شخص عبدالعزیز الہوساوی ہے جو کہ بن سلمان کے ذاتی گارڈز میں سے ایک ہیں جبکہ تیسرے شخص کا نام ذعار غالب الحربی ہے جو کہ ایک فوجی ہے جسے جدہ میں شاہی محل پر گزشتہ سال حملے کے بعد بہادری اور شاہی محل کے دفاع کرنے پر ترقی دی گئی۔

چوتھے شخص کا نام محمد سعد الزھرانی ہے جو کہ سعودی رائل گارڈ کا آفیسر ہے، الزھرانی ترکی میں کسی اور شخص کے پاسپورٹ کے ذریعے داخل ہوا تھا۔

اس واقعے میں ملوث پانچویں شخص کا نام ڈاکٹر صلاح الطبیقی ہے جو کہ اناتومی سپیشلسٹ ہے اور سعودی فارنزک ادارے میں عہدے پر فائز ہے۔

قطری نیوز چینل الجزیرہ نے ترک ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے صلاح الطبیقی نے ہی سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کیے تھے، الجزیرہ کے مطابق خاشقجی کے قتل کی کارروائی کو 7 منٹ لگے اور الطبیقی نے لاش کے ٹکڑے کرنے سے قبل اپنے ساتھیوں کو موسیقی سننے کی تلقین کی۔

ترک ذرائع کے مطابق خاشقجی کو سعودی قونصل محمد العتیبی کے سامنے انہی کے آفس میں قتل کیا گیا اور سات منٹ بعد العتیبی سے آفس سے باہر جانے کو کہا گیا جبکہ قاتل لاش کے ساتھ آفس میں ہی موجود رہے۔

ترک ذرائع کے مطابق خاشقجی کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی تفتیش نہیں کی گئی، انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زہر آلودہ ٹیکے کے ذریعے قتل کر کے ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...