بدھ , 21 نومبر 2018

میرا بچہ، میری ذمہ داری

(تحریر: سیدہ سائرہ بانو)
مورخہ 17 اکتوبر 2018 کو زینب کے قاتل عمران کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی کے بعد زینب کے والد امین انصاری صاحب نے میڈیا سے گفتگو کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے والدین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کا معاشرہ اب پروان چڑھ چکا ہے اس میں تمام والدین کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی گھر سے باہر آمدورفت کے سلسلہ میں محتاط اور چوکنے رہیں۔ امین انصاری صاحب کی بات سو فیصد درست ہے۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت اور حفاظت کے براہ راست ذمہ دار ہوتے ہیں۔ بیٹا ہو یا بیٹی۔ دونوں کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ نہ صرف گھر سے باہر بلکہ گھر کے اندر بھی ان کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ گھر کے ماحول کو محفوظ تصور کرتے ہوئے بچوں کو نظرانداز کرنا درست نہیں۔ اسی لئے ہمارے دین نے رشتوں کی حدود و قیود بتانے کے ساتھ ان سے محتاط رہنے کی بھی تاکید کی ہے۔ دیکھا جائے تو گھر کا ماحول گھر کے بڑے بناتے ہیں۔ اب یہ گھر کے سرپرست پر منحصر ہے کہ وہ متعلقہ و غیرمتعلقہ افراد کی آمدورفت اور نشست و برخاست کو گھر کے کن حصوں تک محدود رکھتا ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہوتا ہے اور اگر گھر کے بڑے اس معاملہ کی حساسیت کو سمجھ لیں تو بچوں کے کسی ناخوشگوار واقعہ سے محفوظ رہنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ کسی پیچیدہ اور غیر معمولی صورتحال سے بچنے کے لئے ان باتوں سے گریز کریں:

• بچوں کو پڑوس/رشتہ داروں کے گھر کھیلنے یا کسی کام کے لئے اکیلے بھیجنا۔
• دکان پر بار بار یا روزانہ سودا سلف لینے کے لئے بھیجنا۔
• محرم/نامحرم رشتہ داروں یا متعلقین کے ساتھ بچوں کی اکیلے نشست۔
• دوست/رشتہ دار بچوں کا آپس میں اکیلے نشست کرنا۔
• والدین کا اپنے کسی بھی رشتہ دار/دوست/گھریلو ملازمین کے ساتھ بچوں کو گھر سے باہر بھیجنا۔
• والدین کا (گھر سے عارضی یا طویل غیر حاضری کی صورت میں) بچوں کو کسی عزیز/رشتہ دار کے گھر چھوڑ کر جانا۔
• بچوں کو سکول اکیلے آنے جانے دینا۔
• قاری حضرات سے بچوں کو قرآن کا درس دلانا۔ (یہاں احتیاط کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ مراد یہ نہیں کہ تمام قاری حضرات مشکوک ہوتے ہیں)
• بچوں کی بلاضرورت سمارٹ فون/انٹرنیٹ تک رسائی۔
• اور سب سے اہم یہ کہ بچوں سے بےجا سختی کرنا۔ (جس کے نتیجے میں وہ والدین سے خوف کھاتے ہیں اور ان کے مابین اعتماد کا رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔ بچے والدین سے اپنے خیالات و احساسات چھپاتے ہیں اور سہارے تلاش کرتے ہیں اور یوں خدانخواستہ وہ کسی غلط صحبت کا شکار ہو سکتے ہیں)

نوٹ: یہ تحریر زینب قتل کیس کے تناظر میں والدین کی آگاہی کے لئے لکھی گئی ہے۔ کسی خاص فرد یا اکائی کو ہدف بنانا مقصود نہیں۔ امید کرتی ہوں کہ ہم سب مل کر اپنے بچوں کی حفاظت کر کے ان کو کسی بھی غیر متوقع اور خطرناک صورتحال سے بچنے میں مدد فراہم کریں گے۔ ہم سب کو چاہیے کہ بچوں کو بھی اپنی حفاظت آپ کرنے کی تربیت دیں۔ یہ ان کا حق ہے۔ ان کو ان کے حق سے محروم نہ کریں۔ بس اتنا یاد رکھیں: میرا بچہ، میری ذمہ داری!!

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...