پیر , 19 نومبر 2018

وہ ایک سوال جس سے محمد بن سلمان پھنس گئے

18 دن گزر جانے اور اس درمیان بری طرح پھنس جانے کے بعد سعودی عرب کے ولیہد کو اعتراف کرنا پڑا کہ سینئر نامہ نگار جمال خاشقجی کی موت ہو گئی ہے۔

یہ وہی بن سلمان ہیں جو اس سے پہلے بلومبرگ سے انٹرویو دیتے ہوئے بڑے اعتماد سے کہہ رہے تھے کہ جمال خاشقجی ترک کے شہر استنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے میں آئے اور واپس چلے گئے، ہم بھی یہی جاننا چاہتے ہیں کہ جمال کہاں ہیں؟ بن سلمان نے بڑی رعونت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ قونصل خانہ تو سعودی عرب کی ملکیت ہے لیکن اگر ترک حکومت چاہے تو ہم اسے قونصل خانے کی تلاشی کی اجازت دے سکتے ہیں۔

بن سلمان نے ساری دنیا کی آنکھ میں دھول چھونکنے کی کوشش کی کیونکہ بن سلمان کا یہ خیال ہے کہ وہ پیٹرو ڈالر کی مدد سے جو بھی چاہئں کر سکتے ہیں تاہم جمال خاشقجی کے مسئلے میں ترکی کی خفیہ ایجنسی، امریکی ذرائع ابلاغ اور امریکی کانگریس نے سلسلے وار طریقے سے بہت منظم قدم اٹھائے جس کے نتیجے میں محمد بن سلمان پھنستے چلے گئے۔

وہ اتنی بری طرح پھنس گئے کہ انہیں اپنا عہدہ بھی خطرے میں نظر آنے لگا ہے۔ جب سب کچھ محمد بن سلمان کے ہاتھ سے نکل گیا تب انہوں نے اپنے والد سلمان بن عبد العزیز کو مداخلت کے لئے تیار کیا بلکہ یوں کہا جائے کہ بن سلمان اپنے والد کی آڑ میں روپوش ہو گئے۔

اب سعودی عرب نے باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے کہ 2 اکتوبر سے لاپتہ نامہ نگار جمال خاشقجی کی موت ہو گئی ہے۔ ریاض حکومت نے اپنے بیان میں دعوی کیا کہ استنبول میں قونصل خانے کی عمارت کے اندر ایک درجن سے زائد سعودی افسروں سے جمال خاشقجی کی لڑائی ہو گئی جس کے دوران خاشقجی کی موت واقع ہو گئی ۔ خاشقجی اور سعودی افسروں کے درمیان گفتگو کے دوران جھگڑا ہو گیا اور خاشقجی کی موت ہو گئی ۔

18 دن تک سعودی حکومت یہی رٹ لگائے ہوئے تھی کہ نامہ نگار کے لاپتہ ہونے کے واقعے میں وہ ملوث نہیں ہے۔ سعودی عرب کے حکومتی ٹیلویژن نے اعلان کیا کہ 5 سینئر سیکورٹی حکام کو برطرف کر دیا گیا ہے اور 18 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی میں سعودی عرب ہمارا اہم اتحادی ہے لیکن جو کچھ ہوا ہے اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے کہا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر خاشقجی کے قتل کے مسئلے میں مناسب اقدامات پر غور کر رہے ہیں لیکن ہم سعودی عرب پر پابندی عائد نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے سعودی عرب کو امریکا کی جانب سے ہتھیاروں اور اسلحوں کی فروخت کے سودے متاثر ہوں گے۔

اس پورے عمل میں ترک خفیہ ایجنسی نے بڑی مہارت سے خفیہ اطلاعات میڈیا میں آہستہ آہستہ جاری کیں۔ اس طرح یہ مسئلہ تیسرے ہفتے بھی میڈیا کی سرخیوں میں رہا۔ یہاں تک کہ سعودی حکومت کو اپنی اکڑ چھوڑنی پڑی اور یہ اعتراف کرنا پڑا کہ قونصل خانے کے اندر ہی نامہ نگار کی موت ہو گئی تاہم اب بھی بہت سے سوال باقی ہیں۔ ایک سوال تو یہی ہے کہ ترک خفیہ ایجنسی کے حوالے سے میڈیا میں جو خبریں آئی کہ نامہ نگار کے جسم کو آری سے کاٹا گیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے، ان کے بارے میں سعودی عرب کیا جواب دے گی جبکہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موت کے بعد نامہ نگار کی لاش کا کیا ہوا؟ سعودی عرب نے یقینی طور پر لاش کو چھپا دینے اور پوری طرح تباہ کرنے کی بڑی کوششیں کی ہیں اور اب اسے جواب دینا پڑے گا کہ خاشقجی کی لاش کہاں ہے اور اگر نامہ نگار کی لاش مل جاتی ہے تو پوسٹ مارٹم سے بہت سے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔

در ایں اثنا یہ بھی مسئلہ گرم ہے کہ سعودی حکومت اس مسئلے میں کچھ سیکورٹی حکام اور ممکنہ طور پر کچھ سفارتکاروں کو قربانی کا بکرا بنا کر کہانی ختم کر دینا چاہتی ہے۔ یہی خواہش امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے جن کی نظریں سعودی عرب کی دولت پر لگی ہوئی ہیں مگر دوسری جانب سعودی عرب اور ٹرمپ پر اتنا زیادہ دباؤ ہے کہ انہیں بہت سے کام خواہش کے برخلاف کرنے پڑ رہے ہیں۔ بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...