پیر , 19 نومبر 2018

کیا خاشقجی کا معاملہ ختم ہو گیا ہے؟

العالم نیوز (ترجمہ تسنیم خیالی)

آخر کار خاشقجی کے معاملے کے 18 روز بعد سعودی حکومت نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ خاشقجی جی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں مارے گئے ہیں، سعودی صحافی کے معاملے کو فالو کرنے والوں کو اس بات کا شروع سے ہی یقین تھا کہ اس میں سرفہرست ملزم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکومت ہے البتہ سعودی حکومت کی اس معاملے سے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش اور سعودیوں کو حاصل امریکی حمایت نے اس معاملے کو طوالت دی، سعودی عرب کی جانب سے اس معاملے کے حوالے سے جاری بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے آل سعود کو یہ حل دیا ہے کہ وہ خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری ’’غیر ذمہ دار‘‘ افراد پر عائد کرے، یوں اب بن سلمان سرفہرست ملزموں میں نہیں رہے اور دیگر افراد کو قربانی کا بکر بنا دیا گیا ہے اور بلاشبہ بن سلمان اب تک تو کامیاب ہو گئے ہیں۔

بن سلمان کامیاب ہو گئے ہیں کیوں کہ اسے لگ رہا ہے اس کا مقصد پورا ہو گیا ہے، خاشقجی کو قتل کرنے کے مقاصد میں سے ایک مقصد سعودی نظام کے تمام مخالفین خواہ وہ ملک کے اندر ہوں یا باہر ایک خوفناک اور دھمکی آمیز پیغام پہنچانا تھا کہ مخالفین اس کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتے۔ بن سلمان یہ بھی ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ امریکی اس کی حکومت اور نظام کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔ علاوہ ازیں بن سلمان کی ایک اور کامیابی یہ ہے کہ وہ خاشقجی کے معاملے کے ذریعے لوگوں کے ذہن سے ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کی توہین کے معاملے کو بھی فراموش کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں نیز خاشقجی کے معاملے کے ذریعے بن سلمان نے خود ٹرمپ کو بھی ایک سبق سیکھایا ہے اور وہ یہ کہ امریکہ اور سعودی عرب دونوں ہی ایک دوسرے کے ضرورت مند ہیں مگر حقیقت یہ بھی ہے بن سلمان کو بھی اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر اس کی حکومت دو ہفتے بھی نہیں نکال سکتی۔

اگر بن سلمان اور سعودی نظام یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ جیت چکے ہیں تو یہ یاد رکھیں کہ خاشقجی کی فائل ابھی تک بند نہیں ہوئی، بن سلمان اور ٹرمپ کو مزید چند سوالات کے جواب دینےہوں گے مثلاً فرض کر لیتے ہیں کہ خاسقجی قونصل خانے میں ہونے والی ایک ہاتھا پائی کے نتیجے میں مارے گئے تو پھر سعودی نظام کو خاشقجی کے ماے جانے کے اعلان کو 18 دن کیوں لگے، بلکہ سعودی تو 18 دنوں سے یہی کہہ رہے تھے کہ قونصل خانے میں داخل ہونے کے 20 منٹ بعد واپس چلے گئے تھے۔
اگر ہم اس بات کو بھی مان لیں کہ خاسقجی کو غیر ذمہ دار افراد نے سعودی قیادت کی لاعلمی میں قتل کیا ہے مگر اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ سعودی ایک ایسا ظالم اور سیاہ نظام ہے جو اپنے مخالفین پر ہر وقت کڑی نظر رکھتا ہے۔

تیسری غور کرنے والی بات اس معاملے میں امریکی خاموشی کے گرد گھومتی ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی شخص اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ اور خاشقجی کے معاملے کے حوالے سے کوئی علم نہیں تھا، چلو مان لیتے ہیں کہ ٹرمپ کو کوئی خبر نہیں اس صورت میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جانے تھے، البتہ گزشتہ 18 دنوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ٹرمپ انتہائی اس معاملے کو سرد مہری سے لے رہے ہیں، جس کا مطلب یہی ہے کہ وہ سب کچھ جانتے تھے اور ایسا کرنے کی قیمت بھی انہوں نے وصول کر لی ہے۔

شاہ سلمان اس وقت اپنے بیٹے کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے لئے انہوں نے 18 افراد کو قربانی کا بکرا بھی بنا دیا ہے، علاوہ ازیں اپنے بیٹے کو بے قصور دکھانے کی غرض سے انہوں نے اسے سعودی انٹیلی جنس ادارے میں بہتری اور بڑے پیمانے پر تبدیلی کا ٹاسک دیا ہے، اب سوال یہ کہ کیا میڈیا خاشقجی کے معاملے میں خاموشی اختیار کرے گا؟

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...