پیر , 19 نومبر 2018

چند اور سخت فیصلے؟

(عاصمہ شیرازی)
اسد عمر صاحب آئی ایم ایف کے ’کامیاب‘ دورے سے لوٹ آئے ہیں۔ گو اُن کی پیٹھ پیچھے یہ خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ وزیراعظم اُن کی مالیاتی سوجھ بوجھ سے کچھ زیادہ خوش نہیں اور یہ کہ اُنہیں آئی ایم ایف کا فیصلہ بہت پہلے لے لینا چاہیے تھا۔

اسی دوران سٹاک مارکیٹ نے بھی اپنے شدید غصے کا اظہار کیا، شاید یہ تاثر مسلسل سرمایہ کاروں کو جا رہا تھا کہ نہ وزیر موصوف کے پاس وقت ہے نہ ہی وزیراعظم ملاقات کا شرف دے کر سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔

اس غم اور غصے کا اثر مارکیٹ پر پڑا، ڈالر کی پرواز پر پڑا اور حسب سابق عوام پر اور عوام نے اپنا غصہ کسی حد تک ضمنی انتخابات میں ووٹ کی پرچی پر نکالا۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ قومی اسمبلی کی گیارہ میں سے پانچ نشستیں اپوزیشن لے اُڑی، تحریک انصاف نے چار نشستیں جیتیں جبکہ دو نشستیں اتحادی ق لیگ کے چوہدری برادران کے صاحبزادوں مونس اور سالک کے حصے میں آئیں۔

دوسری جانب صوبائی اسمبلیوں کی 26 نشستوں کے انتخابات میں تحریک انصاف کو گیارہ نشستیں ملیں، پندرہ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک ایک سیٹ کی محتاج تحریک انصاف کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا اور اُن کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج ہے۔

اب آئیے وزیر خزانہ اسد عمر کے اُس بیان کی جانب جس میں اُنھوں نے فرمایا کہ قوم کو کچھ مزید سخت حالات دیکھنا ہوں گے۔ قوم تو پہلے ہی سخت حالات برداشت کر رہی ہے، اب کی بار شاید ریاست کو سخت حالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سُنا ہے کہ آئی ایم ایف نے صوبوں کا مالیاتی اختیار کم کرنے کی بات کر دی ہے یعنی این ایف سی ایوارڈ، جو صوبوں کے اُس حق سے متعلق ہے جو وفاق اُن کو ادا کرتا ہے۔ آئین کی رو سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کا یہ حصہ 57.5 فی صد ہے۔ صوبوں کا مطالبہ اس سے بھی کہیں زیادہ کا ہے۔

این ایف سی ایوارڈ صوبائی خودمختاری کی ضمانت ہے مگراخباری اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف شرط عائد کر رہی ہے کہ صوبوں کو دیا جانے والا یہ مالیاتی اختیار کم کیا جائے، دوسری جانب صوبوں کو جانے والی اس رقم سے براہ راست دفاعی ضروریات پر اثر پڑتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں وزیر خزانہ صوبوں کو دو بار خط لکھ چکے ہیں تاہم صوبوں نے تاحال اُنھیں کوئی جواب نہیں دیا۔

18ویں ترمیم 19 اپریل دو ہزار دس سے اب تک کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے۔ آئین کو اصل شکل میں واپس لانے اور سویلین بالادستی کو عملی جامہ پہنانے والی یہ ترمیم یوں بھی ‘اصل مسائل کی جڑ’ گردانی جا رہی ہے۔ نہ یہ ترمیم ہوتی اور نہ ہی منتخب اسمبلیاں توڑنے کا اختیار صدر سے چھین کر اٹھاون ٹو بی جیسی شق کا خاتمہ ہوتا، نہ ہی آرٹیکل چھ میں آئین کو معطل کرنے کی سزا غداری قرار پاتی، نہ صوبوں کو خودمختاری اور خاص کر کے مالیاتی اختیار ملتا، نہ ہی آرٹیکل دس اے کے تحت ہر کسی کو غیر جانبدارانہ ٹرائل کا حق ہوتا، نہ ہی فوجی سربراہان کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور پارلیمان کو تفویض کیا جاتا، نہ معلومات تک رسائی کےخواب کو تعبیر ملتی اور نہ ہی تعلیم اور صحت جیسے اختیارات صوبوں کے حوالے ہوتے۔

اس آئینی ترمیم میں طے پایا کہ صوبوں کا حصہ آخری این ایف سی ایوارڈ سے کم نہیں کیا جا سکے گا۔

آرٹیکل 167: صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن کی مقرر کردہ حد کے اندر مقامی یا بین الاقوامی سطح پر قرضے حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔

آرٹیکل 168: آڈیٹر جنرل کی مدت ملازمت چار سال تک محدود کر دی جائے گی۔

آرٹیکل 170: وفاق یا صوبوں کے زیر انتظام خودمختار اداروں کو آڈیٹر جنرل کے تحت لایا جائے۔

آرٹیکل 172: تیل و گیس جیسے قدرتی وسائل کا اختیار صوبے اور وفاق کے درمیان مشترکہ ہو گا۔

بلاول بھٹو رکن قومی اسمبلی بننے کے بعد سے اب تک ایک سے زائد مرتبہ 18ویں آئینی ترمیم کے بارے میں متنبہ کر چکے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا پیپلز پارٹی نے کسی خطرے کو بھانپ لیا ہے؟ کیوں بلاول بھٹو زرداری 18ویں ترمیم پر بات بہ بات سخت بیانات داغ دیتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا نوجوان چیئرمین اس ترمیم کا نام سنتے ہی آگ بگولہ ہو جاتا ہے اور ہوشیار، ہوشیار، ہوشیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا اصل مخاطب ہے کون اور کیوں ہے؟

18یں ترمیم میں ردوبدل صرف اُس وقت ہو سکتا ہے جب تحریک انصاف حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہو، جو ہے نہیں۔ جب یہ ترمیم ن لیگ اور پی پی پی کے بغیر ناممکن ہے تو پھر یہ واویلا وقت سے پہلے کیوں۔ مستقبل میں زرداری صاحب کے خلاف مقدمات کو بھی اسی تناظر میں کسی دباؤ کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے تاکہ من چاہی سہولت حاصل کی جا سکے۔ بظاہر بلاول بھٹو کی جانب سے دو ٹوک اعلان ہر دروازہ بند کر رہا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے معاملے پر کوئی سودے بازی کسی صورت قبول نہیں کرے گی، باقی معاملہ کل پر چھوڑتے ہیں۔

پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ حکومت کو برسراقتدار لانے کا اصل مقصد یہ بھی ہے کہ 18ویں ترمیم کو رول بیک کیا جائے۔ اُن کے شک کو تقویت آرمی چیف کی مارچ میں صحافیوں سے گفتگو میں اس کے بعض حصوں پر تحفظات کی صورت میں ملتی ہے اور پھر پی پی پی کی جانب سے نئے میثاق جمہوریت کی آفر اور پی ٹی آئی کی طرف سے تعلیم کو مرکز کے تحت لانے کی تجویز مگر اب اس شک کو یقین آئی ایم ایف کی مبینہ شرط بنا رہی ہے۔

عرض ہے جو کرنا ہے کریں۔ شہباز شریف کو جیل میں ڈالیں یا زرداری صاحب کے خلاف منی لانڈرنگ کے ثبوت ڈھونڈیں، سیاست دانوں کو بےتوقیر کریں یا ان کو ناکام بنانے کی کوششیں کریں، جو جی چاہتا ہے کریں مگر خدارا آئین کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھلواڑ ریاست کو کھوکھلا کر دے گا۔

موجودہ آئین وفاق کی مضبوطی سے متعلق ریاست اور عوام کے درمیان اہم معاہدہ ہے۔ اسے تبدیل کرنے کی سوچ بھی وفاق کی یکجہتی پر کاری ضرب لگا سکتی ہے، لہٰذا اب کوئی غلطی نہ کریں کیونکہ اب اس کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے۔ بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...