بدھ , 21 نومبر 2018

کیا اس زہر کا بھی کوئی علاج کرے گا؟

(محمد اظہارالحق)

پانی جو جھیلوں‘ دریائوں اور سمندر میں تھا۔ گلی کوچوں میں آ گیا ہے۔ سیوریج کا غلیظ بدبودار پانی بھی اس میں شامل ہو گیا ہے۔ کوڑے کے ڈھیر پانی میں تحلیل ہو رہے ہیں۔ گھروں سے باہر آنے والا متعفن پانی اس میں مزید شامل ہو رہا ہے۔ ہر لمحہْ ہر گھڑی! بدبو میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عفونت سنڈاس میں بدل رہی ہے۔ یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب سانس لینا محال ہو جائے گا! گندے پانی میں کوڑے کرکٹ کے ساتھ انسانی لاشیں تیرتی ملیں گی!

مذہبی اختلافات آج سے نہیں‘ اس دن سے چلے آ رہے ہیں جس دن کرہ ارض پر مذہب وجود میں آیا۔ کیا عجب انسان اور مذہب نے اس دھرتی پر ایک ساتھ زندگی شروع کی ہو!

عہدِ رسالت تمام ہوا تو ان مقدس اور برگزیدہ ہستیوں کا دور شروع ہوا جنہوں نے شب و روز رسالت مآب ﷺ کی زریں معیت میں گزارے تھے۔ یہ حضرات بھی آپس میں اختلافات رکھتے تھے۔ تعبیر کا اختلاف! توجیہہ اور تشریح کا اختلاف! نکتہ نظر کا اختلاف! مگر یہ ایک دوسرے کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔ یہ ایک دوسرے کی رائے جاننے کے لیے باقاعدہ اہتمام کرتے تھے۔

پھر ائمہ کرام کا دور آیا۔ امام ابو حنیفہ‘ امام مالک‘ امام جعفر صادق‘ امام احمد بن حنبل امام شافعی! ان میں سے کچھ ایک دوسرے کے استاد اور شاگرد بھی تھے۔ کیا مجال جو ایک دوسرے کے بارے میں کبھی ایک لفظ بھی توقیر سے گرا ہوا استعمال کیا ہو!

پھر مناظروں کا دور شروع ہوا۔ مناظرے مجادلوں اور مناقشوں کی صورت اختیار کر گئے۔ وہ مسئلے زیر بحث آنے شروع ہو گئے جو مضحکہ خیز تھے۔ یہ روایت عام ہے کہ ہلاکو خان کا لشکر جرار جب بغداد میں داخل ہو رہا تھا اس وقت بغداد کی مسجد میں علماء کرام اس موضوع پر دھواں دھار مناظرہ فرما رہے تھے کہ کوّا حلال ہے یا حرام !

شاہ ولی اللہ تک برصغیر میں کوئی دیو بندی تھا نہ بریلوی! پھر یہ مسلک وجود میں آئے۔ مسلک فرقوں میں تبدیل ہو گئے۔ اس زمانے میں غالباً فرنگی حکومت بھی یہی چاہتی تھی کہ مسلمان ترقی کا راستہ طے کرنے کے بجائے مسلکی جھگڑوں میں پڑے رہیں!

؎ ہے یہی بہتر الٰہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے

چنانچہ مسلکوں کی باہمی لڑائی فرنگی عہد میں شروع ہوئی اور پھر روز بروز‘ سال بہ سال بڑھتی رہی۔
مناظروں کا کلچرایک کنارے سے دوسرے بارڈر تک پورے برصغیر پر چھا گیا۔ سنی تھے کہ شیعہ‘ بریلوی تھے کہ دیوبندی‘ وہابی تھے کہ غیروہابی‘ سب آستینیں چڑھا کر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے۔ حکمرانی انگریزوں کے پاس تھی۔ تعلیمی اور اقتصادی ترقی کا زینہ ہندو چڑھتے رہے‘ مسلمان مذہبی گروہ بندی میں مصروف رہے۔

پھر پاکستان بنا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مسلکوں‘ فرقوں اور گروہوں سے بالاتر ہو کراقتصادی ترقی پر توجہ دی جاتی۔ عوام کے مائنڈ سیٹ کو پستی سے باہر نکالا جاتا‘ مگر ہوا یہ کہ سارا زور مذہبی منافرت پر لگا دیا گیا۔ کہا یہ گیا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘ اب یہ سوال پیدا ہو گیا کہ کس کا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ درست ہے اور کس کا غلط؟

چھوٹے بڑے مدارس اپنا اپنا ہفت روزہ اپنا اپنا ماہنامہ نکالنے لگے۔ ایسے ماہنامے‘ ایسے ہفت روزے صرف اپنے مسلک کی ترویج کرتے۔ ہر مکتب فکر اپنا جلسہ الگ کرنے لگا۔ بڑے بڑے اشتہار چھاپ کر شہر کے ہر درو دیوار پر چسپاں کئے جاتے۔

ہر عالم کو ان اشتہاروں میں مناظر اسلام لکھا جاتا۔ ان جلسوں میں ’’فریق مخالف‘‘ پر خوب لعن طعن کی جاتی۔ نعروں کی گونج آسمان تک سنائی دیتی۔ سامعین کو مشتعل کیا جاتا۔ تقریباً ہر مسلک کے کسی نہ کسی عالم پر حملہ ہوا۔

پھر کیسٹوں کا دور آیا۔ دکانوں پر جلسہ گاہوں میں لوگوں نے کیسٹوں کے ذریعے اپنے پسندیدہ عالموں کی اور مناظرہ بازوں کی تقریریں سنیں اور سنائیں۔ تاہم اب تک خیریت یہ رہی کہ متعفن پانی گلیوں کے اندر نہ آیا تھا۔ جلسوں میں وہی جاتے جن کا ’’ذوق‘‘ انہیں مجبور کرتا۔ مناظرے سننے بھی کوئی کوئی جاتا۔ زیادہ تر اہل علم ہی جاتے۔ کیسٹ ریکارڈر اور ٹیپ ریکارڈز تک رسائی بھی آبادی کے ایک تھوڑے سے حصے کی ہوتی۔

پھر آہستہ آہستہ بند ٹوٹنے لگے۔

انٹرنیٹ آ گیا۔ پھر یو ٹیوب نے اپنا سایہ کرہ ارض کے کونے کونے پر ڈال دیا۔ لیپ ٹاپ سے بات آئی پیڈ پر آئی اور آج …آج حالت یہ ہے کہ پندرہ کروڑ افراد کے ہاتھوں میں موبائل فون ہیں ان میں سے ساٹھ فیصد کے پاس دو دو موبائل فون ہیں۔ یہاں تک کہ 3 جی اور 4 جی کی تازہ ترین ٹیکنالوجی بھی چھ کروڑ افراد تک پہنچ چکی ہے! وٹس ایپ نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔

ہمارا ریکارڈ ہے کہ ہم ہر ایجاد کو اس طرح’’استعمال‘‘ کرتے ہیں کہ شیطان پناہ مانگتا ہے! لاؤڈ سپیکر کو دیکھ لیجیے۔ موبائل فونوں کے رات رات بھر کے ارزاں پیکیج دیکھ لیجیے۔ فحش مناظر والی فلمیں (پورنو گرافی) دیکھنے میں گوگل کے سروے کے لحاظ سے ہمارا ملک پہلے نمبر پر ہے!

مگر المیے کا تاریک ترین پہلو یہ ہے کہ جو مسلکی اور فرقہ وارانہ آتش بازی مناظروں‘ جلسہ گاہوں ‘مدرسوں‘ مسجدوں اور امام بارگاہوں تک محدود تھی۔ اب گھر گھر‘ ہاتھ ہاتھ‘ پہنچ گئی ہے۔ فرقہ وارانہ تقریروں کے ویڈیو کلپ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں وٹس ایپ‘ فیس بک‘ میسنجر‘ ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے رات دن ایک دوسرے کو بھیجے جا رہے ہیں!+

ان پڑھ اور نیم تعلیم یافتہ افراد یہ زہریلی تقریریں‘ یہ نعرے بازیاں یہ جوشیلے دعوے یہ فریق مخالف کو سبق سکھانے کی اپیلیں سن رہے ہیں اور شدید حد تک متاثر ہو رہے ہیں! ہر مسلک‘ ہر مکتب فکر‘ ہر فرقہ سوشل میڈیا پر یلغار کئے ہوئے ہے!

ایسی ایسی روح فرسا تقریریں گردش کر رہی ہیں کہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے اور ہڈیوں کے اندر گودا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ سو خنزیر مل کر فلاں مسلک کا ایک پیروکار بناتے ہیں۔ کوئی آدھا آدھا گھنٹہ صرف اور صرف لعنت بھیجنے میں صرف کرتا ہے۔

کوئی گارنٹی دے رہا ہے کہ فلاں مسلک کے پیرو کار دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ایک عالم دوسرے عالم کا ذکر یوں کرتا ہے کہ وہ بھونکتا ہے۔ ایک نوجوان دستار پوش اپنی سینکڑوں ویڈیو پھیلا رہا ہے اور ہر ویڈیو میں کسی نہ کسی اختلافی مسئلے کو خوب خوب اجاگر کرتا ہے۔

خدا کی پناہ! یہ لوگ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے‘ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے‘ رفع یدین کرنے‘ نہ کرنے اور اس قبیل کے درجنوں موضوعات پر اس طرح گھنٹوں صرف کر رہے ہیں جیسے یہ اختلافات کل پیدا ہوئے اور آج ان نام نہاد علما نے آخری حل پیش کرنا ہے!

یہ زہر پھیل رہا ہے۔ کیا کسی کو فکر ہے؟ کیا پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہے؟ کیا منتخب نمائندوں کو معلوم ہے کہ اس ضمن میں انہیں فوراً قانون سازی کرنی چاہیے؟

کہیں ایسا نہ ہو کہ تاخیر ہو جائے اور کل مسلمانوں کے بجائے یہ ملک سُنیوں‘ شیعوں‘ دیو بندیوں‘ وہابیوں‘ بریلویوں سے بھرا ہوا ہو اور ہر شخص دوسرے فرقے کے پیروکار کو قتل کرنے کے درپے ہو۔ آج تو صرف واعظین جلسہ گاہوں میں ٹوکے لہرا رہے ہیں ایسا نہ ہو کل ہر ویڈیو کلپ کے ساتھ پانچ پانچ سو ٹوکے بھی ایک دوسرے کو بھیجے جا رہے ہوں!(بشکریہ نائنٹی ٹو)

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...