جمعرات , 15 نومبر 2018

آئی ایم ایف کا مخمصہ

وزیر اعظم عمران خان بدھ 17 اکتوبر 2018ء کو جب پرائم منسٹر آفس میں میڈیا تنظیموں کے وفد سے ملاقات میں یہ کہہ رہے تھے کہ ’’شاید پاکستان کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس نہ جانا پڑے‘‘ تو یہ بیانیہ انکی حکومت کے پہلے دن سے مختلف سطحوں پر دہرائی جانیوالی اس حکمت عملی کا حصہ ٹھہرتا ہے جس کے تحت موجودہ منتخب حکومت نے سنگین مالیاتی بحران کے پیش نظر بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے رجوع کے آپشن کو سامنے تو رکھا ہے مگر دوست ممالک سے روابط کے ذریعے مالیاتی ادارے کے بیل آئوٹ پیکیج سے گریز کی صورتیں بھی ملحوظ رکھی ہیں۔

ایسے عالم میں، کہ متعدد ممالک اپنی مالی دشواریوں پر قابو پانے کیلئے آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کر رہے ہیں اور خود ہماری حکومتیں بھی عشروں سے آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرتی رہی ہیں، موجودہ حکومت کی بیل آؤٹ پیکیج سے گریز کی کوشش اس اعتماد و عزم کی مظہر ہے کہ وطن عزیز کو مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط سے بچاتے ہوئے مشکلات کے بھنور سے نکالا جائے گا۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز(سی پی این ای) اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وفد سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دوست ملکوں سے مشوروں اور تعاون کی درخواست کا مثبت جواب آیا ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نئی حکومت اپنی پالیسیوں سے جلد مسائل پر قابو پا لے گی اور چھ ماہ بعد اچھی خبریں ملیں گی۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ درپیش معاشی صورتحال میں موجودہ حکومت مایوسی کے پہلو نہیں دیکھتی بلکہ چیلنجوں کو قبول کرتے ہوئے وطن عزیز کو گرداب سے نکالنے کیلئے پرعزم نظر آتی ہے۔ 17 اکتوبر کو ہی وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کی معاشی صورتحال سے متعلق ایک اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے باب میں تفصیلی بریفنگ دی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نومبر کے مجوزہ مذاکرات سے متعلق حکمت عملی کو آخری صورت دی جا رہی ہے۔

ایسے وقت، کہ امریکہ آئی ایم ایف کے قرضے کے حصول کی مجبوری کو افغانستان کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور نئی دہلی واشنگٹن کے ذریعے اسلام آباد کیلئے مشکلات پیدا کرنے پر تلا ہوا ہے، پی ٹی آئی حکومت تنی ہوئی رسی پر چلتی نظر آ رہی ہے۔ 6 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جم میٹس نے نئی دہلی میں جو معاہدے کئے اور مشترکہ اعلامیے میں جو کچھ کہا گیا، اسے پاکستان کیلئے خوشگوار نہیں کہا جا سکتا۔ بدھ17 اکتوبر کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ سیکرٹری، ہینری انشر نے ولسن سینٹر میں خطاب کے دوران یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان جب تک خطے میں پالیسی تبدیل نہیں کرتا، اس پر دباؤ برقرار رہے گا۔

دوسری طرف یہ عجیب تجویز سامنے آئی کہ آئی ایم ایف اس بات کو یقینی بنائے کہ اسلام آباد کو قرض میں دیئے گئے ڈالر چین کا قرضہ بےباک کرنے کے کام نہیں آئیں گے۔ چینی دفتر خارجہ کے ترجمان لوکانگ منگل 16 اکتوبر کو واضح کر چکے ہیں کہ سی پیک معاشی بحران کا سبب نہیں دو حکومتوں کا ایسا تجارتی معاہدہ ہے جس میں شامل تمام منصوبے باہمی رضا مندی سے طے کئے گئے ہیں۔ اس منظر نامے میں پاکستان اپنے طور پر بھی بحران سے نکلنے کیلئے دوررس اقدامات کرتا نظر آ رہا ہے جن میں سادگی اور کفایت کے طریقے اختیار کرنے، درآمدات گھٹانے، برآمدات بڑھانے کی کوششیں سر فہرست ہیں۔ منی لانڈرنگ روکنے کیلئے ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے اور برطانیہ سے ٹیکس معلومات کے تبادلے کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔ ٹیکسوں کی وصولی کا طریق کار سادہ بنایا جا رہا ہے۔ ان سب اقدامات کو ان کی سچی روح کے ساتھ برؤے کار لایا گیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ جلد معاشی بحران سے نکلنے کے آثار نظر آنے لگیں گے۔

اس کے باوجود یہ بات ضروری ہے کہ عام آدمی کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانے کی تدابیر کی جائیں اور اشرافیہ کو براہ راست ٹیکس کے نیٹ میں لایا جائے۔بشکریہ: اداریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

حضرت محمدؐ: امن اور اتحاد کے ایک عظیم پیغامبر

(محمد اکرم چوہدری) وہ مہینہ جس میں اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کے لیے ...