جمعرات , 15 نومبر 2018

پاکستان کے تیرہویں صدر ڈاکٹر عارف عبد الرحمٰن علوی کی مختصر سوانح حیات

تاریخ پیدائش: 29 اگست 1949 (69 سال)
جائے پیدائش : کراچی
والد: حبیب الرحمٰن الٰہی علوی
شریک حیات: ثمینہ علوی
تعداد اولاد: 4
مادر علمی: پیسفک یونیورسٹی، مشی گن یونیورسٹی، ڈی مونٹمورنسی کالج آف ڈینٹسٹری
پیشہ: دندان ساز، سیاست دان

ابتدائی زندگی اور تعلیم:
صدر مملکت 29 جولائی 1949ء کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ کچھ ذرائع کے مطابق وہ 29 اگست 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، جبکہ کچھ ذرائع کے مطابق وہ 1947ء میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے دندان ساز تھے جو پاکستان کے قیام کے بعد کراچی ہجرت کر کے آئے تھے۔ کراچی آ کر عارف علوی کے والد نے صدر ٹاؤن میں ڈینٹل کلینک کھولا تھا۔ ان کے والد حبیب الرحمان الٰہی علوی سیاسی طور جماعت اسلامی پاکستان سے منسلک تھے۔

کراچی سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، وہ سنہ 1967ء میں مزید تعلیم کے حصول کے لیے لاہور آ گئے۔ انہوں نے ڈی مونٹمورنسی کالج آف ڈینٹسٹری، لاہور سے ڈینٹل سرجری میں بیچلر (بی ڈی ایس) کی سند حاصل کی اور سنہ 1975ء میں مشی گن یونیورسٹی سے پروستھوڈونٹکس میں ماسٹرز کیا۔ سنہ 1984ء میں سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف پیسفک سے ارتھوڈانٹکس میں ماسٹرز کیا۔ پاکستان واپس آنے کے بعد انہوں نے دندان سازی پریکٹس کرنا شروع کی اور علوی ڈینٹل ہسپتال قائم کیا۔عارف علوی نے ثمینہ علوی سے شادی کی تھی جن سے ان کے چار بچے ہیں جو خود بھی شادی شدہ ہیں۔

پیشہ ورانہ زندگی:
سنہ 1997ء میں عارف علوی امریکن بورڈ آف ارتھوڈانٹکس کے سفیر بنے۔ انہوں نے پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن کا آئین تیار کیا اور اس کے صدر بنے۔ سنہ 1981ء میں وہ پہلی پاکستان انٹرنیشنل ڈینٹل کانفرس کے چیئرمین اور 28ویں ایشیا پیسفک ڈینٹل کانگریس کے چیئرمین بنے۔ وہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے شعبہ ارتھوڈانٹکس کے ڈین رہے۔ سنہ 2006ء میں وہ ایشیا پیسفک ڈینٹل فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے اگلے سال وہ ایف ڈی آئی ورلڈ ڈینٹل فیڈریشن کے کونسلر بنے۔

سیاسی زندگی
عارف علوی نے سیاسی زندگی ایک پولنگ کارندے کے طور پر شروع کی اور ایک مذہبی جماعت میں شامل ہو گئے۔ ڈی مونٹمورنسی کالج آف ڈینٹسٹری سے تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں وہ اسٹوڈنٹ یونین کے متحرک رکن تھے۔ وہ جماعت اسلامی پاکستان کے یوتھ وِنگ اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک تھے اور بعد میں کالج کے اسٹوڈنٹ یونین کے صدر بنے۔ اپنے ابتدائی ایام میں وہ ایوب خان نظام حکومت کے مخالف تھے اور سنہ 1969ء میں مال روڈ، لاہور کے مقام پر ایوب خان مارشل لا کے خلاف کرفیو کے دوران میں احتجاج کرنے پر انہیں دو مرتبہ گولیاں لگیں جن کے نشانات آج بھی ان کے جسم میں پیوست ہیں۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے 7 جنوری 1977ء کو انتخابات کا اعلان کیا تو وہ ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک ہو گئے۔ انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے 1979ء میں کراچی سے سندھ صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن بھی لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ سنہ 1988ء میں انہوں نے جماعت اسلامی کو خیر آباد کہہ دیا اور سیاست چھوڑ دی۔ عارف علوی کا کہنا ہے کہ پارٹی چھوڑنے کی وجہ ان لوگوں کے سیاست کے تئیں تنگ نظریہ پر میری خودداری ہے اور انہوں نے ہمیشہ یہ مانا ہے کہ ”ایماندار قیادت ہی پاکستان کے مسائل کا حقیقی حل ہے۔“

سنہ 1996ء میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور ان کا شمار پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں ہوتا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کی جماعت کے آئین کی تیاری میں شریک تھے۔ سنہ 1996ء میں وہ پی ٹی آئی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ایک سال کے لیے رکن بنے اور سنہ 1997ء میں وہ پی ٹی آئی سندھ کے صدر بن گئے۔

عارف علوی نے سندھ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے بطور پی ٹی آئی امیدوار حلقہ پی ایس-89 (کراچی جنوبی 5) سے پاکستان کے عام انتخابات، 1997ء میں شرکت کی، لیکن ناکام رہے۔ انہوں نے 2002 ووٹ حاصل کیے اور سلیم ضیاء سے نشست ہار گئے۔

سنہ 2001ء میں وہ پی ٹی آئی کے نائب صدر بنے۔ اس کے بعد سندھ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے پاکستان کے عام انتخابات، 2002ء میں حلقہ پی ایس-90 (کراچی-2) سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے لیکن ناکام رہے اور صرف 1276 ووٹ حاصل کر سکے اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار عمر صادق سے نشست ہار گئے۔

عارف علوی 2006ء سے 2013ء تک پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل رہے۔ عارف علوی نے پہلی بار پاکستان قومی اسمبلی کی نشست پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر پاکستان کے عام انتخابات، 2013ء میں حلقہ این اے-250 (کراچی-12) سے جیتی۔ انہوں نے 77659 ووٹ حاصل کیے اور خوش بخت شجاعت کو شکست دی۔ 2013ء کے انتخابات میں علوی واحد پی ٹی آئی امیدوار تھے جو سندھ سے منتخب ہوئے۔ 2016ء میں، وہ پی ٹی آئی سندھ چیپٹر کے صدر منتخب ہوئے۔

قومی اسمبلی کی نشست کے لیے پاکستان کے عام انتخابات 2018ء میں این اے-247 (کراچی جنوبی-2) سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے اور دوبارہ منتخب ہو گئے۔ انہوں نے 91020 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مدِ مقابل تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار سید زمان علی جعفری کو شکست دی۔

18 اگست 2018ء کو پاکستان تحریک انصاف نے انہیں صدر پاکستان کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا تھا۔ وہ 4 ستمبر 2018ء کو پاکستان کے صدارتی انتخابات، 2018ء میں تیرہویں صدرِ پاکستان منتخب ہوئے۔ انہوں نے 352 ووٹ حاصل کیے اور فضل الرحمٰن (184 ووٹ) اور اعتزاز احسن (124 ووٹ) کو شکست دی۔ صدر منتخب ہونے پر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان اور سیاسی اتحاد کا ان کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ 5 ستمبر 2018ء کو انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفی دے دیا۔

وہ دنیا کے اب تک کے دوسرے دندان ساز ہیں جنہیں صدارت کا منصب ملا، پہلے ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف ہیں۔ وہ تیسرے پاکستانی صدر ہیں جن کا خاندان تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے بھارت سے پاکستان آیا۔

چین کے صدر شی جن پنگ اور امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی نے عارف علوی کو صدراتی انتخابات میں ملنے والی کامیابی پر مبارک باد دی اور امید ظاہر کی ہے کہ نئی قیادت کے دور میں پاک چین اور پاک قطر تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔

9 ستمبر 2018ء کو عارف علوی نے تیرہویں صدر مملکت کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا، اس سے قبل ممنون حسین اس منصب پر فائز تھے۔ 17 ستمبر 2018ء کو انہوں نے قومی اسمبلی میں بطور صدر پہلا خطاب کیا۔

یہ بھی دیکھیں

دوھرا معیار

الوقت نیوز (ترجمہ تسنیم خیالی) ایک بندہ قتل ہوا تو پوری دنیا کہہ رہی ہے ...