جمعرات , 15 نومبر 2018

شاہ سلمان اپنے بیٹے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے

(تسنیم خیالی)
اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ میں لکھنے والے معروف اسرائیلی صحافی ’’شفی بارئیل‘‘ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور اس قتل کی وجہ ممکنہ طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اقتدار سے رخصتی کے بارے میں ’’ہارٹز‘‘ میں ایک کالم لکھا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان اپنے ولی عہد بیٹے کو اقتدار سے نہیں ہٹائیں گے اور اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے کیونکہ بن سلمان کو ہٹانے کے اقدام سے حکمران خاندان میں عدم استحکام پیدا ہو گا جو عام طور پر پورے سعودی عرب کو اپنے گھیرے میں لے لے گا۔

بارئیل اپنے کالم میں کہتا ہے ’’سعودی عرب کے پاس ایسے بہت سے آپشنز موجود ہیں جن کے ذریعے وہ امریکہ کو خاشقجی کے معاملے میں سعودی عرب کے خلاف اقدامات کرنے سے باز رکھ سکتے ہیں اور امریکیوں کو ولی عہد تبدیل نہ کرنے پر مجبور‘‘۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کے پاس ایسی بہت سی دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے دونوں ممالک نے ایک ساتھ مل کر بہت کچھ ایسا کیا ہے جسے میڈیا سے دور رکھا گیا ہے اور سعودی عرب اگر خود کو خاشقجی کے معاملے میں پھنسا ہوا پائے گا تو وہ ان دستاویزات میں سے کچھ نا کچھ ضروف شائع کر دے گا۔

سعودی حکمران خاندان کو اس بات پر یقین ہے کہ دنیا بھر کے ممالک بالخصوص امریکہ میں موجود سعودی پیسہ اور سرمایہ داری سعودی عرب کو کسی بھی اقتصادی پابندی یا بائیکاٹ سے بچائے رکھے گی اور اگر ہم سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ہونے والی غیر قانونی ڈیلز کی قیمتوں کی بھی مدنظر رکھیں جن کا ذکر میڈیا پر نہیں تو پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے خلاف اقدامات کی جرأت نہیں کریں گے۔

ٹرمپ کو سعودی عرب کے ساتھ صرف 110 ارب ڈالر کی اسلحہ ڈیل کی فکر لاحق نہیں بلکہ انہیں دراصل پریشانی اس بات کی ہے کہ ایران پر نومبر میں اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا تمام منصوبہ سعودی عرب پر قائم ہے، کیونکہ امریکی منصوبہ بندی کے مطابق پابندیوں کے اطلاق کے بعد عالمی منڈی میں ایرانی تیل کے خلاء کو سعودی عرب نے پر کرنا ہے تا کہ دنیا میں تیل کے بحران سے بچا جا سکے، اگر سعودی عرب امریکہ کے خلاف تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے تو امریکہ اور عالمی اقتصاد کو شدید مشکلات کا سامنا ہو جائے گا۔

اب تک تو ایسے کوئی اشارے نہیں مل رہے کہ خاشقجی کے معاملے کو بن سلمان کی بے گناہی کے ساتھ ختم کر دیا جائے گا، کیونکہ ترکی کے پاس بن سلمان کو پھنسائے رکھنے کے لئے بہت سے شواہد اور ثبوت موجود ہیں، ترک حکام اس ضمن میں انتہائی مہارت اور فعال انداز میں بن سلمان کے خلاف شواہد لیک کرتے آ رہے ہیں جن کی وجہ سے بن سلمان کی بے گناہی ناممکن سی دکھائی دے رہی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کی یہ کوشش ہے کہ امریکہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سعودی ولی عہد امریکہ کا بہترین شریک نہیں ہو سکتا اور اس کے لئے ترکی کے ساتھ شراکت داری سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری سے بہتر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرت محمدؐ: امن اور اتحاد کے ایک عظیم پیغامبر

(محمد اکرم چوہدری) وہ مہینہ جس میں اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کے لیے ...