پیر , 19 نومبر 2018

کلین اینڈ گرین پاکستان

(جاوید چوہدری)
لندن کی آبادی 1750ء سے 1810ء کے درمیان 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ شہرمیں ان دنوں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہی تھیں۔

لندن میں سیوریج سسٹم نہیں تھا‘ ہر گھر کے سامنے سپٹک ٹینک ہوتا تھا‘ ڈیٹا کے مطابق شہر میں دو لاکھ گٹر تھے اور یہ گٹر صبح شام ابلتے رہتے تھے‘ گندا پانی لندن کی گلیوں میں بہتا تھا‘ بارش اس غلیظ پانی کو بہا کر دریائے تھیمز میں لے جاتی تھی‘ میٹرو پولیٹن بعدازاں دریا کا پانی پمپ کر کے گھروں کو سپلائی کر دیتی تھی اور یوں شہری اپنا سیوریج پیتے تھے۔

شہر کے غرباء عموماً تہہ خانوں میں رہتے تھے‘ گھروں کے یہ حصے اکثر اوقات سیوریج کے پانی سے بھرے رہتے تھے یا پھر وہاں گندے پانی کی سیلن ہوتی تھی‘ یہ گندگی بیماری میں تبدیل ہوئی اور1831ء میں لندن میں ہیضے کی خوفناک وباء پھوٹ پڑی‘ 55 ہزار لوگ مارے گئے‘ یہ وباء‘ گندگی اور بدبو سفر کرتے کرتے ہاؤس آف کامنز کے اندر تک پہنچ گئی‘ 1858ء میں سیلن کے اثرات برطانوی پارلیمنٹ کے فرش‘ دیواروں اور ستونوں میں بھی دکھائی دینے لگے۔

ہاؤس آف کامنز کے پردے تک بدبودار پانی میں بھیگ گئے اور ارکان پارلیمنٹ ناک پر رومال رکھ کر اسمبلی آنے پر مجبور ہو گئے‘ یہ صورت حال ناقابل برداشت تھی چنانچہ گورنمنٹ نے اس کے تدارک کا فیصلہ کیا‘ حکومت کو مختلف ماہرین نے مختلف تجاویز دیں لیکن یہ تمام علاج عارضی تھے‘ حکومت اس کا کوئی مستقل حل نکالنا چاہتی تھی‘حکومت نے یہ ذمے داری جوزف بازل گیٹ (Joseph Bazalgette) کو دے دی‘ وہ اس وقت میٹرو پولیٹن کا چیف انجینئر تھا‘ وہ ذہین‘ معاملہ فہم اور لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا ماہر تھا۔

جوزف نے پورے لندن کا سروے کرایا‘ تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیا اور ہر شخص سے پوچھا وہ کتنی بار واش روم استعمال کرتا ہے‘ استعمال اور تعداد کو بعد ازاں آپس میں ضرب دی‘ اسے تین سے ضرب دی اور پھر اس ڈیٹا کو پائپوں سے ضرب دے کر لندن میں سیوریج کا سسٹم بچھانا شروع کر دیا‘ جوزف نے پورے شہر کو سیوریج سے جوڑا‘ شہر سے دس کلو میٹر دور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا‘ سیوریج لائین کو اس پلانٹ سے منسلک کیا‘ سیوریج کا پانی صاف کیا اور پھروہ صاف پانی دریا میں ڈال دیا۔

لندن کا سیوریج ایشو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا‘ جوزف کا سسٹم کس قدر مکمل اور شاندار تھا حکومت کو اس کا اندازہ 1960ء کی دہائی میں ہوا‘ لندن میں1960ء میں پراپرٹی کا بوم آیا‘ اپارٹمنٹس ٹاورز اور ہائی رائز بلڈنگز بنیں اور سیاحوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہو گیا۔

حکومت کا خیال تھا شہر کا سیوریج سسٹم چوک ہو جائے گا اور میٹرو پولیٹن اس کی توسیع پر مجبور ہو جائے گی لیکن میئر یہ جان کر حیران رہ گیا جوزف بازل گیٹ کا سسٹم یہ دباؤ آسانی سے برداشت کر گیا‘ شہر میں کسی جگہ سیوریج چوک ہوا اور نہ ہی بہاؤ میں رکاوٹ آئی‘ جوزف بازل گیٹ کا یہ سسٹم بعد ازاں پورے برطانیہ اور پھر یورپ کے تمام ملکوں کے تمام بڑے شہروں میں بچھایا گیا‘ فرانس‘ جرمنی اور اسپین نے اس سسٹم میں ایک اضافہ کر دیا‘ یہ ملک سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کر کے گھروں میں واپس بھجواتے تھے۔

یہ پانی کموڈز میں دوبارہ استعمال ہوتا ہے‘ یورپ کے نوے فیصد گھروں میں پانی کی دو لائین بچھائی جاتی ہیں‘ پہلی لائین صاف پانی سپلائی کرتی ہے‘ لوگ یہ پانی پیتے اور اس سے کھانا پکاتے ہیں جب کہ دوسری لائین میں ٹریٹمنٹ شدہ پانی ہوتا ہے‘ یہ پانی باتھ رومز‘ ٹوائلٹس‘ لانڈری‘ لانز اور گیراج میں استعمال ہوتا ہے‘ یورپ میں حکومتیں ہر گھر سے پانی کا بل بھی وصول کرتی ہیں‘ یہ بل پانی میں کفایت شعاری کی عادت بھی ڈالتا ہے اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

آپ مجھ سے اگر پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پوچھیں تو میں گندگی کو کرپشن‘ ناانصافی اور عدم مساوات سے بھی بڑا مسئلہ کہوں گا‘ ہم من حیث القوم گندے لوگ ہیں‘ معاشرہ کچن سے شروع ہوتا ہے اور واش روم میں ختم ہوتا ہے اور ہماری یہ دونوں جگہیں انتہائی گندی ہوتی ہیں‘ آپ خواہ کروڑ پتی لوگوں کے گھروں میں بھی چلے جائیں‘ آپ خواہ کسی شہر کی کسی گلی میں نکل جائیں‘ آپ کو وہاں گندگی کے ڈھیر ملیں گے‘ ہماری مسجدوں اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی گندگی ہوتی ہے‘ آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے واش رومز دیکھ لیجیے‘ آپ کو وہاں بھی صابن نہیں ملے گا‘ حکومت کے سارے واش رومز گندے ہوتے ہیں۔

اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی میں بھی کچرہ ٹھکانے لگانے کا کوئی ٹھوس بندوبست نہیں‘ اسلام آباد کا آدھا سیوریج نالوں اور ڈیم میں جاتا ہے‘ لاہور کا گند راوی اور کراچی کا کچرہ سیدھا سمندر میں گرتا ہے‘ آپ ملک کے کسی سیاحتی مقام پر چلے جائیں‘ آپ کو وہاں گند کے ڈھیر ملیں گے‘ ہم 21 ویں صدی میں بھی لوگوں کو واش روم استعمال کرنے کا طریقہ نہیں سکھا سکے‘ ہم لوگوں کو یہ نہیں بتا سکے صابن سے ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے۔

ہم انھیں یہ نہیں سمجھا سکے آپ جو گند سڑکوں پر پھینک رہے ہیں وہ اڑ کر دوبارہ آپ کے گھر آئے گا‘ وہ آپ کی سانس کی نالیوں کے ذریعے آپ کے جسم میں جائے گا‘ ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے گٹر کا پانی زمین میں موجود پانی میں شامل ہو جاتا ہے‘ یہ غلیظ پانی صاف پانی میں شامل ہوتا ہے‘ ہم اور ہمارے خاندان یہ پانی پیتے ہیں اور یوں ہم مہلک امراض کا نشانہ بن جاتے ہیں اور ہم لوگوں کو آج تک یہ بھی نہیں بتا سکے ہمارا ملک اگر ہائیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے ‘ ٹی بی میں پانچویں‘ شوگر میں ساتویں اور گردے کے امراض میں آٹھویں نمبر پر ہے یا ہمارے ملک میں ہر سال تین لاکھ لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو اس کی اصل وجہ گند ہے‘ ہم لوگ گندے ہاتھوں سے گندے برتنوں میں کھاتے اور گندا پانی پیتے ہیں چنانچہ ہم صحت مند کیسے ہو سکتے ہیں؟

میں نئی حکومتوں کی حماقتوں کا ناقد ہوں لیکن حماقتوں کے اس انبار میں یہ لوگ کلین اور گرین پاکستان کے نام سے ایک اچھا کام بھی کر رہے ہیں‘ یہ کام ستر سال پہلے شروع ہونا چاہیے تھا تاہم دیر آید‘ درست آید‘ یہ کام اگر آج بھی شروع ہو جائے تو یہ بیمارستان صحت مندستان میں تبدیل ہو جائے گا لیکن آپ کو اس کے لیے جوزف بازل گیٹ کی طرح لمبی پلاننگ کرنا ہو گی‘ گندگی کینسر کی طرح ہوتی ہے۔

آپ زخم پر پٹی باندھ کراس کا علاج نہیں کر سکتے لہٰذا وزیراعظم یا وزراء اعلیٰ صاف سڑک پر صاف جھاڑو پھیر کر پوری قوم کو صاف ستھرا نہیں بنا سکیں گے‘ گند ہماری فطرت‘ ہماری عادت ہے‘ آپ کو یہ عادت بدلنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا‘ آپ کو پرسنل ہائی جین سے لے کر ماحولیات تک صفائی کا سلیبس بھی بنانا ہو گا اور یہ سلیبس پہلی سے دسویں جماعت تک اسکولوں میں بھی متعارف کرانا ہو گا‘ آپ کو پورے پاکستان میں پبلک ٹوائلٹس بھی بنوانے ہوں گے اور عوام کو ان کے استعمال کا طریقہ بھی سکھانا ہو گا‘ ہم آج بھی پینے کا صاف اور میٹھا پانی فلش میں بہاتے ہیں‘ ہمیں یہ ٹرینڈ بھی فوراً بدلنا ہو گا۔

حکومت فوری طور پر نئی تعمیرات کے لیے نئے بائی لاز بھی بنائے‘ فلش اور صاف پانی کی لائین بھی الگ الگ کرے اور یہ ہر گھر میں چھوٹے سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بھی لازمی قرار دے‘ یہ پلانٹ استعمال شدہ پانی صاف کر کے دوبارہ فلش کے ٹینکوں میں ڈالے اور پھر صاف کرے اور پھر مین سیوریج لائین میں ڈالے‘ ہم اگریہ بندوبست پورے ملک میں نہیں کر سکتے تو نہ سہی لیکن ہم یہ قانون ملک کے دس بڑے شہروں میں تو بنا سکتے ہیں‘ ہم ان شہروں کی حالت تو بدل سکتے ہیں۔

حکومت اسی طرح کچرہ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی ٹھیک کرے‘ ہر شہر میں صفائی کے ڈائریکٹوریٹ بنائے جائیں‘ لوگ بھرتی کیے جائیں‘ گھروں سے فیس لی جائے اور پھر اگر کسی شہر کی کسی گلی میں کچرہ نظر آئے تو آپ ذمے داروں کو الٹا لٹکا دیں‘ دنیا میں کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹس بھی آ چکے ہیں‘ حکومت ہر شہر میں یہ پلانٹس بھی لگوا سکتی ہے یوں بجلی کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا اور کچرہ بھی ٹھکانے لگ جائے گا اور حکومت ہر کچے اورپکے مکان کے لیے باتھ روم کا سائز اور ڈیزائن بھی فائنل کر دے‘ پلمبرز کو اس ڈیزائن کی ٹریننگ دی جائے اور انھیں پابند بنایا جائے‘ جو پلمبر خلاف ورزی کرے گا اسے سات سال قید بامشقت دے دی جائے گی۔

ریستورانوں اور دکانوں میں بھی باتھ روم لازمی ہوں اور ان کا باقاعدہ اسٹینڈرڈ ہو‘ موٹروے پولیس کی طرح سینیٹری پولیس بھی بنائی جائے اور یہ پولیس گند پھیلانے والوں کو بھاری جرمانہ کرے‘ یہ گھروں اور پبلک باتھ رومز کا معائنہ بھی کرے اور اسی طرح ملک میں زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نظر نہیں آنا چاہیے‘ زمین کی ایک ایک انچ پر پودا ہونا چاہیے‘ وہ خواہ پھول ہو‘ گھاس ہو یا پھر درخت ہو‘ پاکستان کے ہر طالب علم‘ ہر ملازم اور ہر کمپنی کے لیے درخت لگانا لازمی قرار دے دیا جائے۔

‘ لوگ ہر سال ٹیکس ریٹرن کی طرح گرین ریٹرن بھی فائل کریں اور حکومت اس کا بھی آڈٹ کرے اور آخری تجویز ‘برادر اسلامی ملک ازبکستان نے دس سال میں ملک کو صاف کر کے کمال کر دیا‘ آپ دس بڑے شہروں کی کارپوریشنز کے دو دو لوگ ازبکستان بھجوائیں‘ یہ لوگ ان سے صفائی کا طریقہ سیکھیں اورکام شروع کرا دیں‘ ہمارا ملک دو تین برسوں میں کلین بھی ہو جائے گا اور گرین بھی ورنہ پھر اسی طرح ہمارے وزیراعظم ہر سال جھاڑو دیتے رہیں گے‘ سڑکوں پر گند میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ہم اسی طرح بیمار ہوتے چلے جائیں گے۔ بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...