بدھ , 21 نومبر 2018

فلسطینی اتھارٹی کے کلیدی عہدے من پسند افراد کے لیے کیوں؟

فلسطینی اخبارات میں آئے روز خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے فلاں عہدیدارکا صاحبزادہ یا صاحب زادی فلاں کلیدی عہدے پر تعینات کردی گئی۔ اہم عہدوں پر تقرری کے فلسطینی اقدامات میں اہلیت کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ وزیروں، سیکرٹریوں اور دیگر عہدیداروں کے بیٹے بیٹیوں میں کلیدی سرکاری پوسٹیں ریوڑیوں کی طرح بانٹی جاتی ہیں۔ دوسری طرف باصلاحیت عام نوجوان ڈگریوں کے پلندے اٹھائے پھرتے ہیں۔ قوم کے اشراف کو دو قت کی روٹی میسر نہیں اور ذلیل و لئیم لوگ من وسلویٰ سے مزے اڑا رہے ہیں۔

کلیدی عہدوں پر من پسند افراد کی تعیناتی کی ایک تازہ مثال حال ہی میں دیکھی گئی۔ فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے قاضی القضاۃ اور صدر عباس کے مشیر محمود الھباش کی صاحبزادی شیماء محمود کو ایک معمولی پوسٹ سے اٹھا کر استنبول میں فلسطینی قونصل خانے میں تعینات کر دیا۔ شیماء قاضی القضاۃ کے دفتر میں ایک عام ملازمت کرتی تھی مگر اس کے والد کے اعلیٰ عہدے پر ہونے کی بدولت شیماء کو بیرون ملک فلسطینی سفارت خانے کی ایک اعلیٰ‌ پوسٹ پر تعینات کر دیا گیا۔

ریاض المالکی نے شیماء محمود کے کیس پر لکھا یہ تعیناتی ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کی جا رہی ہے اور اس تعیناتی کا حتمی فیصلہ صدر محمود عباس کریں گے۔

جس انداز میں محمود الھباش کی بیٹی کی تقرری کی گئی ہےاس نے فلسطینی اتھارٹی کے کردار کو عوام میں مزید مشکوک اور سوالیہ بنا دیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ شیماء کی ایک بہن اسراء کو یونیورسٹی سے فراغت کے صرف ایک ماہ کے بعد ایوان صدر میں ملازمت دی گئی اور یہ ملازمت بھی اسے درجہ سی میں دی گئی تھی۔

رام اللہ میں فلسطینی پراسیکیوٹر جنرل اور وکلاء کے درمیان بھی اعلیٰ عہدوں پر مقرب اور من پسند افراد کی تقرریوں پر بحث کی گئی۔

فلسطینی عوام بجا طور پر محمود عباس سےاور فلسطینی اتھارٹی سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آیا کلیدی عہدوں پر باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعیناتی ان کا حق نہیں۔ حال ہی میں فلسطینی پراسیکیوٹرشن آفس میں بھی ایسی ہی بوگس اور من پسند افراد کی تعیناتیاں کی گئیں جس پر فلسطنیوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

میڈیا پر نشر کردہ پوسٹوں ‌کی تعداد 25 تھی جب کہ امیدواروں کی تعداد 800 سے زائد تھی۔ ان میں سے زیادہ تر ان افراد کو لیا گیا جو کسی اعلیٰ عہدیدار کے قریبی یا ان کے سفارشی تھے۔

ماضی کی ایک جھلک
فلسطینی پراسیکیوشن آفس میں من پسند افراد کی تقرریوں یا محمود الھباش کی بیٹیوں کی میرٹ کے خلاف تعیناتی پہلا واقعہ نہیں۔سنہ 2016ء میں پراسیکیوٹر کے شعبے کے 7 اہلکاروں کو میرٹ کے خلاف ترقی دی گئی۔ ان میں انٹیلی جنس چیف ماجد فرج کا بیٹا بشار ماجد بھی شامل تھا۔

اسی سال یہ معلوم ہوا کہ پراسیکیوٹر کے ایجنٹوں کے طورپر متعدد وزراء کے اقارب کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان میں محمود الھباش کا صاحبزادہ انس محمود الھباش بھی شامل ہے۔ بعد ازاں اسے خلاف میرٹ ترقی بھی دی گئی۔

میرٹ کی کھلے عام پامالی
فلسطین میں سرکاری محکموں میں میرٹ کے خلاف تعیناتی کے واقعات پر عوامی سطح پر سخت رد عمل جاری ہے۔فلسطینی تجزیہ نگار ڈاکٹر عزمی الشعیبی کا کہنا ہے کہ شفافیت اور میرٹ کسی بھی ریاست کا اہم ترین مسئلہ ہو گا ہے۔ فلسطین میں ‌خلاف میریٹ تعیناتیوں کی چھان بین کے لیے ایک نگراں کمیٹی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی ابھی تک ایسی کوئی کمیٹی قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے الشعیبی نے کہا کہ ہیومن ریسورس منٹ ڈیپارٹمنٹ معمولی درجے کے وظائف کی مانیٹرنگ کرتا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہونے والی تقرریوں پر میرٹ کا خیال کیا جاتا ہے مگر اعلیٰ عہدوں، سفارت کاروں، ججوں، پراسیکیوش اور وزارتوں میں تعینیاتیوں کے لیے میرٹ کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...