پیر , 19 نومبر 2018

کیا آل سعود 9 ستمبر کے واقعہ کی طرح خاشقجی کے معاملے سے بچ پائے گی؟

عبدالباری عطوان (ترجمہ تسنیم خیالی)

خاشقجی کے قتل کے معاملے کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان میں بہت سی خامیاں اور غیر منطقی باتیں موجود ہیں جو دراصل وقت حاصل کرنے کی ناکام کوششوں کی عکاس ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس بیان کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور اس بیان کے بعد خاشقجی کے معاملے پر بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ اور زور پکڑ رہا ہے۔

یہ کہنا کہ خاشقجی سعودی قونصل خانے میں ہونے والی ہاتھا پائی کے دوران مارے گئے انتہائی مضحکہ خیز اور کمزور بات ہے، خاشقجی وہاں ہاتھا پائی کے لئے نہیں گئے تھے بلکہ ایک قانونی دستاویز لینے گئے تھے جو کہ بظاہر تیار تھی اور اسے وصول کرنے میں مختصر وقت ہی درکار تھا، دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ آخر ہاتھا پائی کرنے والی مخالف ٹیم 15 افراد پر کیوں مشتمل تھی؟

چلو مان لیا جائے کہ سعودی بیان سچ پر مبنی ہے (اور ایسا ہے نہیں) البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کیا جب سعودی قونصل خانے میں خاشقجی پر حملہ ہوا تو وہ اپنے دفاع کی پوزیشن تھے؟ اس معاملے میں 18 افراد کی گرفتاری اور دیگر 15 افراد کی عہدوں سے برطرفی اس قتل کے واقع میں اصل ذمہ دار کو بچانے کیلئے قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش ہے۔ یہ بات ناممکن ہے کہ برطرف ہونے والے سعودی انٹیلی جنس چیف کے نائب جنرل احمد عیسری اس قتل کی کارروائی کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے احکامات کے بغیر بروئے کار لائے اس حقیقت کا انکشاف بھی عہدے سے فارغ کیے جانے والے بن سلمان کے مشیر خاص نے اپنی ’’الوداعی ‘‘ ٹویٹ میں یہ لکھ کر کہا وہ (عسیری) بن سلمان کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔

سعودی حکمران خاندان کو اس وقت ایک ایسے چیلنج کا سامنا ہے جو اس کے وجود اور حکمرانی کے لئے خطرہ ہے، یہ معاملہ یمن جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس وقت حکمران خاندان میں اختلافات عروج پر ہیں، خاندان پر عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، بن سلمان کی مقبولیت اندروں و بیرون ملک کم ہوتی جا رہی ہے، خاندانی اجلاس منعقد نہیں ہو رہا، بڑے شہزادے بے دخل کر دیے گئے ہیں، شاہی خاندان کے بڑے چھوٹے افراد فرمانروا سے ملاقات نہیں کر پا رہے اور خاندان میں سے جو کوئی بھی بادشاہ سے ملاقات اور بہتری کی گفت و شنید کرنا چاہتا ہے ان میں سے بھی خوش قسمت وہ سمجھے جا رہے ہیں جنہیں ملاقات کے لئے کچھ روز انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب اسے ملاقات کا موقعہ ملتا ہے تو وہ انتہائی پیچیدہ سکیورٹی مراحل سے گزرتا ہے۔

میرے خیال میں سعودی عرب کا خاشقجی کے معاملے میں اعتراف سے یہ معاملہ ختم نہیں ہو گا کیونکہ اس اعتراف سے اور بھی کئی معاملات جنم لیتے ہیں جیسا کہ سعودی حکام کا یہ کہنا کہ خاشقجی قونصل خانے میں داخل ہونے کے 20 منٹ بعد وہاں سے چلے گئے تھے اور یہ کہ وہ کونسل خانے میں قتل نہیں ہوئے۔

خاشقجی کی گمشدگی کے 3 روز بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی نیوز ایجنسی ’’بلومبرگ‘‘ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں حقائق کو چھپاتے ہوئے جھوٹ بولا تھا کہ خاشقجی قونصل خانے سے چلے گئے تھے، بن سلمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا خاشقجی وہاں سے زندہ حالت میں گئے یا پھر مردہ اپنے پورے جسم کے ساتھ گئے تھے یا پھر ٹکڑوں کی حالت میں۔

ذرائع ابلاغ پر یہ معاملہ ختم نہیں ہو گا کیونکہ ترک حکام اسے ختم نہیں ہونے دے رہے اور اس لیے بھی کہ سعودی حکومت اب بھی بہت سے حقائق چھپا رہی ہے اور سعودی عرب کے اعترافات غیر آسان قسطوں میں آ رہے ہیں۔

اب تک کی حتمی بات یہ ہے کہ خاشقجی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں خواہ یہ موت گلا گھونٹنے سے ہوئی ہو یا پھر ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مگر اب سبھی کو اس معاملے میں سب سے اہم ثبوت یعنی کہ خاشقجی کی لاش کا انتظار ہے کہ کس حالت میں ہو گی اور اسے کیسے چھپایا گیا۔

سعودی بڑے بڑے ہتھیاروں کی خریداری کی ڈیلز کے ذریعے 9/11 حملوں کے واقع سے بچ نکلا البتہ خاشقجی کے معاملے سے اس کے لئے بچنا مشکل ہو گیا ہے کیوں کہ امریکہ سمیت پوری دنیا اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور یہ معاملہ امریکہ میں نومبر کو ہونے والے انتخابات میں بھی اہم حیثیت رکھتا ہے اس معاملے نے دنیا کے تمام میڈیا کو ایک پیج پر لاکھڑا کر دیا ہے۔

ٹرمپ خاشقجی کے معاملے کو لے کر سعودی عرب کو زیادہ سے زیادہ لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، سعودی عرب کے بیان پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’وہ معقول ہے اور پہلا قدم ہے‘‘ پہلے قدم کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کو اور بھی قدم اٹھانے ہوں گے، جس پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ دوسرا قدم کیا ہو سکتا ہے؟ ولی عہد کی تبدیلی؟ اگر ہاں تو وہ کون ہو گا؟

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...