بدھ , 21 نومبر 2018

امریکی یونیورسٹی جس نے فلسطینیوں کو ایک لڑی میں پرو دیا!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں قائم "امریکی یونیورسٹی” جہاں فلسطینی طلباء و طالبات کے لیے حصول علم کا ذریعہ ہے وہیں یہ یونیورسٹی فلسطینی قوم کے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد، یکجہتی، بھائی چارے اور باہمی الفت ومحبت کی علامت بھی قرار دی جاتی ہے۔ اس درس گاہ میں فلسطین کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے 10 ہزار طلباء طالبات زیرتعلیم ہیں۔ سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، غرب اردن بالخصوص جنین اور اس کے اطراف اور القدس سے تعلق رکھنے والے طلباء زیرتعلیم ہیں اور جامعہ نے انہیں ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔

"جامعہ امریکی” میں فلسطینی طبقات کا حسین امتزاج مختلف مکاتب فکر اور مزاج کے حامل طلباء بالخصوص غرب اردن اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں کے طلباء کا باہمی ملاپ فلسطینی وحدت، قومی قوت اور اتحاد کا ذریعہ ہے۔ اسرائیلی دشمن نے فلسطینیوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے، انہیں جغرافیائی فاصلوں میں بانٹنے اور فلسطینی قوم کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازشوں کے باوجود امریکی یونیورسٹی نے فلسطینیوں کو متحد رکھا ہے۔

ایک مقامی فلسطینی طالب علم احمد الاسدی جس کا تعلق 1948ء کے مقبوضہ علاقوں سے ہے کا کہنا ہے کہ جنین کی امریکی یونیورسٹی فلسطینی طلباء کے میل ملاپ کا ذریعہ ثابت ہوئی ہے۔ اس میل ملاپ نے فلسطینی طلباء کو ایک دوسرے کے قریب، ان میں ہم آہنگی کے فروغ اور ان کے خیالات میں یکسانیت کی خصوصیات پیدا ہوئی ہیں۔

الاسدی کا کہنا تھا کہ جامعہ امریکا میں دانتوں کے علاج، امور خانہ داری، لیزر کے علاج، قانون اور انجینیرنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امیرکن یونیورسٹی میں زیرتعلیم سنہ 1948ء کے طلباء میں زیادہ تر کا تعلق "البابدہ” کے علاقے سے ہے۔ اس علاقے کے فلسطینی خریداری کے لیے زیادہ تر جنین ہی کا رخ کرتے ہیں۔ ہفتے کا دن اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

تشخص کی جنگ اور ادغام وانضمام
جنین کے رہنے والے طالب علم محمد یاسین کا کہنا ہے کہ سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے طلباء کا جنین میں قائم امریکی یونیورسٹی میں داخلہ لینا مثبت طرز عمل ہے تاہم اس کے بعض منفی پہلو بھی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر انضمام اور ادغام سے وابستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غرب اردن اور اندرون فلسطین کے طلباء کے درمیان تنہائی کی کیفیت پیدا کی جا سکتی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی یونیورسٹی میں زیرتعلیم طلباء کے درمیان یکجہتی پائی جاتی ہے۔ علاقائی اعتبار سے فلسطینی طلباء کو ایک دوسرے سے الجھانے کی کوششیں بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ طلباء کو معاشی امور، قوت خرید، غریب اور امیر، سنہ 1948ء کے باشندے اور غرب اردن کے رہنے والوں کے درمیان تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم جنین کی امریکی یونیورسٹی کی خاص بات یہ ہے اس میں زیرتعلیم تمام طلباء کی قومی تشخص کے حوالے سے سوچ یکساں ہے۔ اگرچہ وہ مختلف طرز زندگی پر چلتے ہیں اور اپنے الگ الگ فکری دھاروں کے باوجود اتحاد کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

طالب علم رہنما اور امریکی یونیورسٹی میسں ڈائریکٹر تعلقات عامہ فتحی العمور کا کہنا ہے کہ سنہ 1948ء کے فلسطینی طلباء کی وجہ سے بننے والا نقشہ دوسرے علاقوں کے طلباء پر غالب رہتا ہے کیونکہ کل طلبا کی نصف تعداد سنہ 1948ء کے علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔

تاہم سنہ 1948ء کے طلبا اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کے تعاقب کے ڈر سے سہمے رہتے ہیں۔ صہیونی خفیہ ادارے ان کے معاملے میں غرب اردن کے طلباء کی نسبت زیادہ سختی برتتے ہیں۔ بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...