پیر , 19 نومبر 2018

خاشقجی بحران: محمد بن سلمان پر کیا اثر پڑے گا؟

خاشقجی کے مبینہ قتل کے معاملے میں محمد بن سلمان کا نام آنے کے بعد دنیا بھر سے ردِ عمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ اس بحران کا آلِ سعود اور شہزادے پر کیا اثر پڑے گا؟

لیکن اس سے پہلے آلِ سعود کے اقتدار میں آنے کی کہانی بیان کرنا ضروری ہے۔ سعودی عرب کے موجودہ حکمران خاندان آلِ سعود کا تعلق 17ویں صدی میں جزیرہ نما عرب کے اس صحرائی خطے پر حکمران کرنے والے شیخ سعود بن محمد سے ہے۔ اسی خطے میں دو صدی بعد ان کے نام سے منسوب ایک ریاست سعودی عرب قائم ہوئی۔ شیخ سعود بن محمد کا بیٹا محمد 1744ء میں ایک شعلہ بیان مذہبی رہنما محمد بن عبدالوہاب کا مربی بن گیا۔ عبدالوہاب نے اسلام کا ایک سخت گیر تصور پیش کیا اور ان ہی کے نام پر ایک نئے فرقہ وجود میں آیا۔ محمد کے جانشیوں نے 1818ء میں عثمانیوں کے ہاتھوں شکست کھائی لیکن چھ سال بعد آلِ سعود نے ریاض پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ یہ چھوٹی سی ریاست 1891ء تک قائم رہی لیکن شمار نامی قبیلے سے تعلق رکھنے والے الرشد نے اس ریاست کو ختم کر دیا۔ الرشد سے شکست کھانے کے بعد اس وقت کے حکمران شہزادہ عبدالرحمان السعود نے کویت میں پناہ لی جس کے بعد وہ انگریزوں کی مدد سے 11 سال بعد ریاض پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

عبدالعزیز بن السعود نے 1902ء میں الرشد قبیلے کو ریاض سے مکمل طور پر بے دخل کر دیا اور سعودی عرب پر اپنی دسترس مضبوط کرنے میں مصروف ہو گئے۔ عبدالعزیز نے کئی قبائلی جنگوں کے بعد عرب قبائل کو متحد کرنے کا کام شروع کر دیا۔ انھوں نے 1913ء میں خلیج کے ساحلی علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا اور اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ سے ہاشمی قبیلے کے شریف الحسینی کو بے دخل کر دیا۔ 1932ء میں انھوں نے سعودی عرب کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ 1948ء میں تیل کے ذخائر دریافت ہونے پر یہ وہابی فرقے کی ریاست دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل ہو گئی۔

بادشاہت میں اقتدار کی منتقلی کیسے ہوتی ہے؟
سعودی عرب کے قانون کے مطابق بادشاہ بننے والے شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ عبد العزیز کی نسل سے ہو جن کا انتقال 1953ء میں ہوا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد سے سعودی عرب کی بادشاہت ان کے ایک بیٹے سے دوسرے بیٹے کو منتقل ہوتی رہی ہے۔ ملک میں ایک ‘بیعت کونسل’ قائم ہے جو بادشاہ کی تاج پوشی کا تعین کرتی ہے۔ یہ کونسل عبدالعزیز کی اولاد پر مبنی ہوتی ہے۔ بادشاہ کے مرنے پر کونسل ولی عہد کا بھی باضابطہ اعلان کرتی ہے۔ نئے بادشاہ کو اپنی تاج پوشی کے دس دن کے اندر اندر ولی عہد کے لیے تین ناموں کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ کونسل ان تین میں سے ایک نام کا انتخاب کرتی ہے، تاہم اس کے پاس اختیار ہے کہ وہ تینوں نام مسترد کر کے اپنی مرضی کے کسی نام کا انتخاب کر لے۔

تاہم اس کے بعد بادشاہ کمیٹی کے مجوزہ امیدوار کو مسترد کر سکتا ہے، جس کے بعد کونسل کے پاس ایک ماہ کا وقت ہوتا ہے کہ یا تو اپنا امیدوار منتخب کرے یا بادشاہ کا تجویز کردہ۔ یہ تو قانونی طریقہ ہے لیکن عام طور پر ولی عہد کا انتخاب شاہی خاندان کی غیر رسمی اندرونی مشاورت سے ہوتا ہے۔

باپ سے بیٹے تک منتقلی؟
عبدالعزیز کے 45 بیٹے تھے۔ شاہ سعود نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد 1963ء میں اقتدار سنبھالا۔ تاہم جب دو نومبر 1964ء کو شاہ سعود کو بدعنوانی اور نااہلی کی بنیاد پر معزول کیا گیا تو ان کے سوتیلے بھائی فیصل بادشاہ بن گئے۔ سعود کا انتقال 1969ء میں جلاوطنی کی حالت میں ہوا۔

شاہ فیصل نے سعودی عرب کو جدید ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا تاہم مارچ 1975ء میں ان کے بھتیجے نے انھیں قتل کر دیا، جس کے بعد ایک اور سوتیلے بھائی خالد نے تخت سنبھال لیا اور 1982ء میں اپنی موت تک حکمرانی کرتے رہے۔ انھوں نے مرنے سے پہلے خود سے دو سال چھوٹے فہد کو ولی عہد مقرر کیا تھا۔ فہد نومبر 1995ء میں فوت ہوئے جس کے بعد ان کے سوتیلے بھائی عبداللہ بادشاہ بنے۔ موجودہ شاہ سلمان جنوری 2015ء میں عبداللہ کے انتقال کے بعد تخت پر بیٹھے تھے۔

صورتِ حال کیسے بدلی ہے؟
سلمان کی نسل نے 60 سال تک بادشاہت کی ہے، اور اس دوران انھوں نے مختلف اہم شاہی خانوادوں کے درمیان نازک توازن قائم رکھا ہے۔ تاہم سلمان نے جانشینی کے سلسلے میں کئی کلیدی تبدیلیاں کیں۔ سب سے پہلے انھوں نے اپنے 33 سالہ بیٹے محمد بن سلمان کو وزیرِ دفاع مقرر کیا، اور اس کے بعد جون 2017ء میں محمد بن نائف کی جگہ ولی عہد بنا دیا۔ بعض لوگوں کو شہزادہ محمد کا تیزی سے ابھرتا ہوا ستارہ اور ان کا جارح مزاج شیکسپیئر کے کسی ڈرامے کی یاد دلاتا ہے۔ اگر وہ مستقبل قریب میں بادشاہ بن گئے تو کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کا تخت نصف صدی تک ان کے پاس رہ سکتا ہے۔

خاشقجی کے بحران کا کوئی اثر ہو گا؟

خاشقجی کے مبینہ قتل کے ممکنہ مضمرات کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔ شہزادہ محمد کی تباہ کن خارجہ پالیسی کا سب سے پہلے یمن نشانہ بنا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں سعودی عرب روز بروز دھنستا چلا جا رہا ہے۔ دوسری طرف شہزادے نے تیزی سے شاہی خاندان کی تمام طاقت اپنی ذات کے اندر مرکوز کرنا شروع کر دی ہے، جس کی وجہ سے خود شاہی خاندان، تجارتی طبقے اور مذہبی علماء کی جانب ان کی مخالفت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

یوریشیا گروپ نامی کنسلٹنسی گروپ کے مطابق خاشقجی کے واقعے کے بعد‘ شاہی خاندان کی جانب سے نوجوان ولی عہد کی مخالفت بڑھتی چلی جائے گی۔ السعود خاندان کے اندر بعض عناصر کو یقین ہے کہ شہزادہ اندھا دھند فیصلے کرتا ہے جس سے ملک کی سلامتی خطرے میں ہے۔’ تحقیقاتی ادارے کیپیٹل اکنامکس کے مطابق: ‘سعودی شاہی خاندان میں بغاوت کی افواہیں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ سرکاری طور پر 82 سالہ شاہ سلمان اپنا ولی عہد بدل سکتے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے امکانات کم ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...