پیر , 19 نومبر 2018

بن سلمان کی جگہ کون لے سکتا ہے؟

(تسنیم خیالی)
سعودی صحافی جمال خاشقجی کے معاملے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اگر سعودی عرب کی بات کی جائے تو اس معاملے نے سعودی عرب کی بنیادوں کو ہی جھنجھوڑ دیا ہے کیونکہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ خاشقجی کو انتہائی درندگی سے قتل کیا گیا ہے اور اس قتل کا ذمہ دار سعودی ولی شہزادہ محمد بن سلمان ہے، اب بن سلمان کی ولایتی عہدی خطرے میں پڑی گئی ہے۔

اس ضمن میں برطانوی اخبار دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ اگر بن سلمان خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ممکن ہے کہ بن سلمان کے چھوٹے بھائی اور امریکہ میں متعین سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کو محمد بن سلمان کی جگہ ولی عہد مقرر کیا جائے اور یہ بھی بعید از امکان نہیں کہ سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کو پھر سے ولی عہد مقرر کیا جائے۔

توقع یہی ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان ولی عہد کا عہدہ اپنے ہی خاندان میں رکھیں گے، شہزادہ خالد اپنے بھائی محمد سے تین سال چھوٹے ہیں اور محمد کے علاوہ خالد کے اور بھی بڑے بھائی موجود ہیں جن میں سے بعض کو سیاسی تجربہ حاصل ہے البتہ ان بھائیوں کا کہیں بھی ذکر نہیں اور نہ ہی وہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔

دیکھا جائے تو بن سلمان کو کسی بھی سعودی ولی عہد سے زیادہ صلاحتیں دی گئیں اور وہ باقیوں کی نسبت مخالفین کو خاموش کرنے میں سب سے آگے ہیں اور بلاشبہ جمال خاشقجی کا قتل بن سلمان کو لے ڈوبے گا، خاص طور پر کہ اب امریکیوں کو بھی یقین ہو گیا ہے کہ اس قتل کا حکم بن سلمان نے ہی دیا تھا۔

امریکہ اور برطانیہ کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات انتہائی گہرے اور مضبوط ہیں، واشنگٹن اور لندن کو ریاض پر تیل کی ترسیل اور ایران سے مقابلہ کرنے کے معاملے میں اعتماد ہونے کے ساتھ ساتھ اشد ضرورت ہے اور اگر سعودی عرب کے استحکام پر کسی قسم کی کوئی آنچ آتی ہے تو اس کے اثرات سبھی پر پڑ سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے مغربی اتحادی اس بات سے مطمئن ہوں گے کہ سعودی عرب میں معاملات پہلے جیسے ہوں البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آل سعود خاندان کے بوڑھے افراد ہی اقتدار پر براجمان ہوں، اس وقت شاہ سلمان کی عمر 82 سال ہے جبکہ ان کے بھائی احمد بن عبدالعزیز کی عمر 76 سال ہے اور سب سے چھوٹے بھائی مقرن کی عمر 73 سال ہے اور یہ مغربی اتحادی نہیں چاہتے کہ اقتدار عمر رسیدہ افراد کے ہاتھوں میں ہو، لہٰذا ہو سکتا ہے کہ معاملات پہلے جیسے ہونے سے مراد آل سعود کی وہ نسل جس کی نمائندگی 59 سالہ سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کر رہے تھے جسے ہٹا کر بن سلمان اقتدار پر قابض ہوئے۔

سعودی عرب میں آل سعود خاندان میں سنجیدگی سے اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں آل سعود خاندان کی بیعت کمیٹی کا خفیہ اجلاس بھی ہوا ہے تا کہ نائب ولی عہد یا پھر ولی عہد کے ولی عہد کا انتخاب کیا جائے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ اگر اس منصب پر محمد بن سلمان کے بھائی خالد بن سلمان کا انتخاب کر لیا جاتا ہے تو موجودہ ولی عہد یعنی محمد بن سلمان آنے والے وقت میں عہدہ چھوڑ دیں گے، یہاں یہ بات ضروری ہے کہ ایسا فوری طور پر نہیں ہو گا بلکہ کچھ وقت لگے گا اور اس طرح اقتدار شاہ سلمان کے خاندان کے پاس ہی رہے گا اور یہی شاہ سلمان کی اولین ترجیح ہے۔

لیکن اگر بعیت کمیٹی نائب ولی عہد کے لیے آل سعود کی شاخوں میں شاہ سلمان کی شاخ کے علاوہ کسی اور شاخ سے شہزادہ منتخب کرتی ہے تو بن سلمان اپنا عہدہ نہیں چھوڑیں گے اور خاشقجی کے معاملے سے بھی اس کی جان چھوٹ جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...