بدھ , 21 نومبر 2018

دہلیز پردستک دیتی نئی تباہی

(سلیم صافی)
کیا ہم نے افغانستان کے اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ہے؟ نہیں۔ کیا ہم افغانستان سے بے دخل ہو گئے ہیں؟ نہیں۔ آج بھی لاکھوں افغان، پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ آج بھی روزانہ ہزاروں لوگ پاک افغان سرحد پار کرتے رہتے ہیں۔ آج بھی افغانستان میں سب سے زیادہ ذکر پاکستان کا ہوتا ہے۔ آج بھی افغانستان کے لوگوں کی واضح اکثریت اپنے حالات کی خرابی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے رہی ہے اور آج بھی امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان کے سرڈال رہے ہیں۔ تو پھر کیا افغانستان استحکام کی طرف جا رہا ہے جو پاکستان کے حکمران اس کے حالات سے بے فکر ہو کر پاکستان کے اندر نفرتوں کو ہوا دینے اور گالم گلوچ کا کلچر عام کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کا بھی جواب نفی میں ہے۔

افغانستان ایک ایسی نئی تباہی کی طرف گامزن نظر آ رہا ہے کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی جبکہ سردست اس تباہی اور انارکی سے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ طالبان کی مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ خودکش حملے روز کا معمول بن گئے ہیں۔ افغان حکومت کی گرفت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ جنگ کا دائرہ مشرقی اور جنوبی افغانستان سے نکل کر مغربی اور شمالی افغانستان تک بھی دراز ہو گیا ہے۔ امریکہ اور افغانستان کی حکومت کے درمیان بداعتمادی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ روس، امریکہ، ایران، پاکستان اور ہندوستان کی پراکسی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

حالات کی خرابی کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ پارلیمانی انتخابات سے دو روز قبل قندھار میں سیکورٹی گارڈ کے روپ میں موجود طالبان نے فائرنگ کر کے پولیس چیف عبدالرزاق اچکزئی اور اس صوبے کے انٹیلی جنس چیف امر مومن حسن خیل کو قتل کیا جبکہ صوبے کے گورنر زلمے ویسا کو زخمی ہو گئے۔ اس موقع پر افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجی کمانڈر اسکاٹ میلر بھی موجود تھے لیکن وہ پراسرار طور پر بچ گئے۔ یہ کارروائی اس لحاظ سے بھیانک تھی کہ پہلی مرتبہ ایسے موقع پر ہوئی کہ امریکہ کے اتنے اہم کمانڈر وہاں موجود تھے۔ اسی طرح عبدالرزاق اگرچہ پولیس چیف تھے لیکن وہ جنوبی افغانستان کی طاقتور ترین شخصیت شمار ہوتے تھے۔ وہ افغانستان میں طالبان اور پاکستان کے نمبر ون مخالف سمجھے جاتے تھے۔ ان کے والد، جو ایک مجاہد کمانڈر تھے کو ان کے چچا سمیت طالبان نے قتل کیا تھا اور وہ خود طالبان کی قید سے فرار ہو گئے تھے۔ حامد کرزئی کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ ابتدا میں اسپین بولدک کے علاقے اور بعدازاں قندھار پولیس کے سربراہ مقرر ہوئے۔ کئی سال سے اس منصب پر فائز رہے۔ ڈیڑھ درجن سے زائد قاتلانہ حملوں میں معجزانہ طور پر بچتے رہے اور حد درجہ بہادر سمجھے جاتے تھے۔ ان پر اپنے مخالفین کے ساتھ ناروا سلوک اور ذاتی عقوبت خانے رکھنے کا بھی الزام تھا لیکن قندھار کو طالبان سے بچا کے رکھنے میں ان کے بنیادی کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ وہ پاکستان کے شدید ترین مخالف تھے اور اس لئے امریکہ اور بھارت کے منظور نظر تھے۔ یوں اتنے طاقتور ہو گئے تھے کہ کچھ عرصہ قبل جب افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے ان کو منصب سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تو انہو ں نے اسے سننے سے انکار کر دیا اور بالآخر اشرف غنی کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ اب امریکی کمانڈر کی موجودگی میں، گورنر کے دفتر میں، اپنے انٹیلی جنس چیف کی موجودگی میں عبدالرزاق کی ہلاکت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات کس قدر خراب ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ افغان حکومت اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ امریکہ کے پاس کوئی واضح لائحہ عمل نہیں۔ طالبان کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔ خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں لیکن کیا طالبان طاقت کے بل پر افغانستان پر قابض ہو سکتے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں۔ وہ اس سے سو گنا زیادہ طاقتور ہو جائیں تب بھی افغانستان تو کیا کسی بڑے شہر پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ ایک طرف امریکی فضائی قوت ان کو ایسا کرنے نہیں دے گی اور دوسرا دنیا انہیں تسلیم نہیں کرے گی۔

طالبان کو جنگ سے کوئی تکلیف نہیں۔ اس وقت ان کا مورال بہت بلند ہے۔ جنگ کا دوام ہی ان کی بقا اور طاقت کا ضامن ہے لیکن خود طالبان بھی سمجھتے ہیں کہ صرف جنگ کے راستے سے دوبارہ افغانستان کے حکمران نہیں بن سکتے۔ یوں وہ مذاکرات تو کر رہے ہیں لیکن امریکہ یا افغان حکومت کو کوئی خاص رعایت دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ گزشتہ سترہ سال کے دوران افغان حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کرتی رہی لیکن طالبان کٹھ پتلی قرار دے کر اس کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کرتے رہے۔ اس عرصہ میں امریکی طالبان سے براہ راست مذاکرات پر آمادہ نہیں تھے جبکہ پاکستان امریکیوں پر زور دیتا رہا کہ وہ خود طالبان سے مذاکرات کا حصہ بن جائیں۔

اب پاکستان کے مطالبے پر امریکہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہو گیا اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے براہ راست مذاکرات بھی کئے لیکن اس عمل سے اب امریکہ نے افغان حکومت اور پاکستان کو باہر رکھا ہے۔ افغان حکومت سمجھتی ہے کہ اس کی عدم موجودگی میں امریکہ اور طالبان کے براہ راست مذاکرات سے اس کی رہی سہی وقعت اور حیثیت بھی ختم ہو رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان بھی اس کی عدم موجودگی میں امریکہ اور طالبان کے براہ راست مذاکرات کے بارے میں شاکی ہے۔ اسی طرح امریکہ اور افغان حکومت پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ طالبان پر ڈیل کے لئے دباؤ ڈالے لیکن روس، ایران اور چین کے ساتھ تعلقات کی استواری کے بعد اب جبکہ خود امریکہ طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے تو پاکستان کیوں کر طالبان کو ناراض کر سکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کسی فریق کے پاس کوئی واضح روڈ میپ نہیں۔ امریکہ کو جلدی ہے اور وہ شکست یا ناکامی کے الزام سے بچنے کے لئے جلدازجلد کوئی حل چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ پاکستان پر دباؤ بڑھا چکا ہے لیکن طالبان کے اصل مطالبے یعنی امریکی افواج کے مکمل انخلا سے متعلق کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ وہ پاکستان سے تعاون چاہتا ہے لیکن پاکستان کے اصل مطالبے یعنی افغانستان میں ہندوستان کے کردار کو محدود کرنے پر بھی تیار نہیں۔ اسی طرح افغان حکومت ایک طرف مذاکرات کے ذریعے حل چاہتی ہے لیکن پھر جب امریکہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کرتا ہے تو اس پر ناراض ہو جاتی ہے۔

کرزئی حکومت کے برعکس اشرف غنی کی حکومت نے امریکی فورسز کو افغانستان میں فضائی حملوں اور ہر طرح کی کارروائیوں کا تو اختیار دے دیا ہے لیکن طالبان سے بات چیت میں اپنے آپ کو ڈرائیونگ سیٹ پر رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان ایک طرف کہتا ہے کہ وہ طالبان کو مجبور نہیں کر سکتا اور دوسری طرف کہتا ہے کہ اس کے بغیر حل ناممکن ہے۔ ہمارے پالیسی ساز ابھی تک ہمیں یہ سبق ازبر کراتے رہے کہ افغانستان میں فساد کی اصل جڑ امریکی افواج کی موجودگی ہے لیکن اب ہمارے دفتر خارجہ کے ترجمان التجائیں کر رہے ہیں کہ امریکی مسئلے کے حل سے قبل نہ نکلیں۔ تمام پڑوسی ممالک امریکہ کو افغانستان میں کامیاب بھی نہیں دیکھ سکتے لیکن اس صور تحال سے بھی لرز جاتے ہیں کہ جب امریکہ افغانستان کو اس کے حال پر چھو ڑ کر بھاگ جائے۔ نہ جانے یہ کنفیوژن اسی طرح برقرار رہی تو انجام کیا ہو گا؟

نہ جانے ہم پاکستانی اس حقیقت سے آنکھیں کیوں بند کر رہے ہیں کہ افغانستان میں بدامنی اور انتشار کا سب سے زیادہ ملبہ پاکستان پر ہی آگرے گا۔ امریکہ بھاگ گیا تو شکست کے طعنے کے سوا امریکیوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایران، چین اور وسط ایشیائی ممالک بھی بڑی حد تک اپنے آپ کو اثرات سے محفوظ رکھ سکیں گے لیکن پاکستان کو اقتصادی، سماجی، سیاسی اور تزویراتی ہر حوالے سے افغانستان کی تباہی میں حصہ دار بننا پڑے گا۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ پاکستان بھرپور اور متحرک سفارتکاری کے ذریعے امریکہ، افغان حکومت، روس، چین، ایران کے ساتھ مل کر کسی سیاسی حل کا راستہ نکالے لیکن ہماری سفارت کاری کی اس وقت جو حالت ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ ہماری غیرسنجیدہ حکومت تو سعودی عرب اور چین کے ساتھ بنے بنائے معاملات بگاڑ رہی ہے کجا کہ وہ افغانستان کے اس پیچیدہ مسئلے کا حل نکال سکے۔ یا اللہ تو ہی پاکستان اور افغانستان کا محافظ ہو۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...