بدھ , 21 نومبر 2018

خاشقجی کے معاملے میں قربانی کا بکرا کسے بنایا جا رہا ہے؟

(تسنیم خیالی)

جمال خاشقجی کے معاملے میں بدنام ہونے کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس معاملے سے جان جھڑانے کے لئے قربانی کا بکرا تلاش کرنے میں مصروف ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے قربانی کا بکرا تلاش بھی کر لیا ہے۔

امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے مطابق سعودی نظام جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں بن سلمان کو بچانے کے لئے بن سلمان کے قریبی ساتھی اور انٹیلی جنس چیف کے نائب جنرل احمد عسیری کو قربانی کا بکرا بنا نے جا رہا ہے اور امریکی انتظامیہ اس حوالے سے مطلع بھی کیا جا چکا ہے۔

اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اہم عہدے پر فائز ایک شخص کو سعودی حکام نے قربانی کے بکر ے کے طور پر عسیری کا نام پیش کر دیا ہے۔

سعودی منصوبے کے مطابق دنیا سے یہ کہا جائے گا کہ بن سلمان کو خاشقجی کے قتل کے حوالے سے کوئی علم نہیں تھا اور چونکہ عسیری ایک نامور، بن سلمان کے قریبی اور پرانے آفیسر ہیں تو ان کے احکامات پر سبھی عمل کرتے ہیں یہ سمجھ کر کہ ان احکامات کا بن سلمان کے لئے اور انہوں نے ہی عسیری کے ذریعے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔

عسیری کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اچھی طرح جانتی ہیں کیونکہ وہ یمن پر جارحیت کرنے والے سعودی اتحاد کے 2015ء سے بحیثیت ترجمان فرائض سرانجام دیتے آ رہے تھے اور ایک سال قبل ترقی حاصل کرنے کے بعد وہ انٹیلی جنس کے شعبے سے وابستہ ہو گئے العسیری سعودی ولی عہد کے قریب ساتھیوں اور مشیروں میں شمار ہوتے ہیں اور اس طرح قربانی کا بکرا بنائے جانے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود خاندان کا کوئی اعتبار نہیں اور وہ کسی بھی وقت اپنے خاص افراد کے ساتھ دھوکہ کر سکتے ہیں ٹھیک اسی طرح جمال خاشقجی کے ساتھ ہوا۔

وہ بھی کسی دور میں آل سعود خاندان سے انتہائی قریب ہونے کے ساتھ ساتھ مخصوص افراد میں شمار ہوتے تھے حتیٰ کہ وہ کافی عرصے تک سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل کے مشیر خاص تھے، البتہ خاشقجی کا خاتمہ آل سعود کے ہی ہاتھوں سے ٹکڑوں میں بکھر گیا۔

عسیری کے ساتھ بھی ایک بہت بڑی دھوکے بازی ہونے جا رہی ہے اور ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ اس نے آل سعود کے ساتھ وفاداری نبھائی اور اس خاندان کا ساتھ دیا، عسیری کو اس وفاداری اور ساتھ کا معاوضہ ملنے لگا ہے جو کہ ہر اس شخص کو ملتا ہے جو آل سعودی کا حامی اور وفادار ہوتا ہے، آج سعودی جیلوں میں ایسے علمائے دین، دانشور اور مذہبی شخصیات موجود ہیں جو کل تک آل سعود کے گن گاتے تھے اور ہر پلیٹ فارم پر اس خاندان کی حمایت کرتے پھرتے تھے، ان افراد میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو مارے جا چکے ہیں۔

یہ ہے آل سعود کی حقیقت اور اس خاندان کا اصل چہرہ جو اپنے مخالفین کے ساتھ وحشیانہ اور سفاکیت کے ساتھ تو پیش آتا ہی ہے مگر اپنے حمایتی اور وفاداروں کو بھی نہیں بخشتا اور ضرورت پڑنے پر انہی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...