پیر , 19 نومبر 2018

سعودیوں کا خاکروب، اجرت 460 ارب ڈالر

بقلم: احمد نیکنام ۔ العالم
(ترجمہ و اضافات: فرحت حسین مہدوی)
کچھ دن قبل ٹرمپ کی بادشاہ سلمان کے ساتھ بات چیت کے بعد جب ٹرمپ نے جمال خاشقجی کا قتل سرکش اور خودسر افراد کے سر تھونپ دیا تو گویا اسی وقت دنیا والوں کو اس بات کا ادراک کر لینا چاہئے کہ "سودا ہو چکا ہے”

گو کہ سعودیوں نے جمال خاشقجی کا قتل چھپانے اور محمد بن سلمان کو بری الذمہ قرار دینے کی بھرپور کوشش کی مگر جمال کی کلائی پر ایپل کی گھڑی نے اپنا کام کر کے دکھایا جس نے ان کے اوپر ہونے والے تشدد اور ان کے المناک قتل کے واقعے کو ریکارڈ کر کے سعودی قونصلیٹ سے باہر منتقل کیا اور ولیعہد کی درندگی طشت از بام ہو گئی۔

خاشقجی دو اکتوبر کو اپنی شادی کے قانونی مراحل طے کرنے کے لئے استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں داخل ہوئے اور طے شدہ منصوبے کے تحت ریاض سے آئے ہوئے 15 جلاد انہیں قتل کرنے کے بعد واپس سعودی عرب چلے گئے۔

ادھر ترک اخبار صباح نے فاش کیا کہ ترک اہلکاروں نے جمال خاشقجی پر ہونے والے تشدد اور ان کے ہولناک قتل کا ویڈیو ریکارڈ حاصل کیا ہے اور رائٹرز نے فاش کیا کہ اس کو ایک صوتی فائل ملی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاشقجی کو سعودی قونصلیٹ میں مارا گیا ہے۔

خاشقجی نے اپنا موبائل سیٹ قونصلیٹ میں داخلے سے قبل اپنی منگیتر کے سپرد کیا تھا اور ایپل گھڑی نے جو کچھ ریکارڈ کیا تھا وہ ان کے موبائل سیٹ میں بھی ریکارڈ ہوا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ خاشقجی پر ہونے والے تشدد کا صوتی ریکارڈ ہے کہاں؟ اور یہ اہم دستاویز ابھی تک فاش کیوں نہیں ہو رہی ہے جبکہ اگر فاش ہو جائے تو اس قتل میں سعودی ولیعہد کا کردار عیاں ہو جائے گا؟

خاشقجی کے قتل کا اعتراف، سعودی ولیعہد کو بےقصور ٹہرانا
بنی سعود کے حکمران اٹھارہ دن آئیں بائیں شائیں کرنے کے بعد آخرکار قتل کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے اور 18 افراد کو مجرم قرار دے کر ان کی گرفتاری کا اعلان بھی کیا!!!

سعودی حکمران کہتے رہے کہ کہ جمال خاشقجی سعودی قونصلیٹ میں داخل ہی نہیں ہوئے! پھر کہا کہ آئے تھے لیکن چلے گئے!! پھر کہا کہ اس کو قونصلیٹ میں قتل نہیں کیا گیا!!!

سعودی اٹارنی جنرل سعودی بن عبداللہ المعجب نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ خاشقجی قونصلیٹ کے اندر کچھ افراد سے جھگڑ پڑے تھے جس کے نتیجے میں وہ مارے گئے ہیں حالانکہ ہمارے کچھ افراد خاشقجی کے ساتھ ان کی ریاض واپسی کے سلسلے سے ان سے بات چیت کرنے استنبول گئے تھے!!!

سلمان بن عبدالعزیز نے خاشقجی کے قتل کی تصدیق ہونے کے بعد کچھ افراد کو قربانی کے بکروں کا تعین کر کے انہیں پہلے مرحلے میں ملازمت سے برخاست کیا جن میں سعودی انٹیلجنس کے نائب سربراہ اور دربار سعودی کے مشیر اعلی سعود القحطانی سمیت سیکورٹی اور انٹلیجنس کے 18 افراد شامل ہیں۔

دریں اثناء سعودی ذرائع نے فاش کیا ہے کہ سعود القحطانی 9 اکتوبر سے اپنے دفتر سے غیر حاضر ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی ان کا اکاؤنٹ اپڈیٹ نہيں ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ القحطانی خاشقجی کا شدید دشمن تھا اور قاتلوں میں سے دو افراد القحطانی کے خاص افراد میں سے ہیں۔ علاوہ ازیں القحطانی اس سے قبل جعلی پاسپورٹ لے کر اکتوبر کے آغاز میں ترکی کے دور پر بھی گئے تھے!!!!

نیویارک ٹائمز نے العسیری کی برخاستگی کی خبر شائع ہونے سے قبل پیشن گوئی کی تھی کہ سعودی بادشاہ کی نجات کے لئے العسیری کو اس قتل کا قصوروار ٹہرا کر قربانی کا بکرا بنائیں گے۔

ادھر سعودی بادشاہ نے ایک پرمعنی اقدام کے ضمن ميں سعودی انٹلیجنس کی اصلاح کے لئے محمد بن سلمان کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے!!!

سعودی اٹارنی جنرل کا بیان ایک روش پیغام کا حامل ہے اور وہ یہ کہ "کچھ خودسر افراد نے جمال خاشقجی کے قتل کا منصوبہ بنایا اور سعودی حکومت کا اس حوالے سے کوئی قصور نہ تھا، گو کہ یہ منظرنامہ حقائق نیز ترک ذرائع کے موقف سے متصادم ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے کا رد عمل
سعودی اٹارنی جنرل کے بیان اور جمال خاشقجی کے قتل کے اعتراف کے بعد، اقوام متحدہ کی غیر قانونی پھانسیوں اور سزاؤں کے ادارے کے خصوصی رپورٹر نے سعودی بیان کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ دنیا کی کسی بھی حکومت کو سعودی اعتراف قبول نہيں کرنا چاہئے نیز کسی بھی حکومت کو سعودی حکومت کی وضاحت اور اس کی طرف سے تحقیقات کا اعلان تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔

اس بین الاقوامی ادارے نے معتبر، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ تا کہ خاشقجی کے قاتل اور اس عجیب دہشتگردانہ کاروائی کے ماسٹر مائنڈ کا سراغ لگایا جا سکے۔ [لگتا ہے کہ اس بین الاقوامی ادارے کو بھی ماسٹر مائنڈ کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے!!!!!]ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی فوری، آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

جبکہ ایک ہفتہ قبل بھی بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادراوں، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ‘رپورٹرز بغیر سرحد’ (Reporters Without Borders) اور صحافیوں کی حمایتی کمیٹی نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ سے سعودی صحافی کے لاپتہ ہونے کے سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم: خاشقجی ولیعہد ایم بی ایس کی ہدایت پر مارے گئے ہیں۔

بنی سعود کی طرف سے جمال خاشقجی کے قتل کے سرکاری اعتراف سے قبل، گذشتہ جمعرات (18 اکتوبر 2018ع‍) کو ، سینیئر رپیبلکن امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا تھا کہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا۔ انھوں نے پہلی بار اعتراف کیا کہ سعودی ولیعہد نے گذشتہ سال لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کو بھی اغوا کیا تھا۔

گراہم نے اپنے انٹرویو میں سعودی ولیعہد کی تبدیلی کی فوری ضرورت پر زور دیا اور جمال خاشقجی کے قتل اور الحریری کے اغوا میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔

عجب یہ ہے کہ ایم بی ایس نے گذشتہ سال 4 نومبر کو ایک خودمختار ملک کے وزیر اعظم کو اغوا کیا تھا اور اس نے فرانسیسی صدر امانوئل میکروں کی وساطت سے نجات پائی تھی اور ابھی اس حماقت کا سال پورا ہونے میں ایک مہینہ اور دو دن باقی تھے کہ ایم بی ایس نےـ اس بار ترکی کی سرزمین پرـ دوسری بڑی اور رسوا کن حماقت کا ارتکاب کیا اور آل سعود پر تنقید کرنے والے مشہور صحافی کو قتل کیا اور اس واردات نے دنیا بھر کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

بھنیا مزاج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر معلوم ہو جائے کہ جمال خاشقجی بنی سعود نے قتل کیا ہے تو ریاض کو "سخت سزا” دیں گے لیکن اب جبکہ سعودیوں نے باقاعدہ اعتراف بھی کر لیا ہے کہ خاشقجی سعودی قونصلیٹ کے اندر ایک جھگڑے کے دوران مار دیئے گئے ہیں، تو جناب ٹرمپ کی زبان بالکل بند ہے بلکہ انھوں نے یہ تک بھی کہا ہے کہ "یہ کچھ خودسر لوگوں کا کام ہے” اور نہ سزا کے حوالے سے کوئی بات سامنے آ رہی ہے نہ ہی انسانی حقوق کے لئے سینہ گریبان چاک کیا جا رہا ہے [یہ اور بات ہے کہ خودسر لوگ کسی ملک کے قونصلیٹ میں کیونکر آ سکتے ہیں اور پھر اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کر کے باہر کیونکر نکلتے ہیں اور ترکی کی پولیس کو کیوں خبر نہیں دی جاتی وغیرہ وغیرہ؟]

ٹرمپ: ریاض کی وضاحت قابل قبول ہے!
کچھ دن قبل ٹرمپ نے بادشاہ سلمان کے ساتھ بات چیت کے بعد جب ٹرمپ نے جمال خاشقجی کا قتل سرکش اور خودسر افراد کے سر تھونپ دیا تو گویا اسی وقت دنیا والوں کو اس بات کا ادراک کر لینا چاہئے کہ "سودا ہو چکا ہے” اور اب جبکہ سعودی سرکار نے باضابطہ طور پر اس قتل کا اعتراف کیا ہے اور "[غالبا] متفقہ منظرنامے” کی رو سے، بن سلمان اور بنی سعود کی حکومت کو اس الزام سے بری قرار دیا گیا ہے، تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جانبدارانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میرا خیال ہے کہ سعودی عرب کی وضاحت "قابل قبول” ہے اور وہ خود بھی اس سلسلے میں امریکی کانگریس کے ساتھ تعاون کریں گے اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ بات چیت کریں گے”۔ [کہا جاتا ہے کہ جس طرح کہ امریکی حکومت کے پاس سعودیوں کی بلیک میلنگ کے بہت سے اوزار موجود ہیں، اسی طرح بنی سعود کے پاس کم از کم ٹرمپ کی بلیک میلنگ کے اوزار کم نہیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ بنی سعود نے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کو کافی بڑا فنڈ مہیا کیا ہے اور اگر فریقین راز افشاء کرنے پر اتر آئیں تو اگر بنی سعود کی رہی سہی عزت نیلام ہو گی تو ٹرمپ کی رہی سہی عزت بھی نہیں بچ سکے گی]۔

ٹرمپ نے ابتدائی رد عمل میں دھمکیاں دیں لیکن بعدازاں ان کے کام موقف میں نرمی ہی نہیں آئی بلکہ بنی سعود کی حمایت میں ان کا موقف بالکل بدل ہی گیا جس سے اس شبہے کو تقویت ملی کہ بنی سعود کو بےقصور ٹہرانے کا منظرنامہ ہی شاید امریکہ نے تیار کیا ہے اور امریکہ ہی اس کے نفاذ کی قیادت کر رہا ہے جس کا مقصد کچھ خفیہ لین دین کی رازداری اور 460 ارب ڈالر کے اسلحے کے سودے کو بچانا ہے کیونکہ بھنیا پن کی پہلی شرط انسانیت نہیں بلکہ پیسہ ہے۔

اب البتہ عالمی رائے عامہ کو معلوم ہو چکا ہے کہ جمال خاشقجی کے المناک قتل کے سلسلے میں امریکی صدر جناب ٹرمپ کا کردار بنی سعود کے ایک ادنی خاکروب کا سا ہے جو جمال خاشقجی کے خون کو بھی اور بنی سعود کے جرائم کے اثرات کو بھی صاف کرنے پر مامور ہیں تا کہ ان کے بقول شیردار گائے کو بچایا جا سکے، 460 ارب ڈالر کے سودے کو مقاطعوں اور پابندیوں سے دور رکھا جا سکے اور مزید بلیک میلنگ کی راہ ہموار کی جا سکے۔

یہ سلسلہ چلتا رہے گا اس وقت تک جب تک کہ دنیا عدل کے مفہوم کو نہ سمجھے گی اور اس کے نفاذ کے لئے عالمی سطح پر عالمی اقدام نہ کیا جائے گا۔ بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...