پیر , 19 نومبر 2018

ایک معیاری یونیورسٹی کے خدوخال

(الطاف حسن قریشی)
بلاشبہ یونیورسٹیوں کی تعداد میں خوش کن اضافہ ہوا ہے، مگر جہالت کے اندھیرے پہلے سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے اِن حالات میں پنجاب یونیورسٹی کو ایک ایسے وائس چانسلر میسر آ گئے ہیں جو پہلے دو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں اور عالمی معیار کی یونیورسٹیوں کا گہرائی سے مطالعہ کرتے رہے ہیں، چنانچہ پائنا نے پنجاب یونیورسٹی میں ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جس میں پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے ’اعلیٰ تعلیم کے مطلوبہ معیار‘ کے موضوع پر کلیدی خطبہ دینے کی درخواست کی گئی۔ اُنہوں نے 16 اکتوبر کی سہ پہر اہلِ دانش سے خطاب کیا اور اپنے تجربات اور تصورات کی روشنی میں اپنا ویژن پیش کیا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کو کن رفعتوں تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں اور ان کے راستے میں کیا کیا مشکلات حائل ہیں۔ اُن کی باتوں میں گہری بصیرت اور عملی فراست کے نہایت قابلِ قدر پہلو ہیں جنہیں عوام و خواص تک پہنچانا بہت ضروری محسوس ہوتا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر وہ ایک انجینئر ہیں اور پنجاب یونیورسٹی سے اُن کا تعلق 1970ء سے چلا آ رہا ہے۔ اِس دوران اُنہیں یہ خیال دامن گیر رہا کہ تعلیمی معیار کو بلند رکھنے پر پوری توجہ دی جائے، چنانچہ اُن کی مساعی سے یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف کوالٹی اینڈ ٹیکنالوجی مینجمنٹ (آئی کیو ٹی ایم) کے نام سے ایک نیا بلاک قائم ہوا۔ یونیورسٹی کی امتیازی خاصیت ہی یہ ہے کہ وہ معیاری تعلیم دیتی ہے اور نئے نئے علوم و فنون تخلیق کرتی ہے، مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اِن میں جو تحقیق کی جاتی ہے، اس کا زندگی سے بہت کم تعلق اور معیار انتہائی پست ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں کی ڈگریاں بیرونی ممالک کی معیاری یونیورسٹیاں تسلیم ہی نہیں کرتیں اور ڈگریوں کے حامل نوجوانوں کو معقول روزگار دستیاب نہیں ہوتا۔

پروفیسر صاحب نے ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد اور انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا کی وائس چانسلری کے دوران اپنی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے تعلیم کا معیار بلند کرنے اور اپلائیڈ ریسرچ پر بڑی توجہ دی اور ٹیکسٹائل یونیورسٹی کا رشتہ صنعت کاروں کے ساتھ مستحکم کیا۔ اِسی طرح یورپین یونین کے پندرہ ممالک سے معاہدے کیے جن میں ہماری انجینئرنگ یونیورسٹی کی ڈگری تسلیم کی گئی جس سے وسیع امکانات پیدا ہوئے۔ اِن دس برسوں میں اُنہوں نے قوانین اور ضابطوں کی پوری پوری پاسداری کی، اپنے آپ کو چپراسی کے سامنے بھی جواب دہ سمجھا اور اساتذہ کی تقرری میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ انہی تجربات کی روشنی میں پنجاب یونیورسٹی کو ایک بلند معیار کی یونیورسٹی بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ اُنہیں پنجاب یونیورسٹی کی وائس چانسلر شپ کا عہدہ سنبھالے فقط چار ماہ ہوئے ہیں اور اِس مختصر عرصے میں اُنہوں نے پاکستان کی قدیم ترین یونیورسٹی میں انصاف اور میرٹ پر مبنی نظام بڑی حد تک رائج کر دیا ہے اور وہ اِن دنوں مختلف محاذوں پر ایک مجاہد کی طرح مصروفِ عمل ہیں۔

جناب وائس چانسلر نے تفصیل سے بتایا کہ میرا پہلا ہدف گڈ گورننس قائم کرنا اور میرٹ کو سب سے زیادہ اہمیت دینا ہے۔ میں یونیورسٹی کے قانونی اداروں کے ذریعے معاملات طے کرتا ہوں۔ تیرہ سال بعد سینیٹ کا اجلاس بلایا جس میں ماضی کے گیارہ برسوں کے بجٹ منظور کرائے۔ یہ اصول طے کیا کہ ایک شخص کے پاس صرف ایک عہدہ رہے گا۔ اِس فیصلے سے سینکڑوں نئی اسامیاں اور ترقیوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے جنہیں سلیکشن بورڈز کے ذریعے پُر کیا جا رہا ہے۔ اختیارات ہر سطح پر تفویض کر دیے گئے ہیں۔ میرے دروازے اساتذہ اور طلبہ کے لیے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ اساتذہ کی کمیٹیاں مقرر کر دی ہیں
جو دو شفٹوں میں مقررہ اوقات میں ہوسٹلوں کے اندر موجود رہتی ہیں اور طلبہ کے مسائل کسی تاخیر کے بغیر حل کرتی ہیں۔ طلبہ کے لیے میں ایک باپ کی حیثیت سے ہرآن سایہ فگن رہتا ہوں۔ اساتذہ کو بھی یہ اطمینان ہو گیا ہے کہ اُن کی اب ترقی رکے گی نہ اُن کے جائز حقوق سلب کیے جائیں گے۔ اچھی گورننس سے ماحول پُرامن ہوتا جا رہا ہے اور طلبہ تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ یونیورسٹی کا دوسرا بڑا مسئلہ اساتذہ کی قلت اور اُن کی محدود قابلیت ہے۔

اِس وقت یونیورسٹی میں چالیس ہزار طلبہ زیرِتعلیم ہیں اور اساتذہ کی تعداد صرف ایک ہزار ہے۔ یعنی چالیس طلبہ کے لیے ایک استاد جبکہ معیاری اداروں میں بیس طلبہ کے حصے میں ایک استاد آتا ہے۔ اچھے اساتذہ کے حصول میں بہت بڑی رکاوٹ قلیل مشاہرے ہیں۔ ہم اسسٹنٹ پروفیسر کو ڈیڑھ لاکھ دے سکتے ہیں جبکہ دوسرے اداروں میں نئی تقرری پر تین سے پانچ لاکھ ادا کیے جاتے ہیں۔ ہمارے خطے میں سعودی عرب کے مشاہرے بہت پُرکشش ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی ٹیلنٹ کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور گراں مایہ مشاہروں کی پیشکش کرتے ہیں۔ اچھے مشاہرے دینے والے تعلیمی قابلیت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ معیاری یونیورسٹیوں میں لیکچرر شپ کے لیے پی ایچ ڈی کے علاوہ پوسٹ ڈاکٹریٹ ڈگری بھی ضروری ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں محض ایم اے اور ایم فل ڈگری ہولڈر بھی استاد بن جاتے ہیں۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ ہم اپنے اساتذہ کی قابلیت اور استعداد میں اضافے کے لیے جدید طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ میں اچھے اساتذہ کو یونیورسٹی کی طرف راغب کرنے کے لیے پُرکشش مشاہروں کا بھی انتظام کر رہا ہوں۔

سوال وجواب کی نشست بڑی دلچسپ اور فکر انگیز تھی جس کا احوال ہم اگلی نشست میں بیان کریں گے، البتہ اِس وقت یہ حقیقت بیان کرنا ازبس ضروری ہے کہ فکری نشست کے تمام شرکا نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران اور سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرم چوہدری کی گرفتاری اور ہتھکڑیاں پہنا کر عدالت میں اُن کی پیشی پر شدید تنقید کی اور اِس اقدام کو پاکستان کی رسوائی سے تعبیر کیا۔ اُن کے خیال میں ذمہ دار افراد کو عبرت ناک سزا دینا ظلم کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے۔ جناب پروفیسر نیاز احمد اختر کی مشکبار باتیں دیر تک ہمارے مشامِ جاں کو تروتازہ رکھیں گی اور معیاری یونیورسٹی کے آئیڈیل کو ہماری آرزؤں کا ناگزیر حصہ بنائے رکھیں گی۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...