پیر , 19 نومبر 2018

پاکستان کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے

امریکہ نے ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان جب تک خطے میں امن اور استحکام سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا دباؤ برقرار رہے گا۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری ہنری انشر کے مطابق پاکستان کی نئی سول حکومت کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ دو طرفہ تعلقات بہتر بنائے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت تک اسلام آباد پر دباؤ برقرار رکھے گی جب تک وہ خطے میں امن اور افغانستان میں استحکام کے حوالے سے حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق بہت سے مشترکہ مفادات ہیں لیکن افغانستان میں امن و استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو کس ملک سے کیسے تعلقات رکھنے ہیں اور کیا پالیسی ہونی چاہئے اصولی طور پر ان امور بارے فیصلہ سازی پاکستان کا حق ہے۔ ایک آزاد و خود مختار ریاست کو طاقت کی لاٹھی سے ہانکنے کی خواہشات کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ امریکہ کو اپنے مفادات میں ہی امن و استحکام دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان اور خطے کے مفادات سے اسے کوئی دلچسپی نہیں۔

ثانیاً یہ کہ ہمارے لئے امریکی عہدیدار کے بیان کو ریاستی پالیسی بیان نہ سمجھنے کی کوئی ظاہری وجہ موجود نہیں۔ پچھلی چار دہائیوں سے افغانستان سے صورتحال کی بناء پر خطے میں جو مسائل پیدا ہوئے اور اب بھی موجود ہیں ان مسائل کے حل کے لئے امریکہ نے خود کتنا تعاون کیا؟ اس مرحلہ پر یہ سوال اس لئے بھی دریافت کیا جانا از بس ضروری ہے کہ ماضی میں غیر منتخب حکومتوں کو دباؤ میں لا کر جو فیصلے کروائے جاتے رہے ان کے بھی نتائج سب کے سامنے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیا محض امریکی ترجیحات کو پاکستانی ریاست کی خارجہ پالیسی اور علاقائی معاملات کا بیانیہ بنا لیا جائے؟ اصولی طور پر یہ ممکن نہیں۔ پاکستان کو اپنی خارجہ اور خصوصاً علاقائی تعلقات کی پالیسیوں میں اپنے قومی مفادات کو مد نظر رکھنا ہے نہ کہ امریکہ کے۔ بد قسمتی سے یہ نکتہ امریکی حکام سمجھنے سے قاصر ہیں۔

پاک افغان تعلقات کے حوالے سے امریکی ہدایت نامہ کسی بھی طرح درست ہے نہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں حقیقت پسندانہ۔ افغانستان صرف جغرافیائی طور پر پاکستان کا پڑوسی ملک نہیں اہم ترین رشتوں کے اور بھی حوالے ہیں۔ دونوں ملکوں کی منسلک جغرافیائی حدود میں ایک زبان‘ تہذیب‘ مذہب‘ تاریخی تعلق اور کلچر رکھنے والے کروڑوں لوگ آباد ہیں۔ دونوں طرف کے چند کند ذہن جو بھی کہتے رہیں مگر سچ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام کی اکثریت اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ بد امنی و انتہا پسندی اور دوسرے مسائل سے دونوں مشترکہ طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان نے ہمیشہ افغان حکومتوں اور عوام کے لئے اپنی بساط سے بڑھ کر تعاون کیا اور قربانی دی۔

خارجہ پالیسی کی جزیات اور علاقائی تعلقات میں عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کو تھانیداروں سا برتاؤ کرنے کی بجائے تحمل و برد باری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ دباؤ میں رکھنے یا من پسند فیصلوں پر امریکی اسرار سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی خود امریکی حکام نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ جنوبی ایشیاء اور خصوصاً افغانستان کے لئے اس کی پالیسیوں کے نتائج کیا نکلے؟ ریاستوں کے تعلقات میں طعنے بازی یا طاقت کے زعم میں احکامات صادر کرتے چلے جانا کسی بھی طور درست نہیں ہوتا۔ پاکستان کو اپنے جغرافیائی قومی و سیاسی و معاشی اور علاقائی مفادات کو پیش نظر رکھ کر پالیسیاں وضع کرنے کا حق حاصل ہے۔

خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کی جانی و مالی قربانیوں کا ساری دنیا اعتراف کرتی ہے۔ افغانستان کو دہشت گردوں کے چنگل سے محفوظ رکھنے کے لئے پاکستان نے جو کردار ادا کیا اس کا خمیازہ بھی پاکستان نے ہی بھگتا۔ افغان معاملات کے حوالے سے امریکہ کے ڈبل اسٹینڈر یا چند دیگر معاملات پر پاکستان نے تو کبھی الزام تراشی نہیں کی ورنہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کا وہ انٹرویو ریکارڈ پر موجود ہے کہ امریکی حکام نے شام اور عراق سے شکست خوردہ داعشی جنگجوؤں کو بحفاظت افغانستان پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ جناب کرزئی نے افغان سر زمین پر موجود ان امریکی مراکز کی طرف انگلی بھی اٹھائی تھی جو داعشی جنگجوئوں کے لئے استعمال ہوئے۔ بد امنی میں پھیلاؤ کے حوالے سے یہ امریکی کردار کا یہ رخ پہلی بار سامنے آیا نہ الزام لگا۔ اپنے مفادات میں القاعدہ کو اولین مرحلہ میں کس نے منظم کیا۔ افغانستان
میں پاکستان مخالف لابی کی کس کس نے کن مرحلوں پر حوصلہ افزائی کی اور اسے وسائل فراہم کئے؟

مناسب ترین بات یہ ہو گی کہ امریکہ اور پاکستان کے ذمہ دار حکام مل بیٹھ کر بات چیت کریں۔ امریکیوں کو صرف اپنی سناتے رہنے اور احکامات دینے سے گزیز کرنا ہو گا۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ ہو یا پھر دیگر مراحل اور 11/9 کے بعد کی صورتحال، ہر ہر مرحلہ پر امریکہ کے اتحادی کے طور پر جو نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہزاروں میل دور بیٹھی عالمی طاقت کو خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کا حق ہے تو یہ حق پاکستان کو کیوں حاصل نہیں؟ بہتر یہ ہو گا کہ امریکہ اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے کر سنجیدگی کے ساتھ اس امر پر غور کرے کہ اس کی افغان پالیسی کا افغانستان اور پڑوسی ملکوں خصوصاً پاکستان کو کیا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ افغانستان برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک ہے اس کی تعمیر و ترقی‘ امن و استحکام اور سماجی ارتقاء پاکستان کے لئے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

اس موقع پر یہ عرض کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں کہ پاکستان افغانستان میں امریکی خواہش اور مفادات پر مبنی بھارتی کردار کے لئے راستہ دے سکتا ہے نہ کھلی چھوٹ۔ اپنے ریاستی‘ قومی‘ خارجی اور معاشی مفادات کا تحفظ پاکستان کا حق ہے اور اس سے کسی بھی صورت دستبردار ہوا جا سکتا ہے نہ کسی طاقت کے باج گزار کا کردار ادا کرنا مناسب ہو گا۔ خطے میں پاکستان کے کردار اور پالیسیوں کا فیصلہ امریکہ نے نہیں بلکہ پاکستانی پارلیمان نے کرنا ہے اور قیادت نے پارلیمان کے فیصلوں پرعمل کرنا ہے۔ امریکیوں کو بہر صورت یہ حقیقت مد نظر رکھنا ہو گی۔

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...