پیر , 19 نومبر 2018

بیوروکریسی عمران خان سے تعاون کیوں نہیں کر رہی ؟

(مزمل سہروردی)
عمران خان کو بیوروکریسی اور پولیس سے عدم تعاون پر شدید غم و غصہ ہے۔ وہ اب تک اپنی ناکامی کی بڑی وجہ بیوروکریسی کا عدم تعاون سمجھ رہے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن جہاں انھوں نے مرض کی درست تشخیص کر لی ہے وہاں وہ اس کا درست علاج نہیں کر رہے ہیں۔

عمران خان یہ سمجھ رہے ہیں کہ بیوروکریسی کے عدم تعان کی وجہ ان کی ن لیگ سے ہمدردیاں ہیں۔ لیکن یہ درست نہیں ہے۔ بیوروکریٹ کا تعلق کسی جماعت سے نہیں ہوتا۔ وہ اپنی نوکری سے وفادار ہوتا ہے۔ وہ ہر حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ اقتدار کے ایوانوں میں رہنا پسند کرتا ہے۔ تبادلے اور تعیناتی کے درمیان گھونے والا بیوروکریٹ کسی مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ وفادار ہونے کا متحمل ہی نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا ماضی گواہ ہے کہ یہ ہر حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ انھوں نے کبھی جانے والے کے ساتھ جانے کی کوشش نہیں کی بلکہ آنے والے کے ساتھ تعاون ہی ان کا نصب العین رہا ہے۔

میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اس وقت بیوروکریسی شدید عدم تحفظ، ایک ڈر اور خوف کا شکار ہے۔ وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ ایک ایسی فضا بن گئی ہے جس میں سب خود کو نشانے پر سمجھ رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ عموی فضا ہے کہ یہ ایک برا وقت ہے اسے چپ کر کے گزار لیا جائے۔ اگر بچ گئے تو کام بھی کر لیں گے۔ یہ ماحول عمران خان کی حکومت کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں ہے۔ بیوروکریسی کے اندر یہ احساس بھی ہے کہ یہ حکومت ان کا تحفظ کرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ ماضی کے حکمرانوں کے خلاف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بیوروکریسی کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ حکومت وقت کی بات مانیں تو مرتے ہیں اور نہ مانیں تو مرتے ہیں۔ اگر انھوں نے ماضی کے حکمرانوں کی بات مانی تھی تو آج مر رہے ہیں اور آج کے حکمرانوں کی نہیں مان رہے تو مر رہے ہیں۔ اس کا فیصلہ تو آنے والے حکمران ہی کریں گے کہ یہ حکومت ٹھیک کام کر رہی ہے کہ نہیں۔ اس لیے اگر آج مان بھی لی جائے تو کل حساب تو دینا پڑے گا۔ اس لیے کام نہ کرنا ہی بہتر ہے ۔

آپ دیکھیں ابھی پاکستان کی افسر شاہی فواد حسن فواد اور احد چیمہ کی نیب گرفتاریوں کے غم سے ہی نکلی تھی کہ عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو بھی نیب میں حاضری کے نوٹس وصول ہو گئے ہیں۔ ابھی پنجاب کے بیوروکریٹ نیب کے شکنجے سے باہر ہی نہیں نکلے تھے کہ کے پی کے بیوروکریٹ بھی نیب کے شکنجے میں پھنستے نظر آ رہے ہیں۔ یہ حکومت تو پہلے ہی پنجاب کے بیوروکریٹس کے بغیر چل رہی ہے اور اب اگر کے پی کے بیوروکریٹس بھی پیچھے ہٹ گئے تو کیا ہو گا۔ سندھ میں پہلے ہی حالات اچھے نہیں ہیں۔ ایسے میں عمران خان کہاں سے لائیں گے، وہ بیوروکریٹ جو ان کی حکومت کو چلائیں اور اس حکومت کی کشتی کو بحران سے نکال کر باہر لے جائیں۔ اعظم خان کو نیب کے پروانے کے بعد ایسا مشکل سے مشکل ہوتا نظر آ رہا ہے۔

عمران خان ویسے تو ملک کو نیا سیاسی کلچر نہیں دے سکے ہیں۔ ان کی کرپشن کے خلاف تحریک کی ناکامی کی بنیادی وجہ ان کے اپنے لوگ ہیں۔ جب ان کی اپنی جماعت میں نیب زدگان کی بھرمار ہے۔ جب ان کے اپنے ارد گرد ایسے لوگ موجود ہیں جن پر انگلیاں اٹھائی جا سکتی ہیں تو ان کی جانب سے اپوزیشن پر لگائے جانے والے الزامات پر کون یقین کرے گا۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ عمران خان اپنے ساتھ موجود نیب زدگان کو حکومت کے عہدوں سے کیوں نہیں ہٹا دیتے۔ اگر عمران خان کرپشن کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں۔ تو انھیں اپنی ارد گرد سے بھی نیب زدگان اور کرپٹس کو نکالنا ہو گا۔ ایسے کیسے چلے گا کہ وہ اپوزیشن پر الزام تراشیاں کرتے رہیں اور اپنے ساتھ آنے والوں کو پناہ بھی دیتے رہیں۔

ادھر نیب بھی شدید دباؤ میں ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ صرف اپوزیشن کو ہی نشانے پر رکھ کر نیب اپنی شفافیت اور غیر جانبداری برقرار رکھ سکے لیکن عمران خان کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ اپوزیشن نے تو نیب کے بڑے بڑے جھٹکے برداشت کر لیے ہیں اوراپنی بقا ممکن بنا لی ہے لیکن عمران خان تو نیب کی ایک دو کارروائیوں کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے۔

آج کل اقتدار کے ایوانوں میں یہ بازگشت عام ہے کہ شہباز شریف کے بعد ایک وفاقی وزیر کی گرفتاری کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے اہم وزیر کی گرفتاری کی تیاری بھی مکمل کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں بھی کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد اس حکومت کا کیا ہو گا۔

پولیس میں بھی حالات بیوروکریسی سے مختلف نہیں ہیں۔ خیر سے پولیس اصلاحات کے غبارے سے تو ہوا نکل گئی ہے۔ وہ ابہام ختم ہو گیا ہے۔ سب کو سمجھ آ گئی ہے کہ پولیس ویسے ہی چلے گی جیسے چل رہی ہے۔ کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ناصر درانی اپنے استعفیٰ سے پولیس اصلاحات کو دفن کر گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی پولیس افسران اس حکومت کے ساتھ کام کرنے میں خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہے۔ ایک طرف اندر کی خبر یہ ہے کہ پنجاب میں تمام تبادلے سیاسی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔

احکامات تو یہی ہیں کہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی بھی مقامی ارکان اسمبلی کی سفارش پر ہی لگائے جائیں۔ یہ کام پہلی حکومتیں بھی کرتی تھیں۔ کوئی نیا نہیں ہے لیکن پہلی حکومتیں ان کاموں کا سیاسی محاذ پر دفاع بھی کرتی تھیں۔ وہ ذمے داری بھی لیتی تھیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاسی بیانیہ تو یہ ہو کہ پولیس میں کوئی سیاسی سفارش نہیں ہو گی اور اندر سے سیاسی سفارشیں بھی چلیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اوپر سے منظر نامہ شفاف ہو اور اندر سے گند برقر ار رہے۔ اگر پرانا نظام چلانا ہے تو بیانیہ بھی تبدیل کرنا ہو گا۔ اس طرح پولیس کنفیوژ ہے۔ انھیں یقین نہیں کہ کچھ غلط ہونے کے بعد یہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی بھی ہو گی کہ نہیں۔ اس لیے عمران خان ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ انھیں پولیس کی طرف سے بھی عدم تعاون کی شکایت ہے۔ لیکن انھیں مسئلہ تو سمجھ آ گیا ہے لیکن وہ مسئلہ کا حل کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔

عمران خان کی ایک سب سے بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ وہ ملک میں فوری طور پر کوئی نئی بیوروکریسی نہیں لا سکتے۔ گریڈ بیس اور اکیس کے افسر اب کہیں سے امپورٹ نہیں کیے جا سکتے۔ جو موجود ہیں ان سے ہی کام لینا ہے۔ شاید نئے سیاستدان لانا تو ممکن ہے۔ جمہوریت کی جگہ آمریت بھی لے سکتی ہے۔ لیکن افسر شاہی نے تو اپنی جگہ موجود رہنا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ساری افسر شاہی کرپٹ ہے۔ سارے نیب کو مطلوب ہیں۔ لیکن سب خوف میں ہیں۔ اور یہ خوف کام کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ خوف کیسے دور کیا جائے۔ اس کا کوئی فوری حل ممکن نہیں۔ اس میں وقت لگے گا اور وقت ہی تو عمران خان کے پاس نہیں ہے۔ بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...