جمعرات , 15 نومبر 2018

برصغیر کا خاص جغرافیائی ـ سیاسی محل وقوع اور علاقے پر اس کے گہرے اثرات

(بقلم: ڈاکٹر محسن محمدی)
برصغیر کے اندرونی عدم استحکام اور اس کے جیوپولیٹیکل ممالک کے آپسی روابط کو مخدوش کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر ہی کافی ہے۔ اس لیے کہ برصغیر کی سلامتی دو پڑوسی ملک ہند و پاک کے باہمی روابط سے وابستہ ہے۔ بھارت اور پاکستان اس خطے کے دو اہم ممالک ہیں جو برصغیر کی تقدیر کو بدلنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔۔۔

عام طور پر برصغیر کا علاقہ خاص قسم کے جغرافیائی ـ سیاسی (Geopolitical) پہلؤوں اور سمتوں کا حامل ہے۔ جغرافیائی علاقوں کا تزویری وزن (Strategic Weight)، ثقافتی تنازعات کے جغرافیے، علاقائی امن و استحکام، علاقائی تنظیمیں، محفوظ / غیر محفوظ مقامات، وہ عظیم جغرافیائی اور جیوپولیٹیکل عوامل ہیں جو حتی کہ برصغیر میں واقع ہر ملک کے قومی سلامتی کے ڈھانچے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر علاقائی ماحول میں ملک کے محل وقوع اور پوزیشن کی شناخت نیز تناؤ کی تقلیل اور خطرات کی تخفیف کو مد نظر رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

برصغیر کے اہم ترین جیوپولیٹیکل موارد کو درج ذیل نکات میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:

1۔ برصغیر میں واقع سات ممالک جغرافیائی محل وقوع، سیاسی رجحانات نیز تاریخی اور معاشی معاملات کے اعتبار سے آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ برصغیر کا خطہ ایک ایسا اہم جغرافیائی ـ سیاسی خطہ ہے جس کے امن و استحکام یا بدامنی اور عدم استحکام سے پورا علاقہ متاثر ہوتا ہے۔ برصغیر کے روشن مستقبل کی امید اس خطے کے اندرونی حالات سے وابستہ ہے اندرونی صورتحال اگر امن و سکون کی راہ پر گامزن ہو گی تو پورے علاقے پر اس کے مثبت اثرات رونما ہوں گے لیکن اگر خلفشار اور باہمی کشمکش کا سلسلہ جاری رہے گا پورے علاقے کا امن و سکون متاثر ہو گا۔
2۔ برصغیر کے اندرونی عدم استحکام اور اس کے جیوپولیٹیکل ممالک کے آپسی روابط کو مخدوش کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر ہی کافی ہے۔ اس لیے کہ برصغیر کی سلامتی دو پڑوسی ملک ہند و پاک کے باہمی روابط سے وابستہ ہے۔ بھارت اور پاکستان اس خطے کے دو اہم ممالک ہیں جو برصغیر کی تقدیر کو بدلنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اس لیے جو بھی دوسرا ملک ان دونوں سے اپنے روابط قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے سب سے پہلے دونوں کے کردار پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔

3۔ جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (SAARC) سارک جس نے برصغیر کے سات ممالک کو ایک غیر موثر تنظیم میں جمع کیا ہے تاہم اس کے علاوہ علاقائی باہمی تعاون کے استحکام کے لیے کوئی دوسری تنظیم تشکیل نہیں پائی ہے۔ علاقائی ممالک کے درمیان دوطرفہ معاہدوں نے بھی ہند و پاک کے نظریاتی اختلافات کو سلجھانے اور انہیں ایک دوسرے سے قریب کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس کے باوجود امید کی جاتی ہے کہ آئندہ سالوں میں دونوں ممالک کی حکومتیں جو اندرونی طور پر ناقابل انکار خطرات سے دوچار ہیں اپنے روابط میں بہتری لا کر علاقائی استحکام کو بحال کرنے کی کوشش کریں گی۔ یہ خطرات درج ذیل موارد میں بیان کئے جا سکتے ہیں:

زمین، پانی اور معدنی وسائل، توانائی، نسلی علیحدگی پسندی، تیزی سے آبادی کی ترقی، مالی گھوٹالے اور وسیع پیمانے پر رشوت خواری، دھوکہ بازی، سماجی اور سیاسی خدمات فراہم کرنے میں بے حد کوتاہی اور سیاسی و سماجی پارٹیوں اور تنظیموں میں اختلافات، ماحولیاتی تباہی، سیاسی ظلم و ستم اور طاقت کی منتقلی کے لئے عملی طریقہ کار کی کمی.

4۔ برصغیر ہائیڈروکاربن کی پیداوار اور اس کے استعمال کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی مارکٹ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے دو اہم ذرائع؛ آبنائے ہرمز جو ہائیڈروکاربن کی پیداوار کا مرکز اور آبنائے مالاکا جو اس کو دنیا کی سب سے بڑی مارکٹ میں منتقل کرنے کا دروازہ ہے سے جڑا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے یہ خطہ عالمی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کے حصول کا مرکز بنا ہوا ہے۔ برصغیر مذکورہ دو ذرائع سے متصل ہونے کے عنوان سے دنیا کی سب سے بڑی مارکٹ ہے جہاں توانائی کی پیداوار اور اس کا استعمال دونوں عروج پر ہیں۔ لہذا امریکہ، یورپی یونین اور چین کی لالچ بھری نظریں برصغیر پر جمی ہوئی ہیں اور وہ مختلف ذرائع اور بہانوں سے اس خطے کا سرمایہ لوٹ کر اپنی تیجوریاں بھرنے میں مصروف عمل ہیں۔ بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

مصائب کی یلغار

(سکندر خان بلوچ) کہتے ہیں جب مصیبت آتی ہے تو اکیلے نہیں آتی بلکہ ہجوم ...