بدھ , 21 نومبر 2018

آلو کے چھلکے سے بنا ماحول دوست پلاسٹک

اسٹاک ہوم (مانیٹرنگ ڈیسک ) سویڈن کے ایک موجد نے آلوؤں کے چھلکوں سے ماحول دوست پلاسٹک تیار کرلیا ہے۔ ’آلو پلاسٹک‘ کی مدد سے فاسٹ فوڈ انڈسٹری میں ایک ماحول دوست انقلاب آسکتا ہے۔سویڈن کے 24 سالہ طالب علم پونٹس ٹوئرکویسٹ نے یہ ماحول دوست پلاسٹک صرف پانی اور آلو کے چھلکوں سے بنایا ہے جو چند ماہ میں گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کےلیے انہوں نے آلو کے چھلکے سے نشاستہ نکالا اور اس میں پانی ملاکر گرم کیا۔ ہر مرحلے پر محلول گاڑھا ہوتا گیا اور بعد میں اسے سانچے،

میں رکھ کر اس سے چمچے اور دیگر اشیا بنائی گئیں۔یہ ایک طرح کا تھرمو پلاسٹک ہے جو حرارت دینے پر نرم اور ٹھنڈا ہونے پر سخت ہوجاتا ہے۔اس طرح کسی بھی طرح موڑ کر اسے من پسند شکل میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ اس سے بیگز، کٹلری اور اسٹرا بنائی جاسکتی ہیں کیونکہ آلو پلاسٹک بطورِ خاص فاسٹ فوڈ انڈسٹری کےلیے تیار کیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں صرف ایک مرتبہ استعمال ہونے والا پلاسٹک پیش کیا جاتا ہے۔عام پلاسٹک سیکڑوں ہزاروں برس میں بھی ختم نہیں ہوتا جبکہ آلو پلاسٹک کچرے میں جانے کے،

بعد صرف دو ماہ میں گھل کرختم ہوجاتا ہے۔ اس کے موجد نے بتایا کہ پلاسٹک، فاسٹ فوڈ انڈسٹری کا بہت بڑا مسئلہ ہے جو سافٹ ڈرنک، پیکنگ، چمچوں اور اسٹرا کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اگر یہ صنعت آلو پلاسٹک استعمال کرے تو اس سے بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔پونٹس ٹوئرکویسٹ کی اس اختراع پر انہیں 2018 کا جیمز ڈائسن ایوارڈ دیا گیا ہے جس میں 22 ہزار سویڈش کرونا کی رقم بھی شامل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شمشان گھاٹ میں مردہ آخری رسومات کے وقت جاگ اٹھا

راجستھان(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کےایک دوردراز علاقے میں ایک دلچسپ کیفیت اس وقت پیدا ہوگئی جب ...